03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شراب  ملی ہوئی دوا استعمال کرنا
84777جائز و ناجائزامور کا بیانکھانے پینے کے مسائل

سوال

 سوال:کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان دین متین مسئلہ ذیل میں کہ ایک لڑکے کو جوڑوں کا مرض لاحق ہے، جس کی وجہ سے چلنے پھرنے میں دشواری ہوتی ہے اور تکلیف اور در دبھی رہتا ہے، یہ لڑکا نوجوان ہے، اس مہنگائی کے دور میں والدین اپنے وسعت کے مطابق جو اس کا علاج کروا سکتے تھے کیا، لیکن افاقہ نہیں ہوا ۔

یہ بھی برحق ہے کہ اللہ تعالی نے کوئی بیماری ایسی پیدا نہیں کی جس کی دوانہ ہو یا شفاء نہ ہو سوائے موت کے، لیکن والدین جو کر سکتےتھے کیا اورجہاں جاسکتے تھے، ڈاکٹر یا حکیم سے علاج کروایا ،لیکن فرق نہیں پڑا۔

 اب معاملہ یہ ہوا کہ ایک حکیم سے اس بیماری کا علاج تجویز کروایا تو اس حکیم صاحب نے یہ علاج بتلایا ہے:

ایک کلو دیسی گھی گائے والا ایک کلودیسی مرغے کا گوشت ایک پاؤ شراب کالانمک حسب ذائقہ

ان تمام چیزوں کو ایک مٹی کی ہانڈی میں ایک ہی قسم کی لکڑی پر تین سے چار گھنٹے پکایا جائے اور مکسچر بنالیا جائے،پھر روزانہ مریض دو چائے کے چمچ دودھ کے ساتھ یہ دوا ( مکسچر ) استعمال کرےگا تو اس مریض کو فائدہ ہوگا۔

قرآن وسنت کی روشنی میں پوچھنا یہ ہے کہ آیا اس دوا کا استعمال جائز ہے یا نہیں ؟کیا اسکی  گنجائش کی کوئی صورت بن سکتی ہے ؟کیونکہ علاج تو دنیا میں بہت ہیں اور دنیا میں اس کے اور بھی اسپیشلسٹ، ماہر ڈاکٹر اور حکیم موجود ہیں،لیکن ان ڈاکٹروں  تک پہنچ کر علاج کروانا اور انکی فیس  ادا کرنا  ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شراب کی حرمت قرآن و حدیث سے ثابت ہے ، لہذا اس کو استعمال کرنا حرام و ناجائز ہے، نیز اس کے استعمال پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،اس لیے عام حالات میں بطور دواء اس کا استعمال نا جائز ہے،البتہ شدید ضرورت کےوقت چند شرائط کے ساتھ بطور دوا اس کے استعمال کی گنجائش ہے۔ وہ شرائط درج ذیل ہیں :

1.  مریض نا قابل برداشت تکلیف میں مبتلا ہو یا اس کی جان چلے جانے کا خوف ہو۔

2. کوئی ماہر دیندار ڈاکٹر یہ کہہ دے کہ شراب کے استعمال کے علاوہ کوئی اور طریقہ علاج ممکن نہیں ہے۔

3. شراب کے استعمال سے اس مرض کے صحیح ہونے کا یقین یا ظن غالب ہو۔

4. بقدر ضرورت شراب استعمال کی جائے۔

صورت مسئولہ میں   اگرمرض  کی وجہ سےتکلیف مستقل رہتی ہےتومذکورہ بالاشرائط کےمطابق بقدرضرورت شراب ملی ہوئی دوااستعمال کرنےکی گنجائش ہے،لیکن  متبادل جائزطریقہ علاج کی  کوشش مستقل  کی جائے،جب بھی جائزمتبادل دستیاب ہوجائےتومذکورہ بالاعلاج کو چھوڑ کرمتبادل کواختیارکرناضروری ہوگا،انسان حرام سےبچنےکی ہمت اور کوشش کرتارہےتو اللہ تعالی مزیدمددبھی فرماتےہیں اور ہمت اورتوفیق بھی۔

حوالہ جات

"حاشية رد المحتار "1 / 226:

قوله: (لا للتداوي ولا لغيره) بيان للتعميم في قوله أصلا۔قوله: (عند أبي حنيفة) وأما عند أبي يوسف فإنه وإن وافقه على أنه نجس لحديث استنزهوا من البول إلا أنه أجاز شربه للتداوي، لحديث العرنيين وعند محمد يجوز مطلقا۔

مطلب في التداوي بالمحرم: قوله: (اختلف في التداوي بالمحرم) ففي النهاية عن الذخيرة: يجوز إن علم فيه شفاءولم يعلم دواء آخروفي الخانية في معنى قوله عليه الصلاة والسلام:إن الله لم يجعل شفاءكم فيماحرم عليكم كمارواه البخاري أن مافيه شفاءلابأس به،كما يحل الخمرللعطشان في الضرورة، وكذا اختاره صاحب الهداية في التجنيس فقال: لو عرف فكتب الفاتحة بالدم على جبهته وأنفه جاءللاستشفاء وبالبول أيضا إن علم فيه شفاء لا بأس به، لكن لم ينقل، وهذا لان الحرمة ساقطة عند الاستشفاء كحل الخمر والميتة للعطشان والجائع ۔من البحر۔

وأفاد سيدي عبد الغني أنه لا يظهر الاختلاف في كلامهم لاتفاقهم على الجواز للضرورة ، واشتراط صاحب النهاية العلم لا ينافيه اشتراط من بعده الشفاء ولذا قال والدي في شرح الدرر : إن قوله لا للتداوي محمول على المظنون وإلا فجوازه باليقيني اتفاق كما صرح به في المصفى ۔أقول : وهو ظاهر موافق لما مر في الاستدلال ، لقول الإمام : لكن قد علمت أن قول الأطباء لا يحصل به العلم والظاهر أن التجربة يحصل بها غلبة الظن دون اليقين إلا أن يريدوا بالعلم غلبة الظن وهو شائع في كلامهم تأمل۔

"تكملة فتح الملهم "262/2:

وأما الحنفية فقد إختلفت علماء أقوالهم في المسئلة فالمشهور عن ابي حنيفة رحمه الله أنه لا يجوز التداوى بالمحرم، وعند محمد يجوز شربه للتداوى وغيره ، لأنه طاهر عنده، وعند أبي يوسف يجوزشربه للتداوى عنده لا غير، عملا بحديث العربيين لكن أكثر مشائخ الحنفية أفتوا بجواز التداوي بالحرام إذا أخبر طيب حاذق بأن المريض ليس له دواء آخر ، فقد قال ابن نجيم رحمه الله في البحر الرائق وقد وقع الاختلاف بين مشائخنا في التداوي بالمحرم، ففي النهائية عن الذخيرة " إستشفاء بالحرام يجوز اذا علم أن فيه شفاء ، ولم يعلم أنه دواء آخر " ..... وحاصل ما ذكره أن مشائخ الحنفية أفتوا بقول أبي يوسف رحمه الله في جواز التداوى فيما إذا لم يعلم الطبيب له دواء آخر۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

27/صفر         1446ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب