03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک بیوہ،ایک بیٹی اور دو بیٹوں میں تقسیمِ میراث
84846میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

 میرے والد کا انتقال نومبر 2022 کو ہوا ،انہوں نے پسماندگان میں ایک بیوہ، ایک بیٹی اوردو بیٹے چھوڑے،جبکہ ترکےمیں کچھ رقم،سامان،اور ایک گھر چھوڑا جو انہوں نے اپنے وسائل سے خریدا تھا، اب خاندان والے گھر بیچ کر رقم تقسیم کرنا چاہتے ہیں، برائے کرم رہنمائی کریں کہ وراثت کے حصوں  کا حساب کیسے کیا جائے گا؟

 تنقیح: استفسار پر سائل نے وضاحت کی کہ مرحوم  کی وفات کے وقت یہی ورثہ موجود تھےجو اب بھی زندہ ہیں،ان کے علاوہ اور کوئی وارث نہیں ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں مرحوم نے جو کچھ رقم، چھوٹابڑا سازوسامان اور جائیداد چھوڑی،اس میں سے  پہلے مرحوم کی تجہیز وتکفین کےمعتدل اخراجات (اگركسی وارث نے یہ  بطورتبرع اپنے ذمے نہ لیے ہوں( نکالےجائیں ،پھر اگر مرحوم کے ذمہ کسی کاقرض ہو (بیوی کا مہرادا نہ کیا ہوتو وہ بھی دَین یعنی قرض میں شامل ہے) تووہ  ادا کیا جائے ،پھر اگرمرحوم نے کسی غیروارث کے لئےکوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد  تک اس کے مطابق عمل کیا جائے،اس کےبعدجوترکہ  بچ جائے اس کومرحوم کےانتقال کےوقت موجودورثہ ( ایک بیوہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی)میں تقسیم کیاجائےگا۔

تقسیم کاطریقہ یہ ہوگاکہ مرحوم کےکل ترکہ یعنی رقم،سازوسامان اور گھر کی قیمت  کو ملا کرسب کے 40 حصے بنائیں جائیں،ان میں سے 5حصے بیوہ کو،7حصے  بیٹی کو،اور دونوں بیٹوں کے مجموعی 28حصوں میں سے ہر بیٹے کو  14حصے ملیں گے،جبکہ فیصدی اعتبار سے بیوہ کا 12.5%،  بیٹی کا17.5% اور ہرایک  بیٹے کا  35%حصہ ہوگا۔ذیل میں تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ ہو:

نمبر

شمار

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیوہ

5

12.5%

2

بیٹی

7

17.5%

3

بیٹا

14

35%

4

بیٹا

14

35%

                                                                                                                                        

حوالہ جات

محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 5/ربیع الاول/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب