| 84723 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہماری ایک کزن ہے،ان کی ایک رشتہ دارکی شادی ہوئی ،شادی کے بعد معلوم ہوا کہ لڑکا ہیروئن وغیرہ کا نشہ کرتاہے ،پھر یہ لڑکی بھاگ کر والدین کے گھر آگئی اورکچھ عرصے کے بعد اس کے شوہرکو بھی پکڑکرلایاگیا اورایک فیملی سطح کا جرگہ ہوا جس میں لڑکے کو اس بات کا پابند کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ ایک سال میں اپنی حالت ٹھیک کرلے، اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو پھر اس کی بیوی کوطلاق ہوجائے گی ،یہ شرط اسٹام پیپر پرلکھی گئی تھی ،لڑکے نے اس شرط کو ماننے سے انکارکردیا اوراس پر دستخط نہیں کیا،پھر اس کے سامنےدوسری شرط رکھی گئی کہ اگر وہ گھر سے بھا گ گیا اورواپس نہ آیا تو چونکہ اس کی زندگی اورموت کاکوئی بھروسہ نہیں ہے تو ہماری بیٹی کو طلاق ہوگی اوراس کی طلاق ہم اُس وقت لکھ لیں گے،لڑکے سے ایک سادے کاغذ پر دستخظ کرواگیااور انگوٹھالگوایاگیا کہ اس کے بھاگنے کے بعد ہماری لڑکی کوطلاق ہوجائے گی ،وہ لڑکا بھاگ گیاہے، اب گھر والے پوچھ رہے ہیں کہ اگر ہم اس سادے کاغذ پر جس پر لڑکے سے انگوٹھالگوایاگیاتھا اوردستخظ لیاگیاتھا طلاق نامہ لکھ دیں تو کیا طلا ق ہوجائے گی یا نہیں؟
سائل نے زبانی فون پر بتایا کہ لڑکے نے زبانی طلاق نہیں دی،اورسادہ کاغذسے مراد یہ ہے کہ وہ تھا تو اسٹام پیپر کا کاغذ،لیکن اس پرلکھا ہواکچھ نہیں تھا،صرف انگوٹھااوردستخط شوہر سےاس پرلیےگئے تھے اورزبانی جو شرط رکھی گئی تھی وہ اس طرح تھی کہ "اگروہ بھاگ گیا اورواپس نہیں آیا توہم ان کی طرف سے اس پر طلاق لکھ لیں گے"
نیز سائل نے بتایاکہ مذکورشوہرنےاپنی بیوی کو کبھی نفقہ نہیں دیا، جتنے عرصہ بیوی ان کے ہاں رہی اِدھراُدھرسے کھاکرگزارہ کیا،اوراب بھی غائب ہے اوربیوی کو پوچھتا نہیں،نیز وہ بیوی کو مارتا بھی تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اصل سوال اورزبانی وضاحت کے بعدآپ کے سوال کا جواب یہ ہےکہ مذکورہ پیپر پر اگرلڑکی والے طلاق لکھ بھی لیں تو تب بھی اس سے طلاق نہیں ہوگی،کیونکہ ایک تو ویسے بھی سادہ کاغذ پرصرف انگوٹھا اوردستخط لیاگیاتھااوراس پر لکھاکچھ نہیں گیاتھا جس سے طلاق نہیں ہوتی،نیزاگرزبانی توکیل تھی بھی تو بھی طلاق نہیں ہوگی،اس لیے کہ شرط یہ رکھی گئی تھی کہ"اگرلڑکا بھاگ گیا اورواپس نہیں آیا"توموت تک اس کے واپس آنے کا احتمال موجود ہے،لہذا طلاق کی شرط زندگی کی آخری گھڑی سے پہلےمتحقق ہی نہیں ہوگی،لہذا بہرحال مذکورہ پیپرپرطلاق لکھنے سے طلاق نہ ہوگی۔
مسئولہ صورت میں اگرنبھاؤنہیں ہوسکتا اورلڑکی خلاصی ہی چاہتی ہےتو چونکہ لڑکا ہیرونچی بھی ہے،بیوی کونفقہ بھی نہیں دیتا اورمارتابھی ہےتو فسخِ نکاح کے قوی اسباب موجودہیں،لہذا لڑکی والےاولاًتولڑکےکو بالعوض یا بلاعوض خلع پرراضی کرنے کی کوشش کریں اوراگر ایسا نہ ہوسکےتوپھر عدمِ ادائیگی نفقہ کی بنیادپرعدالت سے فسخ ِنکاح کی ڈگری حاصل کرلیں،اورچونکہ فسخِ نکاح کی شرعی بنیادموجودہوگی،اس لیے عدالتی ڈگری سے نکاح ختم ہوجائے گااورلڑکی عدت کےبعد آگے رشتہ کرسکے گی۔عدالت سے فسخ ِنکاح کی ڈگری حاصل کرنے کا مختصرطریقہ درجِ ذیل ہے۔
