03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جائیداد کا ہبہ مکمل ہونے کے بعد والد کو خریدوفروخت کا اختیار دینا
84690ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

اسد کی ایک بیوی اور اولاد میں صرف بیٹیاں ہیں، اگر وہ اپنی زندگی میں اپنے اثاثے اپنی بیٹیوں میں تقسیم کردے، انکو مالک بھی بنادے اور کاغذات بھی ان کے نام پر بنوادے، اس کے بعد وہ تینوں بچیاں اپنے والد کو اپنے اثاثوں کا نگران بنادیں کہ وہ بطور وکیل ان تمام اثاثوں کی نگرانی کرے اور ضرورت پڑنے پر بچیوں کی طرف سے انکی خریدوفروخت کا اختیار(Power of attorney) بھی اس کو حاصل ہو۔کیا شریعت اس طرح کے معاملے کی اجازت دیتی ہے؟ نیز اسکے علاوہ دوسرا جائز طریقہ کیا ہوسکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زندگی میں اگر آدمی اپنی اولاد کو کوئی جائیداد دینا چاہیں تو  شرعی اعتبار سے یہ ہبہ (ہدیہ) کہلاتا ہے، اس میں عدل وانصاف کے تقاضے  پورے کرنا ضروری ہے،  لہذا زندگی میں اپنی مکمل جائیداد بغیر کسی شرعی وجہ کے بعض ورثاء دے کر جانا درست نہیں، کیونکہ اس میں دیگر ورثاء کو محروم کرنا لازم آتا ہے، جس کی شریعت اجازت نہیں دیتی۔ لہذا مذکورہ صورت میں اگر آپ کے بہن بھائی موجود ہیں تو اپنی مکمل جائیداد صرف بیٹیوں کو نہ دی جائے، بلکہ کچھ جائیداد دیگر رشتہ داروں (جو آپ کی وفات کے بعد شرعا آپ کے وارث ہوں، جیسے بیوی اور بہن بھائی وغیرہ) کے لیے چھوڑ کر بقیہ بیٹیوں کو دے سکتے ہیں، پھر بیٹیوں کو ہبہ کرنے اور مالکانہ قبضہ دینے کے بعد بیٹیاں اس جائیداد کی مالک بن جائیں گی اور آپ کی ملکیت سے وہ جائیداد نکل جائے گی۔اس کے بعد بغیر کسی دباؤ اور زبردستی کے اگر بیٹیاں اپنی مرضی سے آپ کو اپنی جائیداد کا نگران بناتی ہیں تو یہ جائز ہے، جہاں تک جائیداد کو بیچنے کا تعلق ہے تو اصولی اعتبار سے آپ کو بچیوں کی جائیداد ان کی رضامندی کے بغیر فروخت کرنے کا حق حاصل نہیں ہے، البتہ اگر کوئی واقعی ضرورت پیش آ جائے اور کوئی بیٹی اپنی مرضی سے آپ کو اپنی جائیداد فروخت کرنے کا وکیل بنا دے تو اس کی اجازت ہے، بشرطیکہ وہ بیٹی عاقلہ اور بالغہ ہو، ورنہ اس کی اجازت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اور آپ کو اس کی جائیداد بیچنے کا اختیار نہیں ہو گا۔

حوالہ جات

لسان الحكام (ص: 371) لابن الشِّحْنَةالثقفي الحلبي ،  البابي الحلبي – القاهرة:

نوع الأفضل في هبة الابن والبنت التثليث كالميراث وعند أبي يوسف رحمه الله تعالى التنصيف وهو المختار ولو وهب جميع ماله من ابنه جاز وهو آثم نص عليه محمد رحمه الله تعالى ولو خص بعض أولاده لزيادة رشده فلا بأس به وإن كانوا سواء في الرشد لا يفعله.

حاشية السندي على سنن ابن ماجه (2/ 43):

"وظاهر الحديث أن للأب أن يفعل في مال ابنه ما شاء، كيف وقد جعل نفس الابن بمنزلة العبد مبالغةً، لكن الفقهاء جوّزوا ذلك للضرورة. وفي الخطابي يشبه أن يكون ذلك في النفقة عليه بأن يكون معذورًا يحتاج إليه للنفقة كثيرًا، وإلّا يسعه فضل المال، والصرف من رأس المال يجتاح أصله ويأتي عليه فلم يعذره النبي صلى الله عليه وسلم ولم يرخص له في ترك النفقة، وقال له: أنت ومالك لوالدك، على معنى أنه إذا احتاج إلى مالك أخذ منه قدر الحاجة، كما يأخذ من مال نفسه، فأما إذا أردنا به إباحة ماله حتى يجتاح ويأتي عليه لا على هذا الوجه، فلاأعلم أحدًا ذهب إليه من الفقهاء".

نيل الأوطار (6/ 17) محمد بن علي الشوكانيو الناشر: دار الحديث، مصر:

قوله: (أنت ومالك لأبيك) قال ابن رسلان: اللام للإباحة لا للتمليك، فإن مال الولد له وزكاته عليه وهو موروث عنه.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 44) دار الفكر - سوريَّة – دمشق:

لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

25/صفر المظفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب