| 84789 | معاشرت کے آداب و حقوق کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
میں اپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد سے ایسے انسان کوجو کہ بہتان ، جھوٹ اور گالی گلوچ کرتا ہےان کو دینے کا پابند ہوں؟اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اس میں کیا فرمان ہے ؟اگرمیں اپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادمیں سے اگر ان کو کچھ نہ دوں تو مجھے اللہ تعالی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ حق دیتے ہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میراث چونکہ شرعی حق ہے اوریہ جبری حق ہے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وارث کو دیا گیا ہے، اس میں انسان کے فعل کا کوئی دخل نہیں ہے، اس لیے یہ آدمی کی وفات کے بعد خودبخود اس کے ورثاء کی طرف منتقل ہو جائے گا، لہذااگر آپ زندگی میں اپنے بیٹے کو عاق یعنی محروم کرنے کی وصیت کر گئیں تو یہ وصیت شرعاً غيرمعتبر اور کالعدم شمار ہو گی اور اس پر عمل کرنالازم نہیں ہو گا اور آپ کا یہ بیٹا بھی آپ کی وراثت میں سے اپنے شرعی حصے کے مطابق حق دار ہو گا۔
البتہ زندگی میں آدمی اپنے مال کا خود مالک ہوتا ہے اور وہ جس طرح چاہے اپنے مال میں جائز تصرف کر سکتا ہے،اس لیے زندگی میں آپ جتنی جائیداد چاہیں اولاد کو دیں، جتنی چاہیں اللہ کے راستے میں صدقہ کر دیں اورجتنی چاہیں اپنے پاس رکھیں، البتہ اگراولاد کے درمیان اپنا مال تقسیم کرنا چاہیں تو اس بارے میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ سب اولاد کو برابر حصہ دے یا کم از کم بیٹیوں کو بیٹوں کی بنسبت آدھا حصہ دیا جائے، لیکن اگر کسی بیٹے یا بیٹی کی خدمت، دینداری یا مالی حالت کی تنگی کی بنیاد پر اس کو کچھ حصہ زیادہ دےدیا جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے، بشرطیکہ دیگر ورثاء کو محروم کرنے کا ارادہ نہ ہو۔لہذا اگر آپ کا یہ بیٹا آپ کا نافرمان نہیں، بلکہ اس کی بیوی آپ کی نافرمان اور آپ لوگوں کو برابھلا کہتی ہے تو بیٹا اس کا ذمہ دار نہیں، (کیونکہ وہ اس کو ایک مرتبہ سمجھا چکا ہے، جس کے نتیجے میں اس کو سنگین دھمکیاں دی گئیں، اس لیے وہ مجبورا خاموش ہے، جیسا کہ سوال میں مذکور ہے) لہذا اس صورت میں آپ اس بیٹے کو بھی دیگر بیٹوں کے برابر حصہ دیں، البتہ اگر آپ کا یہ بیٹا واقعتاً آپ کا نافرمان ہے اور آپ کو برا بھلا کہتا ہے تو اس صورت میں آپ اس کو دیگر اولاد کی بنسبت کم حصہ دے سکتے ہیں،لیکن مکمل طور پر محروم کرنا درست نہیں۔
حوالہ جات
الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 299) دار الكتب العلمية، بيروت:
الثانية: لا يدخل في ملك الإنسان شيء بغير اختياره إلا الإرث اتفاقا.
لسان الحكام (ص: 236) البابي الحلبي – القاهرة:
وفي جامع الفتاوى ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منه أو من حصتي لا يصح وهو على حقه لأن الإرث جبري لا يصح تركه.
لسان الحكام (ص: 371) لابن الشِّحْنَةالثقفي الحلبي ، البابي الحلبي – القاهرة:
نوع الأفضل في هبة الابن والبنت التثليث كالميراث وعند أبي يوسف رحمه الله تعالى التنصيف وهو المختار ولو وهب جميع ماله من ابنه جاز وهو آثم نص عليه محمد رحمه الله تعالى ولو خص بعض أولاده لزيادة رشده فلا بأس به وإن كانوا سواء في الرشد لا يفعله.
اللباب في الجمع بين السنة والكتاب (2/ 549) دار القلم بيروت:
باب ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في العطية ليستووا في (البر له) ، ولا يفضل بعضهم على بعض فتقع بذلك الوحشة في قلوبهم، فإن نحل بعضهم شيئا دون بعض وقبله المنحول لنفسه إن كان كبيرا، أو قبضه له أبوه إن كان صغيرا بإعلامه والإشهاد به فهو جائز.
البخاري ومسلم والطحاوي واللفظ له: عن (داود بن) أبي هند عن عامر الشعبي عن النعمان بن بشير قال: " انطلق بي (أبي) إلى النبي [صلى الله عليه وسلم] ونحلني نخلا (ليشهده) على ذلك، فقال: أكل ولدك نحلته مثل هذا؟ فقال: لا، قال: أيسرك أن يكونوا إليك في البر كلهم سواء؟ قال: بلى، قال: فأشهد على هذا غيري ".
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 127) دار الكتب العلمية، بیروت:
ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة۔
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
29/صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


