| 84793 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | دلال اور ایجنٹ کے احکام |
سوال
قرآن اکیڈمی کے لیے قراء حضرات طلباء کی خریدفروخت کرتے ہیں، جس میں خریدار بیچنے والے شخص کو تین ماہ کی فیس ایڈوانس ادا کرتا ہے اور بچہ اس کے پاس بھیجنا شروع کر دیتا ہے، اس کے بعد اس بچے کی فیس دوسرا شخص وصول کرتا ہے، کیا یہ معاملہ درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کیا گیا معاملہ فقہی اعتبار سے خریدوفروخت کا نہیں، لہذا اس کو طلباء کی خریدوفروخت کا نام دینا شرعادرست نہیں۔ یہ معاملہ درحقیقت دلالی کا ہے، جس میں ایک قاری صاحب دوسرے شخص کو طلباء فراہم کرتا ہے اور اس کے عوض طے شدہ کمیشن وصول کرتا ہے تو شرعا اس کی اجازت ہے، جیسا کہ ایک دلال (بروکر) فروخت کنندہ کے پاس خریدار لے کر آئے اور اس کے عوض طے شدہ کمیشن لے تو شرعی اعتبار سے اس میں کوئی حرج نہیں۔
البتہ اس معاملے میں والدین کے علم میں ہونا ضروری ہے کہ بچہ فلاں قاری صاحب کے پاس پڑھ رہا ہے، کیونکہ بعض اوقات والدین کسی خاص قاری صاحب کے پاس بچہ پڑھانے کے خواہش مند ہوتے ہیں تو اس صورت میں قاری صاحب والدین کے علم میں لائے بغیر کمیشن لے کر اس کو دیگر قراء کے حوالے نہ کرے۔
حوالہ جات
رد المحتار:63/6مطلب في أجرة الدلال، ط: سعيد، ايم سعيد:
"قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا، فذاك حرام عليهم."
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
28/صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


