03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا ذاتی رقم سے شروع کیے گئے کاروبار میں کام کرنے والے بھائی کا حصہ ہو گا؟
84765شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

والد صاحب کی زندگی میں میں نے اپنا ذاتی کاروبار شروع کیا ۔ دوکان کرائے پر لی اس میں مال ڈالا ۔ والد صاحب سے دوکان بنانے اور مال ڈالنے میں کوئی رقم نہ لی۔ کچھ عرصہ بعد میرا چھوٹا بھائی دوکان پر آگیا  اور والد صاحب بھی دوکان پر کچھ وقت دیتےتھے اور چھوٹا بھائی جب دوکان پر آیا تو طے نہیں کیا تھا کہ وہ کس حیثیت سے دوکان میں شامل ہوا،  دوکان کا سارا ہولڈ میرے پاس تھا۔ جو بھی سیل یا انکم ہوتی  اس کا حساب میرے پاس ہوتا اور گھر کا خرچ وغیرہ بھی دوکان سے چلایا جاتا۔ اس دوکان کی انکم سے جو پراپرٹی خریدی گئی اس پر کس کا حق ہے؟ اس بارے میں راہنمائی فرمائیں۔

وضاحت: سائل نے بتایا کہ والدصاحب کی علیحدہ دوکان تھی، میرے دکان بنانے کے دو تین سا ل بعد وہ بیچ دی گئی تو والد صاحب میری دکان پر بیٹھنے لگے، مگر کچھ طے نہیں کیا تھا اور والد صاحب مجھ سے رقم وغیرہ بھی نہیں لیتے تھے، البتہ گھر میں خرچ اس دکان سے جاتا تھا۔ والد صاحب نے تقریباً چودہ پندرہ سال اور بھائی نے بارہ سال اس دکان میں میرے ساتھ  کام کیا۔والد صاحب زیادہ وقت نہیں دیتے تھے، اپنی مرضی سے آتے تھے، البتہ بھائی نے اس دکان پر زیادہ وقت دیا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق چونکہ آپ نے مذکورہ دکان میں اپنی ذاتی رقم سے کاروبار شروع کیا تھا والد صاحب اور بھائی دو تین سال بعد اس دکان پر بیٹھنا شروع ہوئے ہیں، ان کےآنے کے بعد بھی  دکان کا حساب کتاب سب آپ کے ہی کنٹرول میں تھا، اس لیے اصولی اعتبار سے یہ کاروبار آپ کا شمار ہو گا ۔جہاں تک والد صاحب اور بھائی کا تعلق ہے تو چونکہ والد صاحب اپنی مرضی سے آتے تھے اور کام کرنے کے بھی پابند نہیں تھے، اس لیے ان کا یہ عمل تبرع اور احسان شمار ہو گا،خصوصا جبکہ گھرمیں سب مشترک تھے اور گھر کا خرچ بھی اسی دکان سے چلتا تھا۔باقی چھوٹے بھائی نے چونکہ عرصہ بارہ سال تک آپ کے ساتھ کام کیا ہے اور اتنا عرصہ بغیر معاوضہ کے کوئی شخص کام نہیں کرتا اس لیے اس کو اپنے کام کی اجرتِ مثل ملے گی، اجرت مثل کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کے کاروبار میں اتنا عرصہ کام کرنے پر جو اجرت بازار میں رائج ہو وہ دی جائے گی، البتہ اس دوران اگر یہ بھائی دکان سے خرچہ وغیرہ لیتا رہا ہے تو اس کا حساب کر کے اس کو منہا کیا جائے گا، اس کے علاوہ  اس کاروبار  کی آمدن  اور اس سے خریدی گئی پراپرٹی سب آپ کی ملکیت  شمار ہو گی۔

حوالہ جات

الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 230) دار الكتب العلمية، بيروت:

 استعان برجل في السوق ليبيع متاعه فطلب منه أجرا فالعبرة لعادتهم، وكذا لو أدخل رجلا في حانوته ليعمل له استأجر شيئا لينتفع به خارج المصر فانتفع به في المصر، فإن كان ثوبا وجب الأجر وإن كان دابة لا.

غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر (3/ 125) دار الكتب العلمية:

فالعبرة لعادتهم:  أي لعادة أهل السوق فإن كانوا يعملون بالأجر يجب أجر المثل وإن كانوا يعملون بغير أجر فلا يجب أجره؛ وكذا لو أدخل رجلا في حانوته ليعينه على بعض أعماله كذا في الولوالجية.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 42) دار الفكر-بيروت:

(قوله فالعبرة لعادتهم) أي لعادة أهل السوق، فإن كانوا يعملون بأجر يجب أجر المثل وإلا فلا. (قوله اعتبر عرف البلدة إلخ) فإن كان العرف يشهد للأستاذ يحكم بأجر مثل تعليم ذلك العمل، وإن شهد للمولى فأجر مثل الغلام على الأستاذ درر۔

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (7/ 225) دار الكتاب الإسلامي:

اختلاف الأب وابنه فيما في البيت قال في الخزانة قال أبو يوسف إذا كان الأب في عيال الابن في بيته فالمتاع كله للابن كما لو كان الابن في بيت الأب وعياله.

قرةعين الأخيار لتكملة رد المحتار علي الدر المختار (8/ 89) دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت:

قال أبو يوسف: إذا كان الاب في عيال الابن في بيته فالمتاع كله للابن، كما لو كان الابن في بيت الاب وعياله فمتاع البيت للاب.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

26/صفر المظفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب