| 84691 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ جائیداد ہبہ کرنے کے بعد تین سال تک واپس لینے کا بھی قانونی طور پر اختیار ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ کیا اولاد کو ہبہ کرنے کے بعد واپس لیا جا سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت کا اصول یہ ہے کہ اولاد کو کوئی چیز ہدیہ کرنے کے بعد اس کی رضامندی کے بغیر واپس نہیں لی جا سکتی، لہذا تین سال کے عرصہ میں اولاد کو ہبہ کی گئی چیز واپس لینے کا قانون شرعی اعتبار سے غیر معتبر ہے، شرعا اس پر عمل کرنا جائز نہیں۔
حوالہ جات
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 360) دار إحياء التراث العربي:
في خزانة الفقه اثني عشر ينقطع به حق الرجوع إذا كان الموهوب له ذا رحم محرم منه أو كانت زوجته أو كان زوجها أو كان أجنبيا وعوضها، وقال: خذ هذا عوض هبتك أو بدلا عنها، أو جزاء عنها أو مكافأة عنها أو في مقابلها، أو مات أحدهما أو خرج عن ملكه أو زاد فيها زيادة متصلة بأن كان عبدا صغيرا فكبر، أو كان مهزولا فسمن أو كانت أرضا فبنى فيها أو كان ثوبا فخاطه أو صنعه صنعا يزيد أو غيره بأن كان حنطة فطحنها أو دقيقا فخبزه أو سويقا فلته بسمن، أو كان لبنا فاتخذه جبنا أو سمنا أو أقطا أو كانت جارية فعلمها القرآن أو الكتابة أو المشاطة.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
25/صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


