| 84769 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرا نام محمد امجد ہے ،میں احسن آباد اسکیم 33کراچی سیکٹر 4 کارہائش ہوں،ہمارا ایک آبائی گھر ضلع مظفر گڑھ پنجاب میں ہے جو کہ میری والدہ محترمہ کے نام ہے . چھ سال پہلے تمام گھر والوں نے مل کر اس گھر کی مالکیت 52 (باون) لا کھ روپے فائنل کی تھی اور اس سے تھوڑا پہلے میں نے اس گھر پر بینک کا قرضہ پانچ لاکھ روپے ادا کیا تھا۔اب میں اس گھر کی خریداری کررہاہوں،میری والدہ ماجدہ حیات ہیں۔ اس کے علاوہ ہم 4 بھائی اور 4 بہنیں ہیں ،برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ ہم میں ہر ایک کا کتنا حصہ ہے؟
نوٹ:سائل نے بتایا کہ یہ مکان والد نے بنوایاتھا اور والدہ کے نام کیا تھا،والدین اسی مکان میں رہائش پذیر تھے،والد صاحب کاانتقال بھی وہی ہواتھا،اور والدہ اب بھی اسی مکان میں رہائش پذیر ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یہ مکان شروع میں والد کی ملکیت میں تھا،انہوں نے آپ کی والدہ کے نام کرکے گویا ان کو ہدیہ یعنی گفٹ کیا تھا،تاہم ہدیہ میں یہ بات ضروری ہے کہ مکان کا قبضہ بھی دیا ہو، قبضہ کا مطلب یہ ہے کہ مکان سے اپنا ذاتی سامان نکالنے کے بعد اس کے تمام حقوق اور سارے متعلقہ امور سے دستبردار ہو کر اسے آپ کی والدہ کے حوالے کر دیا ہو،اگر اس طرح قبضہ دیا تھا تو اب یہ مکان والدہ کی ملکیت ہے، جب تک وہ حیات ہیں ،اس گھر میں کسی اور کا حق نہیں ہے،وہ آپ پر فروخت کرسکتی ہیں،اسی طرح اگر وہ مکان یا اس کی رقم اپنی مرضی سے اپنے بچوں کو ہدیہ کرنا چاہتی ہیں تو کرسکتی ہیں،اس کابہتر طریقہ یہ ہے کہ تمام بچوں میں برابر تقسیم کریں،یعنی بیٹے اور بیٹیوں کو برابر برابر حصہ دیدیں،مکان یا رقم کے آٹھ حصے بنادیے جائیں،چار حصے بیٹوں اور چار حصے بیٹیوں کے ہوجائیں گے ،نیز اولاد کو قبضہ بھی دیدیں،یعنی اپنے اختیارات ختم کرکے ان کے حوالے کردیں،البتہ یہ بھی ہوسکتاہے کہ اگلے سوال میں مذکور میراث کے حصوں کے مطابق تقسم کرکے حوالے کریں۔
اگر والدنے مکان والدہ کے فقط نام کیا ہواور اس طرح قبضہ نہ دیا ہوجس طرح کی تفصیل اوپر گذر چکی ہے تو پھر یہ
مکان آخر تک والد کی ملکیت میں باقی رہا ہے ،لہذا ان کے انتقال کے بعد وہ بطور میراث تمام ورثہ کا حق بن چکا ہے،اس میں آپ کی والدہ اور آپ بہن، بھائی یعنی ان کی اولاد سب شریک ہیں،اب تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے کہ مکان یا اس کی قیمت کے 96 حصے بنائے جائیں ،جن میں سے12حصے اہلیہ اور56 حصےچار بیٹوں کو دیے جائیں،ہر بیٹے کو14حصے ملیں گے،اور28حصے چاربیٹیوں کو دیے جائیں،ہر بیٹی کو 7حصے ملیں گے ۔
|
نمبر |
وارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
1 |
بیوی |
12 |
12.5 |
2 |
بیٹا |
14 |
14.583333 |
3 |
بیٹا |
14 |
14.583333 |
4 |
بیٹا |
14 |
14.583333 |
5 |
بیٹا |
14 |
14.583333 |
6 |
بیٹی |
7 |
7.291666 |
7 |
بیٹی |
7 |
7.291666 |
8 |
بیٹی |
7 |
7.291666 |
9 |
بیٹی |
7 |
7.291666 |
حوالہ جات
"بدائع الصنائع "(6/ 127):
"وذكر محمد في الموطإ ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في النحل ولا يفضل بعضهم على بعض.
وظاهر هذا يقتضي أن يكون قوله مع قول أبي يوسف وهو الصحيح لما روي أن بشيرا أبا النعمان أتى بالنعمان إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا فقال النبي - عليه الصلاة والسلام - فأرجعه وهذا إشارة إلى العدل بين الأولاد في النحلة وهو التسوية بينهم ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة".
وفي الدرالمختار(6/259):
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والاصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابا فيه طعام الواهب أو دارا فيها متاعه، أو دابة عليها سرجه وسلمها كذلك لا تصح وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط لأن كلا منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به لأن شغله بغير ملك واهبه لا يمنع تمامها كرهن وصدقة لأن القبض شرط تمامها…
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
27/ صفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


