03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
صریح طلاق کے بعد میسج پردوسری اور تیسری طلاق دینے کا حکم
84827طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

ایک سال پہلے اگست میں شوہر نے مجھے  آمنے سامنے ایک طلاق دی ،آج ایک سال بعد اس نے مجھے میسج پر کہا کہ تم میری طرف سے آزاد ہو  ، پھر دوسرا میسج کیا  کہ تم اس رشتے سے آزاد ہو ،لیکن اس کا کہنا ہے کہ طلاق نہیں ہوئی ،ابھی ایک طلاق باقی ہے  اور ان کی نیت ایک طلاق کی تھی ،وہ اہلِ حدیث ہے ،برائے مہربانی راہنمائی فرمائے کہ کیاطلاق ہوچکی ہے  ؟ رجوع کا کوئی موقع ہے؟

تنقیح :سائلہ نے وضاحت کرکے بتایا کہ پچھلے سال ایک  طلاق رجعی دی تھی اور پھر اگلے دن ہی  رجوع کیا  تھا ،اب شوہر نے پھر  اسی مہینے  یہ مذکورہ بالا دو میسجز بھیجے ،جبکہ ہماری بحث  میرے  اور اس کے گھر والوں کے درمیان لڑائی پر چل رہی تھی، وہ گھر آنے کا کہہ رہے تھےاور میں منع کررہی تھی۔نیز یہ بھی وضاحت کی کہ شو ہر نے کہا کہ میر ی ایک طلاق دینے کی نیت تھی اور ایک مجلس میں تین طلاقیں ایک طلاق  سمجھی جا تی ہیں ۔۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں ایک سال پہلے طلاق صریح دی تھی  جس کے بعد رجوع کرنے پر ازدواجی تعلق برقرار رکھنا  جائز تھا،البتہ  شوہر کو  مزید دو طلاقیں دینے کا اختیار حاصل تھا ۔  ایک سال بعد پہلامیسج کیا کہ  تم میری طرف سے آزاد ہو اس سے ایک طلاق  واقع ہوگئی ،پھراگر  یہ لفظ (تم میری طرف سے آزاد ہو )استعمال کرنے والے کی برادری اور اہلِ زبان کے عرف میں طلاق کے معنی و مفہوم میں اس  طرح صریح  ہو کہ شوہر جب بیوی کے سامنے یہ لفظ بولے تو طلاق کے علاوہ معنی کی طرف ذہن منتقل نہ ہوتاہوتواس سے واقع ہونے والی طلاق رجعی ہوگی اور اگر اس میں   طلاق کے علاوہ دیگر معانی کا بھی احتمال ہو (مثلاً نکاح برقرار رکھتے ہوئے بیوی کو اعمال وافعال کی آزادی دینا وغیرہ )تو ایسی صورت میں    کنایہ الفاظ میں سے ہونے کی وجہ سے اس لفظ سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوگی۔بہرحال اس لفظ سے رجعی طلاق ہو یابائن ،اس کے بعد دوسرے  میسج میں بھیجے گئے الفاظ   ’’تم اس رشتے سے آزاد ہو‘‘سے تیسری طلاق  بھی واقع  ہوگی کیونکہ یہ الفاظ طلاق کے معنی میں   لفظاً صریح ہیں ،لہذا یہ صریح رجعی ہوگی  اور طلاقِ بائن  اور صریح دونوں کے بعد صریح  رجعی واقع  ہوجاتی ہے ۔

مذکورہ تفصیل کی روشنی میں موجودہ صورتحال میں میاں بیوی   ایک دوسرے کے لئے حلال نہیں رہے،رجوع کی بھی کوئی گنجائش  نہیں ،نہ ہی دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں ۔البتہ اگر اتفاقاً ایساہوکہ طلاق کے بعد تین ماہواریاں مکمل گزرجائیں،اس کے بعد بیوی دوسری جگہ شادی کرلے ،اس میں ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دینے کی شرط نہ لگائی جائے ،پھر ہمبستری کے بعد دوسرا شوہر از خود طلاق دے یا فوت ہوجائے تو عدت گزارنے کے بعد پہلے شوہر کے ساتھ نئے مہر  کے ساتھ  نئے سرے سےنکاح کرنا جائز ہے

حوالہ جات

القرآن الکریم(سورۃ البقرہ:230):

فَإِنْ طَلَّقَها فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَها فَلا جُناحَ عَلَيْهِما أَنْ يَتَراجَعا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيما حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُها لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ.

