03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدہ کے مکان پر لگائی گئی رقم واپس لینا
84770میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

 اس مکان پر بینک کا جو قرض میں نے ادا کیا تھا، اس حوالے سے تمام حضرات متفقہ طور پر کٹوتی پر راضی ہیں ۔اس کاحکم بتادیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔جو رقم نے آپ نے قرض کی ادائیگی کے لیے دی تھی،اگر دیتے وقت یہ نیت تھی کہ یہ رقم قرض کے طور پر دے رہا ہوں،وقت آنے پر دوبارہ وصول کروں گا،تو ابھی آپ  وہ رقم لے سکتے ہیں۔

2۔اگر دیتے وقت ہدیہ کی نیت تھی تو ابھی وصول کرنا درست نہیں،البتہ جب والدہ اور بھائی،بہن بخوشی یہ رقم دینے پر رضامند ہیں تو وصول کرسکتے ہیں۔

حوالہ جات

وفی الھندیة(4/385):

"ليس له حق الرجوع بعد التسليم في ذي الرحم المحرم، وفيما سوى ذلك له حق الرجوع إلا أن بعد التسليم لاينفرد الواهب بالرجوع، بل يحتاج فيه إلى القضاء أو الرضا أو قبل التسليم

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

27/ صفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب