03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
10696181روپےکی ورثہ میں تقسیم
84773میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میری والدہ(نورجہاں بیگم)کامکان ہے،جن کاانتقال2006میں ہوگیاتھا،میرے والد(لیاقت اللہ خان) کاانتقال1981میں ہوا،ہم دوبھائی اورپانچ بہنیں ہیں،جن میں سے ایک بھائی اوردوبہنوں کاانتقال ہوگیاہے،اس کی مزیدتفصیل درج ذیل ہے:

1. میرے بڑے بھائی ظفرسعیدکاانتقال2013 میں ہوا،اس کے ورثہ میں بیوہ،بیٹااوردوبیٹیاں ہیں

2.بڑی بہن ناہیدستارکاانتقال2014میں ہوا،اس کے ورثہ میں شوہر،بیٹااورایک بیٹی ہیں۔

3.میری چھوٹی بہن جس کاانتقال2014 میں ہوا،اس کی کوئی اولاد نہیں،صرف شوہرہے اورانہوں نے دوسری شادی کرلی ہے،اس کاشوہراپناحصہ لینےسے منع کررہاہے۔

4.باقی نازشاہد،تسنیم یونس،بدرسعید اورنوشین خورشیدحیات ہیں۔

مکان کی موجودہ قیمت ایک کروڑ چھ لاکھ چھیانوے ہزارایک سواکیاسی روپے ہے،اس مکان کی تقسیم کیسے ہوگی؟

مرحوم ظفرسعید اورمرحومہ ناہیدستار کے ترکہ کی تقسیم بھی مطلوب ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والدہ کے انتقال کے وقت مرحومہ کے  سب بیٹے اوربیٹیاں(دوبیٹے اورپانچ بیٹیاں) زندہ تھے،اس لئے اس مکان میں سب کاشرعی حصہ ہے،جس بیٹے اوردوبیٹیوں کاانتقال ہوچکاہے ان کاحصہ ان کے ترکہ میں شامل کرکے ان کے ورثہ میں تقسیم ہوگا۔

ترکہ تقسیم کرنے کاطریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے دیکھیں اگر  مرحومہ کے ذمہ کسی کےقرض کی ادائیگی باقی ہوتواس کواداکریں، اس کے بعددیکھیں اگرمرحومہ نے کسی غیروارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال میں سے ایک تہائی کی حدتک اس پرعمل کریں، اگرمرحومہ کے ذمہ نہ توکسی کاقرض ہے اورنہ ہی وصیت کی ہے تواس صورت میں یہ ساری نقدی ورثہ میں تقسیم ہوگی،حصوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

ورثہ کی تفصیل

عددی حصہ

10696181ترکہ

مجموعہ

بیٹا

2/9

2376929

2376929

بیٹا

2/9

2376929

4753858

بیٹی

1/9

1188464.5

5942322.5

بیٹی

1/9

1188464.5

7130787

بیٹی

1/9

1188464.5

8319251.5

بیٹی

1/9

1188464.5

9507716

بیٹی

1/9

1188464.5

10696181

      

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

نوٹ:مرحوم بیٹے(ظفر)کے حصہ میں آنے والی رقم(2376929) کی تقسیم درج ذیل ہے:

سب سے پہلے دیکھیں اگر  مرحوم(ظفر) کے ذمہ کسی کےقرض کی ادائیگی باقی ہوتواس کواداکریں، اس کے بعددیکھیں اگرمرحوم نے کسی غیروارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال میں سے ایک تہائی کی حدتک اس پرعمل کریں، اگرمرحوم کے ذمہ نہ توکسی کاقرض ہے اورنہ ہی وصیت کی ہے اورترکہ میں صرف یہی رقم ہے تواس  رقم کی تقسیم اورحصوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

ورثہ کی تفصیل

عددی حصہ

2376929ترکہ

مجموعہ

بیوہ

4/32

297116.125

297116.125

بیٹا

14/32

1039906.437

1337022

بیٹی

7/32

519953.218

1856975.78

بیٹی

7/32

519953.218

2376929

 

 

 

 

 

 

 

 

مرحومہ ناہید کے حصہ میں  آنے والی رقم1188464.5 کی تقسیم درج ذیل ہے:

مرحومہ ناہیدکےذمہ اگرکسی کاقرض ہے تواس کواداکریں، اس کے بعددیکھیں اگرمرحومہ نے کسی غیروارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال میں سے ایک تہائی کی حدتک اس پرعمل کریں، اگرمرحومہ کے ذمہ نہ توکسی کاقرض ہے اورنہ ہی وصیت کی ہے اورترکہ میں صرف یہی رقم ہے تواس  رقم کی تقسیم اورحصوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

ورثہ کی تفصیل

عددی حصہ

1188464ترکہ

مجموعہ

شوہر

1/4

297116.25

297116.25

بیٹا

2/4

594232.5

891348.75

بیٹی

1/4

297116.25

1188465

 

حوالہ جات

۔۔۔

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

     ۲۷/صفر۱۴۴۶ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب