| 84744 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
غیرقانونی لوڈنگ پرگاڑی کوکسٹم والےبندکرتےہیں تو جتنےدن گاڑی بندرہی سامان کے مالک سے اجرت لیتے ہیں ،شرعااس کی کیاحیثیت ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
گاڑیوں میں قانونا مقررکردہ وزن سے زیادہ لوڈنگ درست طرزعمل نہیں ہے،اس لیے کہ جائز امور میں ملکی قوانین کی پابندی کرنا لازم ہے،اگر گاڑی کاکرایہ سامان پہنچانے کے کل عمل کے بجائے دنوں کے اعتبار سے طے ہوا ہے،نیز اوور لوڈنگ سامان بھیجنے والےکےکہنے پر کی گئ ہوتو پھر اتنے دنوں کا کرایہ وصول کرنا درست ہے،اگر اضافی لوڈ سامان بھیجنے والے کی ہدایت پر نہ ہو بلکہ گاڑی کے مالک یا عملہ کی جانب سے ہوتو ایسی صورت میں ان اضافی دنوں کا کرایہ لینے کا حق نہیں ہے،اور اگر فریقین کی باہمی مشاورت سے اضافی لوڈ ڈالا گیا ہوتو سامان بھیجنے والے پران دنوں کی آدھی اجرت لازم ہوگی۔
حوالہ جات
المعاییر الشرعیة: (المعیار الشرعی، الاجارة: 9/191):
"۶/۱/۵- اذا فاتت المنفعة کلیا او جزئیا بتعدی المستاجر مع بقاء العین فانه یضمن اعادة المنفعة او اصلاحها و لا تسقط الاجرة عن مدة فوات المنفعة."
"۸/۱/۵- العین الموجرة تکون علی ضمان الموجر طیلة مدة الاجارۃ ما لم یقع من المستاجر تعدٍ او تقصیر
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
26/ صفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