مذکورہ عورت کسی مسلمان حاکم کی عدالت میں دعویٰ دائر کرکے گواہوں(دو مرد یا ایک مرد اور دوعورتوں (یہ گواہ عورت کے اصول یعنی آباؤ اجداد اور فروع یعنی اولاد وغیرہ میں سے نہیں ہونے چاہئیں)) کی گواہی کے ذریعہ سے یہ ثابت کرے کہ اس کا نکاح فلاں شخص سے ہوا تھا اور یہ کہ وہ اتنے عرصے سےاس کا خیال نہیں رکھ رہاہے،مارتاہے اور نفقہ کا انتظام بھی نہیں کرتا ، اس پر عدالت اس کے شوہر کو بلوا کر اسے مجبور کرے گی کہ یا تو وہ نفقہ کا انتظام کرے اور تمام حقوق ِزوجیت اد اکرے ، یا اس کو طلاق دے،اگر اس کا شوہر دونوں میں سے کوئی بات تسلیم کرے تو ٹھیک ہے ، ورنہ عدالت اس کا نکاح اس شوہرسے خود فسخ کردے گی،اس کے بعد عدت گزار کر وہ عورت آزاد ہے،جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے۔
اگرشوہرعدالت میں حاضرنہ ہوتو عدالت اس کو مجلسِ قضاء میں حاضرہونے کا تین مرتبہ نوٹس بھیجے، اگر وہ پھر بھی حاضر نہ ہویا اس کا کوئی علم نہ ہوسکے تو پھرعدالت تحریری یا تقریری گواہوں کی بنیاد پر فسخِ نکاح کا فیصلہ کردے جج کےاس طرح کرنے سے فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو جائے گا،اس کے بعد اِس فیصلہ کی تاریخ سے عورت کی عدت شروع ہو جائے گی، عدت مکمل ہونے پروہ شرعاً دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔
یادرہے کہ آج کل ہماری عدالتوں میں عام طور پر خلع کے فیصلوں میں گواہی طلب نہیں کی جاتی، بلکہ محض عورت کے مطالبہ پر ڈگری جاری کر دی جاتی ہے، ایسی صورتِ حال میں درخواست دہندہ کو چاہیے کہ دعوی پیش کرتے وقت اسٹامپ پیپر پر دو گواہوں کا تحریری بیان بھی پیش کر دے یا جج کے سامنے حاضری کے وقت عدالت کی طرف سے گواہی کے مطالبہ کا انتظار کیے بغیر خود ہی یہ کہہ دےکہ میرے پاس اس دعوی پر یہ گواہ موجود ہیں، ان کا بیان بھی سنا یا قلمبند کرلیا جائے، پھر جج اگر کسی ایک گواہ سے بھی دعوی کی تصدیق کروا لے تو ایک گواہ اور مدعیہ کی قسم یعنی حلفیہ بیان کے مطابق فیصلہ درست ہو جائے گا، کیونکہ مسلمان عدالت کا فیصلہ مذاہبِ اربعہ میں سے کسی بھی مذہب کے مطابق ہو تو وہ شرعاً نافذ ہوتا ہے۔(ملخص از فتاوی عثمانی وحیلۃ ناجزۃوفتاوی جامعة الرشید)
حوالہ جات
وفی الشامیة:
کل کتاب لم یکتبہ بخطہ ولم یملہ بنفسہ لا یقع ما لم یقر أنہ کتابہ۔ (شامي / مطلب في الطلاق بالکتابۃ
۳؍۲۴۶-۲۴۷ دار الفکر بیروت، کذا في الہندیۃ ۱؍۳۷۹ بیروت، الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۴؍۵۳۱ زکریا، فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ۹؍۱۵۰)
وفی فتاوی محمودیہ(18/ 177):
اگر زبان سے نہ طلاق دی نہ زبان سے طلاق کا اقرار کیا ، بلکہ محض ایک سادے کاغذ پر انگوٹھا لگادیا تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی اگر زبان سے اپنی زوجہ کو طلاق دی ہے، یا زبان سے طلاق کااقرار کیا ہے یا محرر سے یوں کہا ہے کہ تو طلاق نامہ تحریر کردے اورمیری طرف سے طلاق لکھ دے تو ان سب صورتوں میں طلاق واقع ہوگئی۔
وفی الفقہ الإسلامي وأدلتہ:
قررالحنفیۃ أن الوکیل بالطلاق مقید بالعمل برأی المؤکل، فإذا تجاوزہ لم ینفذ تصرفہ إلابإجازۃ المؤکل. (الفقہ الإسلامي وأدلتہ، الطلاق، المبحث الرابع: التوکیل فيالطلاق وتفویضہ، مکتبہ ہدی انٹرنیشنل ۷/۳۹۷)
وفی فتح القدير للكمال ابن الهمام (4/ 31):
(ولو قال: أنت طالق إن لم أطلقك لم تطلق حتى يموت) لأن العدم لا يتحقق إلا باليأس عن الحياة وهو الشرط كما في قوله إن لم آت البصرة، وموتها بمنزلة موته هو الصحيح.
