| 84787 | معاشرت کے آداب و حقوق کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
کیا قرآن و حدیث میں یہ ثابت ہے کہ بہو اور اُس کے والدین ہمیں گالی گلوچ کریں اور دھمکیاں دیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
قرآن وسنت کی رُو سے کسی بھی مسلمان کو گالم گلوچ اور برا بھلا کہنے کی شریعت میں ہرگز اجازت نہیں ہے، کیونکہ اس میں دوسرے مسلمان کو تکلیف دینا لازم آتا ہے اور مسلمان کو تکلیف دینا شرعا حرام ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مختلف فرامین میں اس پر تنبیہ فرمائی ہے، چنانچہ ایک حدیث ارشاد فرمایا مسلمان وہ شخص ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر مسلمان محفوظ ہوں، یعنی ان کو اس کی زبان، ہاتھ اور جسم کے دیگر اعضاء سے تکلیف نہ پہنچے، لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ کی بہو اور اس کے والدین کا شوہر کے والدین یعنی آپ دونوں کو برا بھلا کہنا اور گالم گلوچ کرنا کبیرہ گناہ ہے، جس سے اس پر توبہ کرنا لازم اور آئندہ کے لیے اس طرح کی حرکات سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
حوالہ جات
سنن أبي داود ت الأرنؤوط (4/ 138) دار الرسالة العالمية:
حدثنا مسدد، حدثنا يحيي، عن اسماعيل بن أبي خالد، حدثنا عامر، قال: أتى رجل عبد الله بن عمرو وعنده القوم حتى جلس عنده، فقال: أخبرني بشيء سمعته من رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فقال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه"
صحيح ابن خزيمة ط 3 (2/ 1325) المكتب الإسلامي،بيروت"
ثنا علي بن حجر السعدي ويوسف بن موسى، قالا: ثنا جرير، عن المغيرة، عن موسى بن زياد بن حذيم السعدي، عن أبيه، عن جده حذيم بن عمرو قال: سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول في خطبته يوم عرفة في حجة الوداع: "اعلموا أن دماءكم وأموالكم وأعراضكم حرام عليكم كحرمة يومكم هذا وكحرمة شهركم هذا، وكحرمة بلدكم هذا".
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
29/صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


