| 84736 | تقسیم جائیداد کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
سوال: دو بھائی اور دوبہنیں تھیں، ان کے والد کے انتقال کے بعد ان دونوں بھائیوں نے اپنے والد کی میراث میں جو زرعی زمین تھی، اس کو تقسیم کیا اور ہر ایک بھائی نے ایک ایک بہن کو اس کا حصہ نکال کر دےدیا، تقریباً 30 سال کے بعد ان میں سے ایک بھائی نے اعتراض کیاہےکہ زمین تقسیم نہیں ہوئی۔ دوسرا بھائی انکارکررہاہےکہ ہماری زمین پہلے سے تقسیم شدہ ہے۔ اب دوبارہ تقسیم کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اس کو جو حصہ ملا تھا، اس پر اس نے کافی خرچہ کیاہے تو کیا یہ اب دوبارہ تقسیم ہوگی یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں اگر سابق تقسیم وراثت کےحصوں کےمطابق باہمی رضامندی سے کی گئی تھی اورہرایک وارث(دونوں بھائی اوردونوں بہنوں)کوشرعی حصہ مل گیاتھاتو اس صورت میں سابقہ تقسیم شرعامعتبرہوگی،ایسی صورت میں دوبارہ تقسیم کامطالبہ شرعادرست نہ ہوگا۔
بظاہرعرصہ تیس سال کےدوران اگردوسرےبھائی نےکوئی اعتراض نہیں کیاہے،اسی طرح بہنوں کوبھی ان کاحصہ دےدیاگیاتھا،اوران کی طرف سےبھی کوئی اعتراض نہیں کیا گیاتھاتویہ اس بات کی دلیل ہےکہ سابق تقسیم باہمی رضامندی سےہوئی تھی،لہذااس صورت میں سابق تقسیم شرعامعتبرہے،دوبارہ تقسیم کامطالبہ درست نہیں ،دوسرےبھائی کو طریقےسےمسئلہ سمجھانا چاہیے۔
البتہ اگردوسرابھائی تقسیم کےغیرمنصفانہ ہونےیاباہمی رضامندی سےنہ ہونےکادعوی کرےاوراپنےدعوی پرگواہ بھی پیش کردےتواس صورت میں جائیدادکی دوبارہ تقسیم ضروری ہوگی۔
حوالہ جات
"رد المحتار " 26 /,40 36:
( ولو اقتسما داراوأصاب كلا طائفة فادعى أحدهما بيتا في يد الآخر أنه من نصيبه وأنكر الآخر فعليه البينة )لأنه مدع۔۔۔(وتسمع دعواه ذلك )أي ماذكرمن الغبن الفاحش(إن لم يقر بالاستيفاء ، وإن أقر به لا) تسمع دعوى الغلط والغبن للتناقض ، إلا إذا ادعى الغصب فتسمع دعواه ، وتمامه في الخانية۔
"المبسوط " 17 / 473:
باب دعوى الغلط في القسمة:(قال:رحمه الله وإذااقتسم القوم أرضاميراثابينهم أوشراءوتقابضوا ثم ادعى أحدهم غلطا في القسمة ؛ فإنه لا يشتغل بإعادة القسمة بمجرد دعواه ) ؛لأن القسمة بعد تمامها عقد لازم فمدعي الغلط يدعي لنفسه حق الفسخ بعد ما ظهر سبب لزوم العقد وقوله في ذلك غير مقبول كالمشتري إذا ادعى لنفسه خيارا بسبب العيب أو الشرط ولكن إن أقام البينة على ذلك فقد أثبت دعواه بالحجة فتعاد القسمة بينهم حتى يستوفي كل ذي حق حقه ؛ لأن المعتبر في القسمة المعادلة وقد ثبت بالحجة أن المعادلة بينهم لم توجد۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
25/صفر 1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