وفی البحرالرائق کتاب الطلاق( ج ۳ ص ۲۵۳)
واما سبعہ فالحاجۃ الی الخلاص عند تبائن الا خلا ق و عروض البغضاء المو جبۃ عدم اقامۃ حدود اﷲ الخ ویکون واجبااذا فات الا مساک بالمعروف .
وفي الہدایۃ:
وإن تشاق الزوجان وخافا أن لا یقیما حدود اللہ، فلا بأس بأن تفتدي نفسہا منہ بمال یخلع بہ۔ لقولہ تعالیٰ: فلا جناح علیہما فیما افتدت بہ، فإذا فعل ذٰلک وقع بالخلع تطلیقۃ بائنۃ ولزمہا المال، …وإن طلقہا علی مال، فقبلت وقع الطلاق ولزمہا المال۔ (ہدایۃ، کتاب الطلاق، باب الخلع، اشرفی دیوبند ۲/۴۰۴)
الفواكه الدواني على رسالة ابن أبي زيد القيرواني( ج: ۵ ص: ۲۲۵ ):
ومثل المفقود من علم موضعه وشكت زوجته من عدم النفقة يرسل إليه القاضي : وإما أن تحضر أو ترسل النفقة أو تطلقها ، وإلا طلقها الحاكم ، بل لو كان حاضرا وعدمت النفقة قال خليل : ولها الفسخ إن عجز عن نفقة حاضرة لا ماضية ، ثم بعد الطلاق تعتد عدة طلاق بثلاثة أقراء للحرة وقرأين للأمة فيمن تحيض ، وإلا فثلاثة أشهر للحرة والزوجة الأمة لاستوائهما في الأشهر .
الكافي في فقه أهل المدينة (2/ 909) مكتبة الرياض الحديثة، الرياض:
باب اليمين مع الشاهد: قال مالك وأصحابه يقضي باليمين مع الشاهد في كل البلاد ويحمل الناس عليه ولا يجوز خلاف ما قالوه من ذلك لتواتر الآثار به عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم وعن السلف والخلف من أهل المدينة والعمل المستفيض عندهم بذلك وقد ذكرنا الآثار في كتاب التمهيد ولم يلجأ شيوخنا فيه إلى أصل من أصول أهل المدينة وسلکوا فيه سبيل أهل العراق واستتروا فيه بالليث بن سعد وهم يخالفونه كثيرا إلى رأيهم بغير بينة ولا يرونه حجة والله المستعان.
المجموع شرح المهذب (20/ 257) دار الفكر، بيروت:
وما يثبت بالشاهد والمرأتين يثبت بالشاهد واليمين، لما روى عمرو بن دينار عن أبن عباس رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى بيمين وشاهد، قال عمرو ذلك في الاموال واختلف أصحابنا في الوقف فقال أبو إسحاق وعامة أصحابنا يبنى على القولين فإن قلنا ان الملك للموقوف عليه قضى فيه بالشاهد واليمين لانه نقل ملك فقضى فيه بالشاهد واليمين كالبيع، وان قلنا انه ينتقل إلى الله عز وجل لم يقض فيه بالشاهد واليمين لانه ازالة ملك إلى غير الآدمى فلم يقض فيه بالشاهد واليمين كالعتق.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
25/02/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


