03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
این ایف ٹی (NFT) کی خریدوفروخت کا حکم (بابت ٹریجر ایف ایف ٹی)
84748خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میرا سوال یہ ہے کے ٹریجر این ایف ٹی(Treasure NFT)   کے نام سے ایک App ہے، جس پہ 100 ڈالر انویسٹ کرنے کے بعد آپ روزانہ ان ڈالرز کے ذریعہ NFTs کی خریدوفروخت کرتے ہیں ۔100 ڈالرز کی انویسٹمنٹ پر روزانہ تقریباً  1.5 سے 2.5  ڈالرز کمائے جا سکتے ہیں اور یہ NFTs مذکورہ App میں صرف  کارٹون اور ویڈیوگیمز میں استعمال ہونے والی اشیاء  ہوتی  ہیں۔ ساتھ ہی اگر آپ کے واسطہ (reference)سے کوئی اس App کو جوائن کرےگا، تو اس کی وجہ سے آپ کو 12 ڈالرز ملتے ہیں ۔ کیا اس ایپ کے  ذریعے کمانا جائز ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

این ایف ٹی کا  مطلب ہے" نان فنجیبل ٹوکن "،یعنی ایسا  ڈیجیٹل ٹوکن جو اپنی ذات میں  منفرد اور یکتا ہو اور اسے کسی دوسری چیز سے تبدیل کرنا ممکن نہ ہو۔ اس کی مختصر وضاحت  یہ ہے کہ این ایف ٹی اپنی ذات میں کوئی مال نہیں ہوتا، بلکہ اپنی پشت (back) پر موجود کسی ڈیجیٹل اثاثہ  کی نمائندگی کرنے والا ایک ٹوکن ہوتا ہے، وہ اس طرح کہ  ڈیجیٹل  دنیا میں جب کوئی    شخص  کوئی بھی  چیز (مثلا آرٹ ، تصویر، لوگو ،گرافک  وغیرہ)بناتا ہے  اور وہ یہ چاہتا ہے کہ یہ جو چیز اس نے بنائی ہے ، یہ انٹرنیٹ پر موجود ہو، لیکن ساتھ ساتھ اس کی ملکیت اور حقوق اس شخص کے لیے ثابت ہوجائیں ، تو وہ شخص  بلاک چین پر اس چیز کا  ایک کوڈ  ڈال دیتا ہے اور اس کا صرف یہی ایک ہی کوڈ ہوتا ہے ، کوڈ ڈالنے سے بلاک چین پر اس چیز کی ملکیت اور حقوق اسی شخص کے نام ہوجاتے ہیں ۔ بلاک چین پر چونکہ ہر شخص کی شناخت اس کے ایڈریس سے ہوتی ہے ، تو جو شخص اپنی چیز  پر جو بھی کوڈ لگائے گا،  تو  وہ  چیز اسی  کوڈ کے ساتھ  اس کے ایڈریس پر موجود ہوگی، پھرجب وہ اُسے بیچتا ہے، تو بلاک چین میں وہ خریدار کا ایڈریس ڈال دیتا ہے،جس سےاس چیز کی ملکیت  اور حقوق خریدار کے نام منتقل ہوجاتے ہیں۔ اگر کوئی دوسرا شخص یہی چیز مثلا کوئی  تصویر  ہے،اپنے ایڈریس پر کاپی کرلے ، یا اس کی اسکرین شاٹ لے،  تو اس کے پاس تصویر تو آئے گی، البتہ اس کا کوڈ جوں کا توں پہلے شخص (مالک) کے پاس ہی رہے گا اور کاپی کرنے سے دوسرے شخص کی ملکیت بھی ثابت نہ ہوگی۔

"NFT"  کسی بھی ڈیجیٹل اثاثے کا ہوسکتا ہے ،کوئی  آرٹ ،تصویر، پینٹنگ ، ٹویٹ ، ویڈیو ،اینیمیشن ،کسی ویڈیو گیم کےاندر کوئی حصہ یا گیم کے کیریکٹر کے کپڑے ،اس کا ہتھیار ، گیم میں موجود منظروغیرہ ،   نیزمحض نام ، شہرت اور دکھاوے کی چیز بھی ہوسکتی ہے ، مثلاً ایک شخص نے تقریباً  2.9 ملین ڈالر میں ٹویٹر میں ہونے والا پہلاٹویٹ خریدا تھا۔

اس تفصیل کے بعدیہ واضح رہے کہ  اگر کوئی این ایف ٹی ایسا ہو، جو واقعتا اپنی پشت پر موجود کسی اثاثے کی نمائندگی کررہا ہو اور این ایف ٹی ہی کے ذریعہ اس کی خریدوفروخت مطلوب ہو، تو اس میں مندرجہ بالا  شرائط کا لحاظ رکھنا  ضروری ہے۔

    این ایف ٹی جس چیز کی نمائندگی کررہا ہو،  وہ شرعا مال ہو  اور اس  کا جائز استعمال ممکن ہو، کوئی ایسی تصویر یا چیز نہ ہو، جو صرف مال داری دکھانے کے لیے خریدی اور بیچی  جائے اور اس کا کوئی جائز استعمال ممکن نہ ہو۔

   بیچنے والا این ایف ٹی کا حقیقی مالک ہو، لہذاکسی دوسرے کی چیز کا این ایف ٹی بناکر اپنی ملکیت ظاہر کرکے بیچناجائز نہیں۔

   بیچنے والے نے این ایف ٹی کی پشت(back) پر موجود ڈیجیٹل اثاثہ پر باقاعدہ قبضہ  کیا ہو(مثلا ایسٹ ڈاؤن لوڈ کیا ہو)  ،  لہذا اس کے صرف کوڈ پر قبضہ کرنا معتبر نہیں۔  

4۔  این ایف ٹی جائز اور مفید  چیز کا ہو،   لہذا  این ایف ٹی ایسی چیز کا نہ  ہو، جو ذاتی فائدے سے خالی یا غیر مباح فائدے والی چیز ہو، جس سے صرف ناجائز نفع اٹھایا جایا سکتا ہو، جیسے فحش منظر نگاری و فحش تصاویر، گانوں کا این ایف ٹی ۔ذاتی فائدے سے خالی چیزیں جیسے کہ گیم میں استعمال ہونے والے کیریکٹرز اور  کارٹون کی تصاویر وغیرہ ، جن کا حقیقت میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا  اور نہ ان کے ساتھ انسانی ضروریات وابستہ ہوتی  ہیں ، بلکہ ان کو مصنوعی طور پر قیمتی اثاثہ ظاہر کرکے محض  ڈالر کمانے  اور سرمایہ کاری کے لیے   خریدا اور بیچا جاتا ہے۔ نیز ڈیجیٹل گیم کے اندر استعمال ہونے  والی اشیاء کا مال ہونا بھی محل نظر ہے، لہذا ایسی چیزوں کی این ایف ٹیز کی خرید و فروخت سے اجتناب لازم ہے۔

5۔  این ایف ٹی کی لین دین جعل سازی یا دھوکہ دہی کے لیے نہ ہو۔

لہذااگر کوئی این ایف ٹی ایسا ہو، جو واقعتا کسی اثاثے کی نمائندگی کررہا ہو اور این ایف ٹی ہی کے ذریعہ اس کی خریدوفروخت مطلوب ہو، تو اس میں مندرجہ بالا  شرائط کا لحاظ رکھنا  ضروری ہے۔

  سائل نے سوال میں مذکور جس ایپ کی بابت استفسار کیا ہے، ہمیں اب تک اس میں کوئی ایسی مفید اور جائز  تصویر نظر نہیں آئی  کہ جس کے این ایف ٹی کی خریدوفروخت کے جواز کا حکم لگایا جائے، بلکہ  اس ایپ میں  ویڈیوگیم کے کیریکٹر زکے یونیفارم اور چند کارٹون نما تصاویر پر مشتمل فقط چند تصویریں ہیں، جو بار بار سرکولیٹ کررہی ہوتی ہیں ، لہذا ایسے این ایف ٹیز کی خریدوفروخت سے اجتناب لازم ہے اور اس کے ذریعے سے کمائی ناجائز ہے۔

مذکورہ ایپ میں ایک شخص کے واسطے سے دوسرے لوگوں کا ایپ جوائن کرنا اور پھر جتنے لوگ  جوائن کرتے جائیں گے ، تو ان کی وجہ سے پہلے شخص کو ایک مخصوص کمیشن کا ملنا، در حقیقت نیٹ ورک مارکیٹنگ ہے، جس کا مقصد ایپ  کی ممبر سازی کے سوا کچھ نہیں، لہذا  اس طرح کا کمیشن لینا  بھی جائز نہیں ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 501):

 المراد بالمال ما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة، والمالية تثبت بتمول الناس كافة أو بعضهم، والتقوم يثبت بها وبإباحة الانتفاع به شرعا؛ فما يباح بلا تمول لا يكون مالا كحبة حنطة وما يتمول بلا إباحة انتفاع لا يكون متقوما كالخمر، وإذا عدم الأمران لم يثبت واحد منهما كالدم.

و فی فقہ البیوع(28/1):

والمراد من قولھم "ما یمیل الیہ الطبع" فی تعریف المال ، أن یکون منتفعا بہ، فما لا ینتفع بہ لیس مالا الخ.

الفتاوى الهندية (3/ 3):                                             

 ومنها الفائدة فبيع ما لا فائدة فيه وشراؤه فاسد كبيع درهم بدرهم.

صفی اللہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

27/صفر المظفر/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صفی اللہ بن رحمت اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب