03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح سے پہلے طلاق دینے کا حکم
84710طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

میں غیر شادی شدہ  آدمی ہوں،مختلف قسموں میں حانث ہوکرمیرے اوپر بہت سے کفارات  واجب  ہو چکے ہیں،جنہیں ادا کرنا میری طاقت سے باہر  ہے،البتہ میں نے یہ کہا تھا کہ اگر یہ کفارات نکاح سے پہلے میں نے ادا نہیں کیےتومیری بیوی کو طلاق ہو۔

اب اگر میں مذکورہ شرط (نکاح سے پہلےادائیگی کفارات) کو پورا کیے بغیر نکاح کروں،تو کیا نکاح ہوتے ہی میری  بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی یا نہیں؟ برائےمہربانی  شرعی حکم  بتاتے ہوئے میری رہنمائی فرمائیں کہ میں نکاح کرو ں یا نہ کروں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق واقع ہونے کےلیے عورت کا نکاح میں ہونا ،یا طلاق کی نسبت نکاح کی طرف ہونا ضروری ہے،چونکہ صورتِ مسئولہ میں آپ نے یہ الفاظ ’’اگر میں نے نکاح سےپہلے یہ کفارات ادا نہیں کیےتو میری بیوی کو طلاق ہو‘‘نکاح سے پہلے استعمال کیےہیں اور ان الفاظ میں  نکاح کی طرف نسبت بھی نہیں  پائی جاتی،لہذا   صورتِ مسئولہ میں اگرآپ  نے یہی الفاظ ادا کیےتھےکوئی اور الفاظ نہیں تھےتوآپ کے ان الفاظ سےآپ کی ہونے والی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوگی۔تاہم جلد از جلد کفارات ادا کرنے کی کوشش کریں،ورنہ سخت گناہ گار ہوں گے۔

حوالہ جات

أخرج  الإمام ابن ماجہ رحمہ اللہ تعالیٰ في "سننہ "(660/1)(الحدیث رقم(2049:من حدیث علي بن أبي طالب رضي اللہ عنہ،عن النبي  صلی اللہ علیہ و سلم،قال:"لا طلاق قبل النکاح" .

قال الإمام علاءالدین رحمہ اللہ تعالیٰ:وأما الذی یرجع إلی المرءۃ،فمنهاالملك أو علقۃ من علائقہ،فلا یصح الطلاق إلا في الملك أو في علقۃ من علائق الملك ،و ھي عدۃ الطلاق أو مضافاً  إلی الملك.

(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع:(37/2

قال العلامۃ شمس الأئمۃ السّرخسي رحمہ اللہ: ولو قال لامرأة لا يملكها: أنت طالق يوم أكلمك، أو يوم تدخلين الدار، أو يوم أطؤك  ،فهذا باطل.)المبسوط للسّرخسي(98/6:

قال العلامۃ برھان الدین المرغیناني      رحمہ اللہ تعالیٰ:ولاتصح إضافۃ الطلاق إلا أن یکون الحالف مالکًا أو یضیفہ إلی ملك فإن قال لأجنبیۃ:إن دخلت الدارفأنت طالق،ثم تزوجھا،فدخلت الدارلم تطلق؛لأن الحالف لیس بمالك و لا أضافہ إلی الملك أوسببہ،و لا بد من واحد منھما.(الھدایۃ(385/2:

قال العلامۃ الزیلعي  رحمہ اللہ :قال رحمه اللہ:(إنما يصح في الملك ،كقوله لمنكوحته :إن زرت ،فأنت طالق أو مضافا إليه) أي إلى الملك (كإن نكحتك ،فأنت طالق ،فيقع بعده) أي يقع الطلاق بعد وجود الشرط.

(تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق:(231/2

قال العلامۃ عبدالغني الحنفي رحمہ اللہ تعالیٰ :ولا یصح إضافۃ الطلاق إلّا أن یکون الحالف مالکاً أو یضیفہ إلی ملك،وإن قال لأجنبیۃٍ: إن دخلت الدار فأنت طالق ثم تزوجھا ،فدخلت الدار، لم تطلق.

  (اللباب فی شرح الکتاب:(46/3

قال العلامۃ ابن عابدین  رحمہ اللہ تعالیٰ:قولہ:(ومحلہ المنکوحۃ):أي ولو معتدۃعن طلاق رجعي أو بائن،غیر ثلاث في حرۃ و ثنتین في أمۃ.( ردّالمحتارعلی الدرالمختار:(431/4

 جمیل الرحمٰن  بن محمد ہاشم 

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

23صفرالمظفر1446 ھ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب