03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ہنڈی کے ذریعے رقم بھیجنے اور کرنسی کی قیمت کم لگانے کا حکم
84768خرید و فروخت کے احکامبیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان

سوال

میرے چچا کے بیٹے کے پاس کسٹمر آتا ہے اور اس کو ریال دیتا ہے کہ یہ پاکستان میں میری فیملی کو پہنچانے ہیں، اگر ریال کی قیمت 70 پاکستانی روپے ہوں تو وہ اس سے 67 پر لیتا ہے اور اسی حساب سے پاکستان میں اپنے جاننے والوں کے ذریعے اس کسٹمر کی فیملی تک پہنچاتا ہے۔ جو ریال وہ کسٹمر سے لیتا ہے یا انہیں پاکستان بھیج دیتا ہے یا پھر وہیں سعودی عرب میں انویسٹ کرلیتا ہے۔ اس کاروبار کا کیا حکم ہے؟ اور اس سے جو نفع حاصل ہو، اس کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ہنڈی کے ذریعے ایک ملک سے دوسرے ملک رقم بھیجنا تین شرائط کے ساتھ جائز ہے:

 (1)۔۔۔ دونوں کرنسیوں میں سے کسی ایک پر عقد کی مجلس میں ہی قبضہ کیا جائے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں آپ کے چچا کا بیٹا عقد کی مجلس میں گاہک سے ریال وصول کر لیا کرے ۔

(2)۔۔۔ اگر معاملہ نقد ہو، یعنی دوسرے ملک میں موجود گاہک کے رشتہ دار کسی بھی وقت ہنڈی والے کے نمائندے سے رقم کا مطالبہ کرسکتے ہوں یا اس میں مختصر وقت دیا جاتا ہو جو عموما باہر ملک سے رقم بھیجنے کے عمل (Process) میں لگتے ہوں تو جس ملک میں معاملہ ہو رہا ہو، اس ملک کے حکومتی ریٹ سے کم یا زیادہ پر معاملہ نہ کیا جائے۔ اور اگر معاملہ ادھار ہو، یعنی دوسرے ملک میں رقم کی ادائیگی کے لیے رقم بھیجنے کے عمل (Process) میں لگنے والے دورانیہ سے زیادہ وقت مقرر کیا جاتا ہو، اس سے پہلے اس ملک میں موجود گاہک کے رشتہ داروں کو مطالبے کا حق نہ ہو تو عقد کے دن مارکیٹ میں رائج قیمت معاملہ پر کیا جائے، ادھار کی وجہ سے قیمت میں اضافہ نہ کیا جائے۔

 لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جس وقت آپ کے چچا کے بیٹے کے پاس کوئی گاہک آئے، اس وقت مارکیٹ میں ریال کی پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں جو قیمت چل رہی ہو، اسی قیمت کے بدلے تبادلہ کیا جائے۔  اس کے بعد وہ رقم پاکستان ان کی فیملی تک پہنچانے پر الگ سے مناسب اجرت طے کی جائے۔

(3)۔۔۔ ہنڈی کے ذریعہ رقم بھیجنا قانوناً ممنوع نہ ہو۔

ان تین شرائط میں سے اگر:-

  • پہلی شرط کا لحاظ نہیں رکھا جائے گا تو معاملہ ناجائز ہوگا اور کمائی حرام ہوگی۔
  • دوسری شرط کا لحاظ نہیں رکھا جائے گا اور رقم دوسرے ملک پہنچانے کی اجرت الگ سے لینے کی باوجود کرنسی کی قیمت مارکیٹ ریٹ سے کم لگائی جائے تو اگر معاملہ نقد کا ہو تو کمائی حرام نہیں ہوگی، لیکن جائز ملکی قانون (کرنسی کے حکومتی ریٹ) کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگا، اور اگر معاملہ ادھار کا ہو تو وہ ناجائز ہوگا اور کمائی حرام ہوگی۔ لیکن اگر دوسرے ملک رقم پہنچانے کی اجرت الگ سے نہ لی جائے، بلکہ اسی رقم سے وصول کی جائے اور اجرت کے بقدر اس کی قیمت میں کمی کی جائے تو پھر یہ معاملہ ناجائز نہیں ہوگا اور کمائی حرام نہیں ہوگی؛ کیونکہ اس صورت میں کرنسی کی قیمت کے سلسلے میں جائز ملکی قانون کی خلاف ورزی لازم نہیں آتی، نہ ہی کرنسی کی قیمت ادھار کی وجہ سے مارکیٹ ریٹ سے کم نہیں لگائی جا تی ہے، بلکہ کمی اجرت کی مد میں کی جاتی ہے جو سود یا سود کا ذریعہ نہیں بنتا۔ اس معاملے کا عرفِ عام ہونے کی وجہ سے " صفقۃ فی صفقۃ " کا اشکال نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم بہر حال بہتر صورت یہی ہے کہ کرنسی اسی قیمت پر لی جائے جو اس دن مارکیٹ میں رائج ہو اور اجرت الگ سے طے کر کے وصول کی جائے۔
  •  تیسری شرط کا لحاظ نہ رکھا جائے تو جائز ملکی قانون کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگا، جس سے بچنا ضروری ہے، تاہم معاملہ فی نفسہ درست رہے گا۔     
حوالہ جات

تکملة فتح الملھم (3/268):

المسلم یجب علیہ أن یطیع أمیرہ فی الأمور المباحة؛ فإن أمر الأمیر بفعل مباح وجبت مباشرتہ، وإن نھی عن أمر مباح حرم ارتکابہ؛ لأن اللہ سبحانہ وتعالی قال: { يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ} [النساء: 59]،  فلو کان المراد من إطاعة أولی الأمر إطاعتھم فی الواجبات الشرعیة فحسب، لما کان ھناك داعٍ لاستقلالھم بالذکر فی ھذہ الآیة؛ لأن طاعتھم فی الواجبات الشرعیة لیست إطاعة أولی الأمر، وإنما ھو إطاعة اللہ ورسولہ، فلما أفردھم اللہ سبحانہ بالذکر ظھر أن المراد إطاعتھم فی الأمور المباحة. ومن ھنا صرح الفقھاء بأن طاعة الإمام فیما لیس بمعصیة واجبة.

بحوث فی قضایا فقهیة معاصرة (1/175-169):

 ولما کانت عملات الدول أجناسا مختلفة، جاز بیعها بالتفاضل بالإجماع….. فیجوز إذن أن یباع الریال السعودي مثلا بعدد أکثر من الربیات الباکستانیة.  ثم إن أسعار هذه العملات بالنسبة إلی العملات الأخری ربما تعین من قبل الحکومات، فهل یجوز بیعها بأقل أو أکثر من ذلك السعر المحدد؟ والجواب عندي أن البیع بخلاف هذا السعر الرسمي لایعتبر ربا، لما قدمنا من أنها أجناس مختلفة، ولاخلاف في جواز التفاضل عند اختلاف الجنسین، ولیس للفضل الجائز حد مقرر شرعا، وإنما هو یتبع رضاء العاقدین، ولکن تجري علیه أحکام التسعیر، فمن جوز التسعیر في العروض جاز عنده هذا التسعیرأیضا، ولاینبغی مخالفة هذا السعر، إما لأن طاعة الإمام في ما لیس بمعصیة واجب، وإما لأن کل من یسکن دولة، فإنه یلتزم قولا أو عملا أنه یتبع قوانینها، وحینئذ یجب علیه اتباع أحکامها ما دامت تلك القوانین لاتجبره علی معصیة دینیة، نعم لایقال في ذلك: إنه تعامل ربوي.

النسیئة في تبادل العملات بغیر جنسها:

أما النسیئة في تبادل العملات المتجانسة، فقد ذکرنا أنه لاتجوز باتفاق الأئمة الحنفیة، لا لکونه صرفا، بل لأن الجنس بانفراده یحرم النسیئة، وإن لم یوجد القدر. أما تبادل العملات المختلفة الجنس، مثل الربیة الباکستانیة بالریال السعودی، فقیاس قول الإمام محمد رحمہ اللہ تعالی أن تجوز فیہ النسیئة أیضاً؛ لأن الفلوس (وهي الأثمان الاصطلاحیة) لو بیعت بخلاف جنسھا من الأثمان، مثل الدراھم، فیجوز فیھا التفاضل والنسیئة جمیعاً بشرط أن یقبض أحد البدلین فی المجلس؛ لئلا یؤدی إلی الافتراق عن دین بدین……….. فلاتجوز النسیئة فی الموقف الثانی، وتجوز فی الموقف الثالث، وھذا الموقف الثالث ھو الذی اخترتہ فی رسالتی "أحکام الأوراق النقدیة". وإن هذا الموقف مبني علی قول الإمام محمد رحمه الله تعالیٰ، ویظهر لي قوته لأسباب آتیة………… وقد یقع إشکال علی جواز النسیئة أنه لو أجیزت النسیئة فی مبادلة عملات مختلفة، یمکن أن تصبح النسیئة حیلة لأکل الربا، فمثلا إذا أراد المقرض أن یتقاضی عشر ربیات علی المائة المقروضة، فإنه یبیع مائة ربیة نسیئة بمقدار من الدولارات التي تساوي مائة وعشر ربیات، وبهذا یحتال لأخذ عشر ربیات زیادةً علی المبلغ المقروض.  وحل هذا الإشکال ماذکرنا من أن یشترط فی جواز النسیئة أن یکون بسعر المثل یوم العقد. فإن اشتراط ثمن المثل فی عقود النسیئة یقطع الاحتیال علی الربا. واشتراط سعر المثل فی المبادلات له نظائر کثیرة فی الفقه، مثل أجرة کتابة الفتوی، أجازها الفقهاء بشرط أن لایتجاوز فیه عن أجر المثل، وذلك لئلا یتخذ ذلك حیلة لتقاضی الأجرة علی الإفتاء نفسه.

فقه البیوع (2/747-738):

النسیئة في تبادل العملات بغیر جنسها……………… وإنما حاصل اشتراط ثمن المثل أن لایتعدی هذا التفاضل إلی حد یکون حیلة للربا.

المعاییر الشرعیة (60):

 2/11 اجتماع الصرف والحوالة المصرفیة (معیار المتاجرة بالعملات) :

یجوز إجراء حوالة مصرفیة بعملة مغایرة للمبلغ المقدم من طالب الحوالة، وتتکون تلك العملیة من صرف بقبض حقیقي أو حکمي بتسلیم المبلغ لإثباته بالقید المصرفي، ثم حوالة (تحویل) للمبلغ بالعملة المشتراة من طالب الحوالة. ویجوز للمؤسسة أن تتقاضی من العمیل إجرة التحویل.

المعاییر الشرعیة (186-185):

 12/6 التحویلات المصرفیة (معیار الحوالة):

إن طلب العمیل من المؤسسة (المصرف الآمر) تحویل مبلغ معین من حسابه الجاري لدیها لتحوله بنفس العملة إلی مستفید معین هو حوالة إذا کان العمیل مدینا للمستفید. والأجر الذي تأخذه المؤسسة في هذه الحالة هو مقابل إیصال المبلغ إلی المحال، ولیس زیادة في الدین المحال. فإن لم یکن بنفس العملة فقد اجتمع الصرف و الحوالة، وهو جائز.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       27/صفر المظفر/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب