03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پراپرٹی کی مشترکہ تقسیم کے معاہدہ سےپہلے ذاتی رقم سے خریدے گئے مکان کا حکم
84766شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

والد صاحب کی زندگی میں ہماری کچھ مشترکہ پراپرٹی خریدی گئی، ہم تین بھائی ہیں، دو بھائی والد صاحب کے ساتھ کام میں تھے، جس میں کاروبار میراتھا، ایک بھائی جاب کرتا تھا، اُس نے اپنی جاب سے ایک مکان خریدا اور اپنے نام لگوایا،پھر ہمارے والدصاحب نے طے کیا  کہ جو پراپرٹی ہم  دونوں بھائیوں نے خریدی ہے وہ تینوں بھائیوں  میں تقسیم ہو گی اور جو مکان ایک بھائی نے جاب کر کے خریدا ہے وہ بھی تینوں میں تقسیم ہوگا۔ چنانچہ ایک تحریرلکھی گئی جس پر تینوں بھائیوں نے دستخط کیے کہ ہم اس تقسیم کے پابند ہوں گے۔ اب والد صاحب کی وفات کے بعد بھائی نے مکان فروخت کر دیا اور ساری رقم خود رکھ لی کیا اس مکان میں باقی دو بھائیوں کا حصہ ہے جو کہ والد صاحب نے طے کیا تھا۔

وضاحت: سائل نے بتایا کہ جاب کرنے والے بھائی کا موقف یہ ہے کہ آپ کی پراپرٹی والد صاحب نے تقسیم کی تھی ، جبکہ یہ گھر میں نے اپنی آمدن سے خریدا تھا، اس لیے یہ میرا ہی ہے۔ سائل نے یہ بھی بتایا کہ والد صاحب کی زندگی میں ہم مشترکہ رہتے تھے، اس بھائی کی فیملی سمیت سب کا کھانا اکٹھا بنتا تھا، پھر یہ لاہور شفٹ ہو گئے تو ان کو یہاں سے راشن بھیجا جاتا تھا۔نیز چونکہ گھر میں سب کچھ مشترکہ تھا، اس لیے والد صاحب نے ایک پراپرٹی تقسیم کے معاہدہ سے پہلے تینوں بھائیوں کے نام کروادی، پھر تقسیم کے معاہدہ کے بعد لاہور والے بھائی کو ہماری دکان کی آمدن سے خریدی گئی پراپرٹی کا راشن کے ساتھ  ایک تہائی کرایہ بھی بھیجا جاتا تھا، البتہ 2020ء میں اس کے مکان بیچنے کے بعد ہم نے کرایہ بھیجنا بند کر دیا تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق والد صاحب نے تقسیم کے معاہدہ سے پہلے آپ کی دکان سے خریدی گئی جو پراپرٹی تینوں بھائیوں کے نام کروا ئی، اصولی اعتبار سےآپ کی رضامندی کے بغیر والد صاحب کو یہ پراپرٹی تینوں بھائیوں کے نام کروانے کا حق نہیں تھا، لیکن اس کے بعد جب والد صاحب نے تینوں بھائیوں کے درمیان پراپرٹی کی تقسیم کا معاہدہ کروایا کہ سب پراپرٹی تینوں بھائیوں کے درمیان مشترکہ تقسیم ہو گی اور اس معاہدے پر تینوں بھائیوں نے  اپنی خوشی سے دستخط کیے اور پھر اس معاہدے کے بعد آٹھ سال تک آپ کی خریدی گئی پراپرٹی  کے کرایہ کا تیسرا حصہ لاہور والے بھائی کو بھیجا جاتا رہا اور وہ اپنی خوشی سے اسےقبول کرتا رہا، تو یہ تینوں بھائیوں کی طرف سے عملی طور پرمکمل پراپرٹی کو مشترکہ قراردینے کی واضح دلیل ہے،  اس کے بعد والد صاحب کی تینوں بھائیوں کے نام کروائی ہوئی پراپرٹی اور لاہور والے بھائی کا مکان سمیت سب پراپرٹی مشترکہ شمار ہو گی، لہذا اس کے بعد بغیر کسی کمی بیشی کے سب پراپرٹی تینوں بھائیوں میں برابر تقسیم ہونی چاہیے تھی، کیونکہ باہمی رضامندی سے اس طرح کا معاہدہ کرنے کے بعد آمدن کی کمی بیشی کا اعتبار نہیں ہوتا، کیونکہ ایسی صورت میں زائد آمدن والا شخص دوسرے کو اپنا زائد حصہ ہبہ کرنے پر راضی ہوتا ہے اور مشاع طور پر اس طرح ہبہ کرنا جائز ہے، لہذا اب لاہور والے بھائی کا اپنی آمدن سے خریدے گئے گھر کو بیچنا اور اس کی رقم خود رکھنا ہرگز جائز نہیں، ایسا کرنے سے وہ سخت گناہگار ہوا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ اس رقم کا ایک تہائی حصہ اپنے پاس رکھے اور دو تہائی رقم آپ لوگوں کو واپس کرے، اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو آپ لوگوں کے پاس دو صورتیں ہیں:

پہلی صورت: پہلی صورت یہ ہے کہ آپ دونوں بھائیوں کے حصہ کی جتنی رقم اس بھائی نے اپنے قبضہ میں لی ہے آپ اتنی رقم آپ کے قبضہ میں موجود مشترکہ پراپرٹی کو بیچ کروصول کر لیں، کیونکہ شرعی اعتبار سے اس نے آپ کی رقم غصب کی ہے اور غصب شدہ رقم کسی بھی جائز طریقہ سے وصول کرنا درست ہے، البتہ اس صورت میں آپ کے ذمہ 2020ء کے بعد مشترکہ پراپرٹی کا وصول شدہ ایک تہائی کرایہ اس کو واپس کرنا لازم ہو گا، کیونکہ اس کرایہ میں ایک تہائی حصہ اس کا تھا۔ 

دوسری صورت: دوسری صورت یہ کہ آپس میں صلح کا معاملہ کرتے ہوئے تینوں بھائی باہمی رضامندی سے مذکورہ معاہدہ منسوخ یعنی کینسل کردیں، اس صورت میں لاہور والے بھائی کی آمدن سے خریداگیا مکان اس کی ملکیت  شمار ہو گا اور آپ کی دکان سے خریدی گئی مکمل پراپرٹی آپ کی ملکیت شمار ہوگی، جس میں وہ پراپرٹی بھی شامل ہو گی، جو والد صاحب نے تقسیم کےمعاہدہ سے پہلے تینوں بھائیوں کے نام کروائی تھی، کیونکہ وہ آپ کی آمدن سے خریدی گئی تھی، والد صاحب کو یہ پراپرٹی تینوں بیٹوں کے نام کروانے کا حق حاصل نہیں تھا۔

 جہاں تک چھوٹے بھائی کا تعلق ہے تو اس کو آپ اجرت مثل کے علاوہ اپنی خوشی سے جو پراپرٹی دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں، نیز یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ اس کو اجرتِ مثل دینے کی بجائے مذکورہ دکان سے خریدی گئی پراپرٹی آپس میں برابر تقسیم کر لیں۔

یہ بھی یاد رہے کہ کسی کے مال پر ناحق قبضہ کرنے پر قرآن وحدیث میں جگہ جگہ سخت وعیدیں آئی ہیں، آخرت کے دردناک عذاب کے علاوہ حرام مال کی نحوست کا اثر دنیا میں بھی انسان کی زندگی اور اس کی اولاد وغیرہ پر پڑتا ہے، جس کی وجہ سے انسان کبھی خطرناک حادثہ یا کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے، اس لیے آپ کے بھائی پرلازم ہےکہ خدا سے ڈرے اور جلد ازجلد مذکورہ بالا دو صورتوں میں سے کسی ایک صورت پر عمل کر کے معاملے کو صاف کرے، نیز اس معاملے میں جو بھائی اپنا تھوڑا سا حصہ بھی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطردوسرے بھائی کو چھوڑےگایا اسے زائد حصہ دے گا اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے بدلے میں بہت بڑا اجر پائے گا۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5/ 125) دار الفكر-بيروت:

وفي حاشية الخير الرملي على الفصولين: وقد سئلت في مبيع استغله المشتري هل تصح الإقالة فيه فأجبت بقولي: نعم وتطيب الغلة له والغلة اسم للزيادة المنفصلة كأجرة الدار وكسب العبد، فلا يخالف ما في الخلاصة من قوله رجل باع آخر كرما فسلمه إليه فأكل نزله يعني ثمرته سنة ثم تقايلا، لا تصح وكذا إذا هلكت الزيادة المتصلة أو المنفصلة أو استهلكها الأجنبي اھ.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 307) دار الفكر-بيروت:

مطلب فيما يقع كثيرا في الفلاحين مما صورته شركة مفاوضة [تنبيه] يقع كثيرا في الفلاحين ونحوهم أن أحدهم يموت فتقوم أولاده على تركته بلا قسمة ويعملون فيها من حرث وزراعة وبيع وشراء واستدانة ونحو ذلك، وتارة يكون كبيرهم هو الذي يتولى مهماتهم ويعملون عنده بأمره وكل ذلك على وجه الإطلاق والتفويض، لكن بلا تصريح بلفظ المفاوضة ولا بيان جميع مقتضياتها مع كون التركة أغلبها أو كلها عروض لا تصح فيها شركة العقد، ولا شك أن هذه ليست شركة مفاوضة، خلافا لما أفتى به في زماننا من لا خبرة له بل هي شركة ملك كما حررته في تنقيح الحامدية.

القرآن الكريم [النساء: 29]:

{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ }

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 94) دار المعرفة،بيروت:

(سئل) فيما إذا كان زيد وعمرو الأخوان شريكين شركة مفاوضة فاشترى زيد وحده بمال الشركة المزبورة دارا وكرما فهل يقع ذلك مشتركا بينهما؟

(الجواب) : نعم حيث كانت الشركة مفاوضة فما اشتراه أحدهما يقع مشتركا إلا طعام أهله وكسوتهم كما في المتون وفي الخيرية من الدعوى ضمن سؤال إذا ادعى الحصة بشركة المفاوضة وأقام بينة أنها من الشركة تقبل ويحكم له بحصته وإن كتب في صك التبايع أنه اشترى لنفسه إذ تقرر أن أحد المتفاوضين لا يملك الشراء لنفسه خاصة في غير طعام أهله وكسوتهم إلخ اهـ.

(سئل) في إخوة خمسة سعيهم وكسبهم واحد وعائلتهم واحدة حصلوا بسعيهم وكسبهم أموالا فهل تكون الأموال المذكورة مشتركة بينهم أخماسا؟

(الجواب) : ما حصله الإخوة الخمسة بسعيهم وكسبهم يكون بينهم أخماسا.

 رد المحتار،کتاب الشرکة4/ 307  ط: سعید:

"[تنبيه] يقع كثيراً في الفلاحين ونحوهم أن أحدهم يموت فتقوم أولاده على تركته بلا قسمة ويعملون فيها من حرث وزراعة وبيع وشراء واستدانة ونحو ذلك، وتارةً يكون كبيرهم هو الذي يتولى مهماتهم ويعملون عنده بأمره وكل ذلك على وجه الإطلاق والتفويض، لكن بلا تصريح بلفظ المفاوضة ولا بيان جميع مقتضياتها مع كون التركة أغلبها أو كلها عروض لا تصح فيها شركة العقد، ولا شك أن هذه ليست شركة مفاوضة، خلافاّ لما أفتى به في زماننا من لا خبرة له بل هي شركة ملك، كما حررته في تنقيح الحامدية.

ثم رأيت التصريح به بعينه في فتاوى الحانوتي، فإذا كان سعيهم واحداً ولم يتميز ما حصله كل واحد منهم بعمله يكون ما جمعوه مشتركاً بينهم بالسوية وإن اختلفوا في العمل والرأي كثرة وصواباً، كما أفتى به في الخيرية".

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

26/صفر المظفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب