| 84780 | خرید و فروخت کے احکام | شئیرزاور اسٹاک ایکسچینج کے مسائل |
سوال
مجھے ایک کمپنی کے شیئرز مطلوب تھے ،میرے پاس پیسے کچھ کم تھے،پانچ لاکھ کے شیئر زلینے تھے جبکہ میرے پاس صرف ایک لاکھ روپے تھے،میرے بروکر نے مجھے کہا کہ اگر تمہیں پانچ لاکھ کے شیئرز خریدنے ہیں تو خرید لو ،شام میں ادائیگی کے وقت اگر تمہارے پاس پیسے نہ ہوئے تو میں بقیہ چار لاکھ دے دوں گا ،لیکن یومیہ 0.05 فیصد مارجن(سود) لوں گا،ایک مرتبہ یہ معاملہ اس طرح ہوا کہ شام کو میرے پاس پیسوں کا انتظام ہوچکا تھا تو میں نے اپنے پاس سے ادائیگی کی اور اپنے بروکر سے چار لاکھ روپے ادا نہیں کروائے لیکن وعدے کے مطابق مجھے چار لاکھ پر 0.05 فیصد مارجن کمیشن کے علاوہ دینا پڑا،دوسری مرتبہ اسی سے ملتی جلتی صورت پیش آئی لیکن اس وقت مجھے شام میں پیسوں کی ادائیگی کے لیے ضرورت پڑی تو بروکر نے وعدے کے مطابق میری طرف سےپیسے ادا کیے ،اور دو دن بعد میں نے بروکر کے چارلاکھ روپے واپس کیے، مع (0.05 فیصدضرب دو ) کے ،اور اسی طرح سے معاملہ مستقل چلتا رہتا ہے،اب میرے چند سوالات ہیں؟ سوال یہ ہے کہ اسٹاک کی خریداری میں مارجن لے کر خریداری کرنا ،کیا یہ جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مارجن کے طریقےسےشیئرز(حصص ) کی خرید وفروخت کرنا ،درج ذیل خرابیوں کی وجہ سے ناجائز ہے۔
(1) انویسٹر ،بروکرسے سودی قرض کا معاملہ کرتا ہے ،اور سودی قرض کا عقد کرناناجائز ہے۔
(2) بروکر اس شرط پر یہ قرض دیتا ہے کہ شیئرز کی خرید و فروخت اسی کے ذریعے کی جائے گی ، چنانچہ ہر بار ٹریڈنگ کے نتیجہ میں وہ اپنا کمیشن بھی رکھے گا، یعنی طے شدہ سود کے علاوہ عموماً وہ یہ شرط بھی لگاتا ہے کہ شیئرز کی ٹریڈنگ اسی کے ذریعے کی جائے گی،جوکہ قرض پر مشروط منفعت کے تحت داخل ہے۔
(3) بسا اوقات مارجن لیتے ہوئے بروکر کے ساتھ قرض کا معاملہ محض صورتاً (دکھلاوے کے طور پر) ہوتا ہے اس لئے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہےکہ بروکرکے پاس خودوہ رقم موجود نہیں ہوتی جس کی بنیاد پر انویسٹر شیئرز کی خرید و فروخت کرتا ہے،یعنی محض قیمت کے اتار چڑھاؤ کی بنیاد پردن کے اختتام پر سیٹلمنٹ (Settlement) ہو جا تی ہے۔لہٰذامارجن لے کر ٹریڈنگ کرنے سے بہرحال اجتناب لازم ہے۔
حوالہ جات
المبسوط للسرخسي :(12/ 109)
فأما الربا في اللغة: هو الزيادة. يقال: أربى فلان على فلان، أي زاد عليه. ويسمى المكان المرتفع ربوة لزيادة فيه على سائر الأمكنة. وفي الشريعة: الربا: هو الفضل الخالي عن العوض المشروط في البيع؛ لما بينا: أن البيع الحلال مقابلة مال متقوم بمال متقوم فالفضل الخالي عن العوض إذا دخل في البيع كان ضد ما يقتضيه البيع فكان حراما شرعا.
[المعیار الشرعی رقم(۲۱)،الأوراق المالیۃ (الأسہم والسندات)]
۳/۵۔لا یجوز شراء الأسہم بقرض ربوی من السمسار أو غیرہ(بیع الھامش Margin)کما لایجوز رھن السہم لذٰلک القرض.وینظر المعیار الشرعی رقم(۱۲) بشان الشرکۃ (المشارکۃ)والشرکات الحدیثۃ البند۴/۱/۲/۶.
[المعیار الشرعی رقم(۱۲)،الشرکۃ (المشارکۃ)والشرکات الحدیثۃ]
لایجوز شراء الأسہم بقرض ربوی من السمسار أو غیرہ لقاء رھن السہم.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۲۶.صفر.۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


