| 84786 | معاشرت کے آداب و حقوق کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
السلام و علیکم ! امید کرتے ہیں آپ صحت اور ایمان کی بہترین حالت میں ہوں گے۔ محترم میر ایک چھوٹا سامدرسہ ہے، جس میں چھوٹے بچے اور بچیاں قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ میں اس وقت مدرسہ میں بیٹا ہوا یہ تحریر لکھ رہا ہوں اور اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر لکھ رہا ہوں ، اللہ تعالی اس پرگواہ ہے اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ جھوٹے پر اللہ تعالی کی لعنت ہے۔ محترم میں ایک ریٹائرڈ فوجی آدمی ہوں ،ساری زندگی محنت سے کام کیا ہے۔ میرا دایاں کندھاٹوٹاہوا ہے اور میری گردن سے نیچے ریڑھ کی ہڈی کے مورے بھی اڑ گئے تھے۔ زخمی ہونے کی وجہ سے پلاسٹک سرجری ہوئی ہے۔ میں فوج میں ملازمت کرتا تھا اور میری بیوی تن تنہا بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کرتی تھی۔ الحمد اللہ اب میر ابڑا بیٹا عالم دین ہے اور چھوٹا بیٹا حافظ قرآن کریم ہے۔ بڑا بیٹا مفتی صاحب ضلع بہاؤ الدین میں امام و خطیب ہے اور شادی شدہ ہے ۔ 2019ء میں اُس کی شادی ہوئی اور وہ اپنی بیوی کو ساتھ لے گیا اور اپنی والدہ کو بھی ساتھ لے گیا،جب وہاں پہنچے تو اس کی بیوی کہتی کہ تم یہاں سے چلی جاؤ، یہ میراگھر ہے وہ مجھے بتاتی تو میں کہتا صبر کرو یہی چلتا رہا۔ اب ان کے تین بچے بھی ہو گئے ہیں۔ لیکن اس کی باتیں برداشت سے باہر ہو گئی ہیں، وہ میری بیوی کو گالیاں تک دیتی ہے اور ہماری بہو کے گھر والے بھی فون پر گالیاں دیتے ہیں، تم اس گھر سے نکل جاؤ یہ ہماری بیٹی کا گھر ہے ،میرے بیٹے نے کچھ عرصہ پہلے اپنی بیوی کو کچھ روکا ٹو کا تو ان کے ایک بھائی نے اور اس کے والد نے فون پر گالی گلوچ اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور بیٹی کو گھر بیٹھا دیا۔ اور میرا بیٹا تمام تر صورت حال میں خاموش ہے وہ نہ انہیں کچھ کہتا ہے اور نہ ہمیں۔اب حالات ہماری برداشت سے باہر ہو گئے تو سوچا کہ ان کا حل قرآن و حدیث کی روشنی میں پوچھا جائے تاکہ میں خود ان کے ہاں جا کر اس کا حل تلاش کر سکوں۔اس سلسلے میں برائے مہربانی درج ذیل سوالوں کا جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں:
محترم جب ہم میاں بیوی جوان تھے اور ہماری اولاد معصوم اور کمزور تھی، ہم نے دن رات محنت کر کے ان کی پرورش کی اور تعلیم و تربیت کی جب یہ جو ان ہو گئے ہیں اور ہماری کمریں جھک گئی ہیں اور ضعیف ہو گئے ہیں، ہم کچھ نہیں کر سکتے تو ان کی بیوی ہمیں کہتی ہے کہ یہ میراگھر ہے،تم یہاں نہیں رہ سکتے اور اُس کے والدین بھی کہتے ہیں ہماری بیٹی کا گھر ہے، آپ لوگ نکل جائیں۔ کیا قرآن و حدیث سے یہ ثابت ہے کہ ہم وہاں نہیں رہ سکتے اور ان کی کمائی پر والدین کا کوئی حق نہیں ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت کی رُو سے والدین کو ضرورت کے وقت اپنی اولاد کے مال سے بقدرِ ضرورت نفع اٹھانے کا مکمل حق حاصل ہے، چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ باپ اور بیٹے کے جھگڑے کے دوران بیٹے کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا"أنت ومالك لأبيك" یعنی تو اور تیرا مال سب تیرے باپ کا ہے۔ اس حدیث کو محدثین کرام رحمہم للہ نے ضرورت کی قید کے ساتھ مقید فرمایا ہے، یعنی ضرورت کے وقت والدین اپنی اولاد کا مال بقدر ضرورت استعمال کر سکتے ہیں، اس لیے آپ اور آپ کی بیوی کا اپنے بیٹے کے ساتھ رہائش اختیار کرنا بالکل جائز ہے، بیٹے کے رہائشی گھر سے نکالنے کا بہو کو حق حاصل نہیں ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر یہ گھر آپ کے بیٹے کی ملکیت ہے یا بیٹے کو مسجد کی انتظامیہ نے امام ہونے کی وجہ سے رہائش کے لیے دیا ہےتو اس صورت میں بہو کو صرف بیٹے کی اہلیہ ہونے کی وجہ سے شوہر کی والدہ یعنی اپنی ساس کو اس گھر سے نکالنے کا ہرگز حق نہیں پہنچتا، کیونکہ وہ گھر حقیقت میں اس کی ملکیت نہیں، اس کو صرف اس گھر میں رہائش کا حق حاصل ہے، لہذا وہ اپنی ساس یعنی شوہر کی والدہ کو یہ بات کہنے سے سخت گناہ گار ہوئی ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی اس قبیح حرکت پر اللہ تعالیٰ سے بھی معافی مانگے اور پھر اپنی ساس کو جو تکلیف پہنچائی ہے اس پر اس سے بھی معافی مانگے اور آئندہ اس طرح کے کلمات کہنے سے مکمل طور پر اجتناب کرے۔
البتہ بیٹے پر لازم ہے کہ بیوی کو اسی گھر میں ایک کمرہ، کچن اور واش روم علیحدہ بنا کردے، کیونکہ والدین اور بہن بھائیوں سے علیحدہ رہائش بیوی کا شرعی حق ہے، باقی صحن میں دیوار قائم کرنے کی ضرورت نہیں، صحن مشترکہ بھی کافی ہے۔
حوالہ جات
سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط (3/ 391) دار الرسالة العالمية:
عن جابر بن عبد الله، أن رجلا قال: يا رسول الله، إن لي مالا وولدا، وإن أبي يريد أن يجتاح مالي! فقال: "أنت ومالك لأبيك"
الشافي في شرح مسند الشافعي (5/ 129) مَكتَبةَ الرُّشْدِ، الرياض:
قوله: "أنت ومالك لأبيك" يريد أن الأب تجب له النفقة على الابن في ماله، فإن لم يكن للولد مال وكان له كسب لزمه أن يكسب وينفق عليه. وقد اختلف في صفة الأب الذي تجب له النفقة فقال الشافعي: إنما تجب للأب الفقير الزمن العاجز عن الكسب، فإن كان له مال أو كان صحيح البدن فلا نفقة له.
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 288) دار احياء التراث العربي – بيروت:
" وعلى الزوج أن يسكنها في دار مفردة ليس فيها أحد من أهله إلا أن تختار ذلك " لأن السكنى من كفايتها فتجب لها كالنفقة وقد أوجبه الله تعالى مقرونا بالنفقة وإذا أوجب حقا لها ليس له أن يشرك غيرها فيه لأنها تتضرر به فإنها لا تأمن على متاعها ويمنعها ذلك عن المعاشرة مع زوجها ومن الاستمتاع إلا أن تختار لأنها رضيت بانتقاص حقها " وإن كان له ولد من غيرها فليس له أن يسكنه معها " لما بينا ولو أسكنها في بيت من الدار مفرد وله غلق كفاها لأن المقصود قد حصل " وله أن يمنع والديها وولدها من غيره وأهلها من الدخول عليها " لأن المنزل ملكه فله حق المنع من دخول ملكه.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
29/صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


