| 84815 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
(1)۔۔۔ ہم پانچ بہنیں اور دو بھائی ہیں، والدین بھی حیات ہیں۔ میری رہائش بیرون ملک تھی۔ 2010ء میں مجھے پتا چلا کہ میری بہن نے جان بوجھ کر قادیانی شخص سے شادی کی ہے۔ میں نے اس بات پر زور دیا کہ والد صاحب میری بہن فریحہ کو گھر لے کر آئے اور یہ رشتہ ختم کرے، مگر وہ دونوں (والد صاحب اور بہن فریحہ) نہیں مانے، بہر حال میں واپس چلی گئی، پھر ڈیڑھ سال بعد وہ رشتہ ختم ہوا۔ 2021ء میں میں کراچی آگئی تو والدین اور بہن بھائیوں نے کسی قسم کا تعلق رکھنے سے منع کردیا اور اب تین سال سے ان سے کوئی رابطہ نہیں۔ 2021ء میں جب میں کراچی آئی تو مجھ سے ملنے کوئی نہیں آیا، لیکن میں والدین کے پاس گئی اور والدہ سے پوچھا کہ کیوں کوئی مجھ سے ملنے نہیں آیا تو والدہ نے بتایا وہ آپ سے ملنا نہیں چاہتے، پھر میں نے ایک دن سب بہنوں کو والدہ کے گھر پکڑ لیا اور پوچھا کہ بتائیں کیا بات ہے؟ آپ فون کیوں نہیں اٹھاتیں اور ملنا کیوں نہیں چاہتیں تو سب کا شکوہ 2010ء کی بات پر تھا اور سب فریحہ کا ساتھ دے رہے تھے۔ میں نے حدیث کے حوالے دئیے اور بتایا کہ برائے نام تعلق رکھیں، لیکن قطع رحمی بہت بڑا گناہ ہے، اس کے باوجود وہ نہیں مانتے اور میرا سوشل بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔
والد صاحب نے 2010ء سے فون پر کوئی رابطہ نہیں کیا، مگر میں صلہ رحمی کے لیے برابر فون کر کے خیریت معلوم کرتی رہی، جبکہ 2021ء میں والد صاحب نے تمام بہن بھائیوں کو میرا بائیکاٹ کرنے کا کہا۔ میں چھ یا آٹھ مہینے میں والد صاحب کی عیادت کے لیے چلی جاتی تھی، مگر والدہ کو میرا آنا پسند نہیں تھا، وہ میرے بھائی اور بہن فریحہ کو بلالیتی اور وہ دونوں مجھے گھر سے نکلنے کا کہتے، اس طرح تین دفعہ انہوں نے مجھے گھر سے نکالا، پندرہ پولیس کو بھی بلایا کہ وہ مجھے گھر سے نکال دیں، گالیاں اور دھمکیاں بھی دی گئیں۔ میں نے رشتہ داروں سے بھی کہا کہ میرے والدین اور بہن بھائیوں کو سمجھائیں، لیکن انہوں نے بھی کچھ نہیں کیا۔ میرے والدین میرے بچوں کے ساتھ بھی ناروا سلوک کرتے ہیں، حالانکہ ان کا کوئی قصور نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کا یہ رویہ میرے اور میرے بچوں کی حق تلفی ہے یا نہیں؟ میری ہر قسم کوششوں کے باوجود جب وہ نہیں مانتے تو قطع رحمی کا وبال کس کے سر ہوگا؟
(2)۔۔۔ میرے والد اور بہن فریحہ اس شخص کو مسلمان سمجھتے ہیں، فریحہ اب بھی اس سے محبت کرتی ہے اور کہتی ہے کہ ان کے ساتھ بہت اچھی زندگی گزری، آپ نے میری زندگی برباد کی۔ والد صاحب کلمہ پڑھ کر اس کے مسلمان ہونے کی گواہی دیتے ہیں، مجھ سے بھی کہا کہ میں انہیں مسلمان مان لوں، تاکہ فریحہ کا بیٹا حلال ہوجائے، میں نے انکار کیا اور کہا کہ میں اسے قادیانی ہی سمجھوں گی؛ کیونکہ اس نے میرے سامنے قادیانی ہونے کا اقرار کیا تھا۔ والد صاحب اور فریحہ کے لیے شرعی حکم کیا ہے؟ اگر اس حالت میں والد صاحب کی موت ہوجائے تو کیا ان کا خاتمہ ایمان پر ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(1)۔۔۔ اگر سوال میں ذکر کردہ تفصیل درست ہے تو آپ کے والدین اور بہن بھائیوں کے لیے آپ سے اور آپ کے بچوں سے قطع تعلقی کرنا جائز نہیں، احادیث میں صلہ رحمی کی بہت تاکید آئی ہے اور قطع رحمی پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔ اگر وہ آپ کی کوششوں کے باوجود آپ سے تعلق نہیں رکھتے تو آپ کو قطع رحمی کا گناہ نہیں ہوگا، البتہ آپ آئندہ بھی ہر قسم کی سختی اور لڑائی سے دور رہتے ہوئے حکمت اور نرمی کے ساتھ ان سے تعلق قائم رکھنے کی کوشش کرتی رہیں۔
(2)۔۔۔ اس حوالے سے کوئی جواب تب ہی دیا جاسکتا ہے جب آپ کے والد صاحب اور بہن کا موقف بھی ہمارے سامنے آجائے۔
حوالہ جات
صحيح مسلم (4/ 1980):
عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله خلق الخلق حتى إذا فرغ منهم قامت الرحم فقالت: هذا مقام العائذ من القطيعة، قال: نعم ! أما ترضين أن أصل من وصلك وأقطع من قطعك قالت بلى قال فذاك لك ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اقرؤوا إن شئتم ! "فهل عسيتم إن توليتم أن تفسدوا في الأرض وتقطعوا أرحامكم أولئك الذين لعنهم الله فأصمهم وأعمى أبصارهم أفلا يتدبرون القرآن أم على قلوب أقفالها".
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
3/ ربیع الاول/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


