| 84791 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
بیس (20) سال پہلے ہمارا سعودی عریبیہ میں " پی سی او PCO " کا کاروبار تھا ۔ اس کے متعلق سوالات کرنے ہیں ۔ٹیلی فون میں ٹوکن / سکہ ڈالا جاتا تھا اور اس پر ایک منٹ کی بات ہو سکتی تھی اور اس پر ایک ریال لکھا ہوتا تھا ۔ اور کمپنی سے ہمیں ایک ریال سے کم پر ملتا تھا کہ ہم نے ایک ریال پر بیچنا تھا اور ہم اس کوڈیڑھ ریال پر بیچتے تھے ۔ یعنی اصل منافع سے مزید منافع پر بیچتے تھے ۔ یا یوں کہے کہ کوئی دکاندارآج موجودہ ' یوفون ، ٹیلی نار کے 100 کے کارڈ کو 110 روپے میں بیچے ۔تو کیا اس طرح بیچنا صحیح ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اصل کارڈ کی قیمت میں اضافہ کےطور پرزیادہ رقم لیناجائز نہیں، اس لیے کہ ٹوکن /کارڈ کی خریداری بنیادی طور پر کمپنی کی متعین سہولت سے فائدہ اٹھانے کاحق ہے،جوکمپنی کی طرف سے اس کا نمائندہ دکاندار بطور ایجنٹ فراہم کرتا ہےاور کمپنی دکاندار کو اس عمل پر بطور کمیشن کچھ رقم ٹوکن / کارڈز کی کم قیمت کی صورت میں ادا کرتی ہے،کمپنی نے صرف ایک ریال / سوروپے کی ضمانت پر یہ کارڈ جاری کیا ہے،لہذا وہ آگے پورے ایک ریال / سو روپے کا تو بیچ سکتا ہے،لیکن اس پر اضافہ کا حق نہیں رکھتا، البتہ شہر سےدر آمد کےمصارف و کرایہ کے مد کے طور پر اضافی رقم لینا درست ہے۔
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
27/ صفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


