| 84814 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
مورخہ دو جنوری2024ءکو سائل سید احمد رضا ثاقب اور فریق دوم ملک یامین کے مابین تحریری معاہدہ سائل کی فیکٹری الجیون ٹریڈرز واقع پلاٹ نمبر c181 سیکٹر6 بی نارتھ کراچی انڈسٹریل ایریاگارمنٹ ہوزری کے آرڈر بنانے کے لیے ہر دو حصہ نفع ونقصان برابرکی بنیاد پر ہوا، کام دونوں فریقین نے کرنا تھا، سرمایہ کے طور پرسائل کی فیکٹری(مشینوں) کی مالیت یعنی قیمتِ خرید تقریبا بیس لاکھ روپے تھی، اس کے علاوہ نقد سرمایہ کچھ نہیں لگایا، جبکہ فریقِ دوم نےٹوٹل مبلغ چھیاسی لاکھ روپے انویسٹمنٹ کیے۔
فریق دوم کی انویسٹمنٹ کے بعد فریق دوم نے جنرل مینیجر ماسٹر ذوالفقار کو جو کہ ایک لاکھ ماہانہ پر تھے، ہٹا دیا اور عباس نامی انچارج جو کہ تیس ہزار سیلری پر تھا اس کو ہٹا دیا اور 25 ہزار پر اپنے رشتے داراشفاق نامی شخص کو رکھا، دورانِ پروڈکشن سپروائزر اور انچارج نہ ہونے کی وجہ سے مال میں مسائل آئے، ریب ڈسکلر(کپڑے کا باڈرخراب ہونا) لگ گئی، جس کی وجہ سے 50 فیصد مال واپس آگیا، فریقِ دوم نے مارچ 2024ءمیں پروڈکشن بند کروا دی، مئی 2024 میں فریق دوم نے فیکٹری سی ون 8ون سے پلاٹ نمبر بی65 پر شفٹ کرادی اور کرائے کا معاہدہ دھوکہ دہی سے اپنے نام کرا لیا اور اپنے چوکیدار بٹھا دیے،سائل کی مشینوں اور مال پر قبضہ کر لیا، اگست 2024ء میں سائل نے تھانے میں درخواست دے کر مشینیں اور مال واگزار کرایا۔
مال خراب ہونے اورپانچ ماہ فیکٹری بند ہونے کی وجہ سے 27 لاکھ 72 ہزار 72 روپے کا نقصان ہوا، فریقِ دوم کا کہنا ہے کہ مجھے 86 لاکھ روپے پورے ادا کریں یا میرے حصہ سے 35 فیصد نقصان کاٹیں، جبکہ کل ستائیس لاکھ نقصان ہوا، نصف کے حساب سے ساڑھے تیرہ لاکھ روپیہ ان کے حصے میں آتا ہے۔ اس کے علاوہ فریق اول کی فیکٹری بند ہونے کے بعد مشینوں اور سامان کی قیمت فروخت صرف آٹھ لاکھ روپے رہ گئی ہے، اس میں فریق اول کومزید12 لاکھ کا نقصان ہو رہا ہے،بعدازاں علاقے کے معززین بلائے گئے اور اس معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی گئی، مگر وہ کوشش ناکام ہوئی اور انہوں نے کہا کہ فتوی لے لیں، لہذا شرعی اعتبار سے رہنمائی فرمائی جائے اور فتوی جاری کیا جائے کہ کون کتنے نقصان کا ضامن ہو گا؟
وضاحت: سائل نے بتایا کہ سپروائزر اور انچارج کو تبدیل کرتے وقت میں خاموش رہا، میرے ذہن میں یہ تھا کہ شاید ان کو تبدیل کرنے اور نیا آدمی رکھنے سے فائدہ ہو جائے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق ایک فریق کی طرف سے فیکٹری یعنی مشینیں اور دوسرے فریق کی طرف سے چھیاسی لاکھ روپے سرمایہ لگاتھا اور یہ فقہی اعتبار سے شرکت بالعروض (سامان) ہے، حنفیہ کے نزدیک ایسی شرکت جائز نہیں، کیونکہ حنفیہ کے نزدیک دونوں طرف سے سرمایہ نقدی کی صورت میں ہونا ضروری ہے، البتہ حضراتِ حنابلہ کے نزدیک ایسی شرکت کی اجازت ہے اور ضرورت کے وقت ان کے مسلک پر عمل کرنے کی گنجائش ہے، پھر شرکت کا اصول یہ ہے کہ فریقین کے درمیان نفع طے شدہ تناسب سے تقسیم ہوتا ہے اور نقصان کی صورت میں ہر فریق اپنے سرمایہ کے تناسب سے برداشت کرتا ہے، اگر معاہدہ کے وقت اس کے علاوہ کسی اور تناسب سے نقصان برداشت کرنا طے کیا گیا ہو تو شرعاً اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ دوسری بات یہ کہ شرکت میں ہر شریک دوسرے کی طرف سے کام کا وکیل ہوتا ہے اور اصولی اعتبار سے وکیل امین ہوتا ہے، جو تعدی اور کوتاہی کے علاوہ نقصان کا ضامن نہیں ہوتا، لیکن اگر اس کی کوتاہی اور تعدی کی وجہ سے نقصان ہو تو اس صورت میں وہ اپنی کوتاہی اورتعدی کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا ذمہ دار ہو گا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں جب فریقِ دوم نے سپروائزر اور انچارج کو فارغ کر کے نئے شخص کو کام پر لگایا اور اس وقت آپ اس وجہ سے خاموش رہے کہ شاید نیا آدمی رکھنے سے فائدہ ہو جائے تو یہ آپ کی طرف سے بھی رضامندی پائی گئی، لہذا اب یہ نقصان دونوں فریق اپنے سرمایہ کے تناسب سے برداشت کریں گے اور اس میں آپ کی مشینوں کی قیمت میں بارہ لاکھ روپے کی جو کمی واقع ہوئی وہ بھی مشترکہ کاروبار کا نقصان شمار ہو گا، اس طرح کل نقصان 39 لاکھ 72 ہزار 72 روپے ہوا، جبکہ کل سرمایہ ایک کروڑ چھ لاکھ روپیہ(Rs.1,0672072) تھا، اب یہ نقصان دونوں فریق شریعت کے اصول کے مطابق اپنے سرمایہ کے تناسب سے برداشت کریں گے اور اس حساب سے فریقِ اول تقریباً پونے انیس فیصد (18.867%) یعنی سات لاکھ انچاس ہزار چار سو سینتالیس روپے (Rs.7,49447.547) اور فریقِ ثانی تقریباً اکیاسی فیصد (81.132%) یعنی بتیس لاکھ بائیس ہزار چھ سو چوبیس روپے (Rs.32,22,624.452) نقصان برداشت کرے گا۔
حوالہ جات
المغني لابن قدامة (5/ 14) مكتبة القاهرة:
ويحتمل جواز الشركة بها على كل حال، نافقة كانت أو غير نافقة، بناء على جواز الشركة بالعروض. ووجه الأول، أنها تنفق مرة وتكسد أخرى، فأشبهت العروض، فإذا قلنا بصحة الشركة بها، فإنها إن كانت نافقة كان رأس المال مثلها، وإن كانت كاسدة، كانت قيمتها كالعروض.
الشرح الكبير على المقنع لابن قدامة المقدسي (المتوفى: 682 هـ) ت التركي (14/ 16) الناشر: هجر للطباعة والنشر والتوزيع والإعلان، القاهرة:
ولا تصح الشركة بالفلوس. وبه قال أبو حنيفة، والشافعي، وابن القاسم صاحب مالك. ويتخرج الجواز إذا كانت نافقة، فإن أحمد قال: لا أرى السلم في الفلوس؛ لأنه يشبه الصرف. وهذا قول محمد بن الحسن، وأبي ثور؛ لأنها ثمن، فأشبهت الدراهم والدنانير. وفيه وجه آخر، أن الشركة تجوز بها على كل حال وإن لم تكن نافقة؛ بناء على جواز الشركة بالعروض. ووجه الأول أنها تنفق مرة وتكسد أخرى، فأشبهت العروض، فإذا قلنا بصحة الشركة بها فإنها إن كانت نافقة كان رأس المال مثلها، وإن كانت كاسدة كانت قيمتها كالعروض.
الإرشاد إلى سبيل الرشاد (ص: 223) مؤسسة الرسالة:
وإن اكتريا أرضا من غيرهما واشتركا في زراعتها, على أن البذر من أحدهما والعمل على الآخر, لم يجز, وكان الريع لصاحب البذر, وللعامل أجرة مثله في الأظهر من القول عنه. وقيل عنه: يجوز ذلك. وهذا من قوله مبني على جواز الشركة بالعروض.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 310) دار الفكر-بيروت:
"(وصحت بعرض) هو المتاع غير النقدين ويحرك قاموس (إن باع كل منهما نصف عرضه بنصف عرض الآخر ثم عقداها) مفاوضة أو عنانا، وهذه حيلة لصحتها بالعروض وهذا إن تساويا قيمة، وإن تفاوتا باع صاحب الأقل بقدر ما تثبت به الشركة ابن كمال، فقوله بنصف عرض الآخر اتفاقي.
المبسوط للسرخسي (11/ 158) دار المعرفة – بيروت:
(وإن) اشترطا الربح نصفين، والوضيعة على رأس المال، والعمل عليهما: جاز ذلك.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
3/ربیع الاول 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