مسند أحمد مخرجا (41/ 195):

24651 - حدثنا عفان، حدثنا حماد بن سلمة، قال: أخبرنا علي بن زيد، عن أم محمد، عن عائشة، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في رجل طلق امرأته ثلاثا، ثم تزوجها آخر، ثم طلقها من قبل أن يمسها، قال: «لا ينكحها الأول حتى تذوق من عسيلته، ويذوق من عسيلتها» .

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 299):

ولو قال حلال " أيزدبروي " أو حلال الله عليه حرام ،لا حاجة إلى النية، وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن، لأنه المتعارف، ثم فرق بينه وبين سرحتك، فإن سرحتك كناية ،لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح، فإذا قال :" رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي، مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق، وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 306):

(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح .فمنه الطلاق الثلاث فيلحقهما، وكذا الطلاق على مال فيلحق الرجعي ويجب المال، والبائن ولا يلزم المال كما في الخلاصة فالمعتبر فيه اللفظ لا المعنى على المشهور.(لا) يلحق البائن (البائن).

(رد المحتار)

وأما الكناية الرواجع كاعتدي واستبرئي رحمك وأنت واحدة وما ألحق بها فإنها وإن كانت تلحق البائن في ظاهر الرواية بشرط النية لكنها لما وقع بها الرجعي كانت في معنى الصريح كما في البدائع: أي فهي ملحقة بالصريح في حكم اللحاق للبائن، أفاده في البحر.

وقال في المنح: إن صحة هذه الألفاظ بالإضمار؛ فإن معنى قوله أنت واحدة أنت طالق طلقة واحدة فيصير الحكم للصريح، لكن لا بد من النية ليثبت هذا المضمر اهـ فأفاد وجه كونها في حكم الصريح وهو كونه مضمرا فيها وأن الإيقاع إنما هو به لا بها نفسها لكن ثبوته مضمرا توقف على النية وبعد ثبوته بالنية لا يحتاج إلى نية. قال ح: ولا يرد أنت علي حرام على المفتى به من عدم توقفه على النية مع أنه لا يلحق البائن، ولا يلحق البائن لكونه بائنا لما أن عدم توقفه على النية أمر عرض له لا بحسب أصل وضعه. اهـ. (قوله بائنا كان الواقع به أو رجعيا) يؤيده ما قدمناه في أول فصل الصريح عن البدائع من أن الصريح نوعان: صريح رجعي، وصريح بائن، وحينئذ  فيدخل فيه الطلاق الرجعي والطلاق على مال.

الفتاوى الهندية (1/ 379):

والأصل الذي عليه الفتوى في زماننا هذا في الطلاق بالفارسية أنه إذا كان فيها لفظ لا يستعمل إلا في الطلاق فذلك اللفظ صريح يقع به الطلاق من غير نية إذا أضيف إلى المرأة وما كان بالفارسية من الألفاظ ما يستعمل في الطلاق وفي غيره فهو من كنايات الفارسية فيكون حكمه حكم كنايات العربية في جميع الأحكام كذا في البدائع. إذا قال الرجل لامرأته: بهشتم ترا اززني فاعلم بأن هذه اللفظة استعملها أهل خراسان وأهل عراق في الطلاق وأنها صريحة عند أبي يوسف - رحمه الله تعالى - حتى كان الواقع بها رجعيا ويقع بدون النية. وفي الخلاصة وبه أخذ الفقيه أبو الليث وفي التفريد وعليه الفتوى كذا في التتارخانية.

عبدالعلی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

03/ ربیع الاول /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالعلی بن عبدالمتین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب