| 84843 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | کئی لوگوں کو مشترکہ طور پرکوئی چیز ہبہ کرنے کا بیان |
سوال
میرا نام فاخرہ ہےجاوید ہے اور میں یہ مسئلہ معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ میرے سسر نے اپنی حیات میں اپنی تمام اولاد میں چیزیں گفٹ کی تھیں اور جن کو اس وقت تک نہ دے سکے، ان کے بارے میں میری ساس مرحومہ کو وصیت کر گئے تھے اور میری ساس مرحومہ نے اپنی زندگی میں ہی وصیت کے مطابق باقی ورثاء کو دے دیا۔ اسکی تفصیل یہ ہے کہ میرے سسر نے اپنی زندی میں بیٹوں کو دکانیں اور پلاٹ دیے تھے، جس میں سے میرے شوہر جاوید اکرام کو 11-B کا ایک مکان دیا۔ کیونکہ میرے شوہر سسر کے کنسٹرکشن کے امور بھی دیکھتے تھے تو یہ مکان سسر صاحب کے پیسوں سے خریدا گیا اور مزید اس پر کنشٹرکشن بھی سسر صاحب کے پیسوں سے ہوئی۔ جس وقت یہ مکان خریدا گیا اس وقت اس کی مالیت/=225000 روپے تھی اور یہ محض اس لیے خریدا گیا تھا کہ اسے مزید بنا کرفروخت کریں گے۔ لیکن جب تعمیرات مکمل ہوگئیں تو ساس صاحبہ کے اصرار پر اس گھر کو فروخت نہیں کیا گیا، اور سسر صاحب نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ گھر جاوید(میرے شوہر) کو دے دیا جائے، لیکن ان کی بجائے میرے نام پر کیا، تاکہ میرے شوہر اسے فروخت نہ کردیں۔ البتہ ساتھ ہی ایک شرط یہ بھی رکھ دی کہ جب تک ساس صاحبہ حیات ہیں اس کا کرایہ وہ اٹھائیں گی اور یہ تمام باتیں میرے شوہر کے تمام بہن بھائی رشتہ دار جانتے بھی تھے اور مانتے بھی تھے۔
پھر سن2000ء میں میرے سسر صاحب کا انتقال ہوگیا اور چونکہ مکان بیچنے کی غرض سے سسر صاحب کی پاور پر لیا گیا تھا اس لیے ان کے انتقال کے بعد پاور بیک ہوگئی، یعنی اس کے مالکانہ حقوق پہلے مالک کے پاس چلے گے، اس کے بعد سب کے باہمی مشورے سے سسر صاحب کے فیصلےکے مطابق جہاں دیگر چیزیں اور ورثا کے نام ہویئں وہاں یہ گھر میرے نام کردیا گیا۔ اور جس طرح سسر صاحب کی ہدایات تھیں جب تک ساس صاحبہ حیات رہیں اس کا کرایہ انہوں نے ہی اٹھایا اور اس کا دورانیہ تقریبا 20 سال کا عرصہ رہا، جس وقت یہ گھر میرے نام ہوا تب سے میری ساس صاحبہ کے انتقال سے کچھ عرصہ قبل تک نہ کسی کو کوئی اعتراض تھا اور نہ ہی کسی نے اس حوالے سے کبھی کوئی بات کی ۔ اسی ترتیب سے دیگر بیٹوں میں پلاٹ دکانیں وغیرہ نام کی گئیں اور بیٹوں کو سسر صاحب کی وصیت کے مطابق/=150000 روپے ہر بیٹی کو دے دیے گے( بیٹیوں کو یہ رقم فورا نہیں دی گی تھی کچھ عرصے بعد دی گئی تھی) جسے تمام بیٹیوں نے قبول بھی کرلیا تھا۔
جب میری ساس صاحبہ کی طبعیت کافی خراب ہوگئی تو اس وقت میری ایک نند کے حالات کافی خراب تھے، جن کے لیے دیگر بہنوں نے میرے شوہر سے بات کی کہ ان کو کچھ رقم دے دی جائے، جس پر میرے شوہر نے فوراآمادگی کا اظہار کیا، لیکن ان بہنوں کی طرف سے یہ مطالبہ آیا کہ آپ لکھ کر دیں کہ آپ کتنی رقم انہیں دیں گے ؟ جس پر میرے شوہر نے بتایا کہ میں انہیں جتنی بھی رقم دینا چاہوں دوں اس پر آپ لوگوں کا لکھ کر دینے کا اصرار کیوں ہے؟ وہ میری چھوٹی بہن ہے اور میں ہمیشہ اس کے ساتھ کھڑاہوں۔ جس کے بعد میری ان نندوں نے پہلے اس پرجھگڑا شروع کیا اور آہستہ آہستہ اسے وراثت کا مسئلہ بنا نا شروع کردیا، جس پر ساس صاحبہ نے بھی اپنی آخری عمر میں متعدد بار نکیر کی اور متعدد مجالس میں مختلف لوگوں کو واضح طور پر گواہ بنا کر کہا کہ یہ گھر جاوید کا ہے اور یہ بہنیں غلط کر رہی ہیں اور ان تمام بیٹیوں کو ان کا حق دیا جاچکا ہے۔
اس موضوع پر میرے شوہر نے متعدد بار مجلس بٹھانے کی کوشش کی تو ان لوگوں نے بات کرنے کی بجائے لڑجھگڑ کر بات ختم کردی ،حتی کہ خاندان کے بڑوں کی بھی نہ سنی، جس کے باعث کبھی اس موضوع پر بات نہ ہوسکی۔ پھر میرے شوہر نے ہر بہن سے الگ الگ بات کی تو ایک بہن نے یہاں تک کہا کہ آپ بالکل درست کہہ رہے ہیں، البتہ میں آپ کی گواہ نہیں بن سکتی ورنہ یہ بہنیں میرا بائیکاٹ کردیں گی۔
اس معاملے کے حل کے لیے میرے شوہر نے یہاں تک کہا کہ اگر آپ کو رقم چاہیے تو میں رقم بطور ہدیہ دینے کو تیار ہوں، لیکن آپ کا مجھ پر وراثت کا مال دبانے کا الزام کسی بھی طور پر قبول نہیں اور نہ اس میں بناء پر میں آپ کو رقم دوں گا۔ ابھی حال ہی میں میرے شوہر کا سفر ہوا تو اس میں بھی میرے شوہرنے رشتہ داروںمیں یہ معاملہ لے گئے کہ اسے حل ہونا چاہیےاور دوران سفر میرے شوہرکا انتقال ہوگیا، رابطہ کرنے پر جن لوگوں کے پاس میرے شوہر ٹھہرے تھے، انہوں نے بتایا کہ آپ کے شوہر نے ہم سے اصرار کیا اور وعدہ لیا کہ اس مسئلے کو حل کریں گے، گواہی دیں گے اور میرے شوہر سے وراثت دبانے کا الزام ہٹوائیں گے۔ میرے شوہر کا ابھی حال ہی میں انتقال ہوا ہے اور میں ابھی عدت میں ہوں۔سوالات درج ذیل ہیں:
- کیا یہ گھر میرے سسر کی وراثت ہے یا میرے شوہر کی وراثت ہے؟
- کیا اس گھر میں سسر کی دیگر اولاد کا حق ہے؟ جبکہ وہ سب اپنا حق کچھ سسر کی زندگی میں اور کچھ ان کی وفات کے بعد لے چکے ہیں۔
وضاحت: سائلہ نے فون پر بتایا کہ سسر کی زندگی میں یہ مکان کرایہ پر دیا گیا تھا اور اسی وقت سے کرایہ ساس صاحبہ لے رہی تھیں، زندگی میں میرے شوہر کے نام کرایہ کا ایگریمنٹ نہیں بنا، سسر کے انتقال کے بعد بھی اپنی وفات تک اس مکان کا کرایہ ساس ہی لیتی رہیں، البتہ وہ یہ کہتی تھیں کہ یہ مکان جاوید کا ہے۔اب ان کا بھی اتقال ہو چکا ہے، نیزہم نے کبھی ان سے کرایہ نہیں مانگا، میرے شوہر کرایہ دار سے کرایہ لے کر ان کی حسبِ منشاء خرچ کرتے تھے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
- والدین اپنی زندگی میں اپنی جائیداد میں سے جو کچھ اپنی اولاد کو دیتے ہیں ،اس کی حیثیت ہبہ (گفٹ) کی ہوتی ہے،اور ہبہ میں قبضہ پائے جانے کے بعد ہی موہوب لہ (جس کو ہبہ کیا گیاہے) کی ملکیت ثابت ہوتی ہے،اور اگر قبضہ نہ پایا جائے تو وہ چیز واہب(ہبہ کرنے والے ) ہی کی ملکیت میں رہتی ہے،لہذاسوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال کے مطابق آپ کے سسر نے زندگی میں آپ کے شوہر کو اس مکان کا باقاعدہ قبضہ نہیں دیا تھا،کیونکہ وہ مکان اس وقت سے کرایہ پر تھا اور آپ کے شوہر کو دینے کے بعد ان کے نام کرایہ کا ایگریمنٹ نہیں بنایا گیا، بلکہ انہوں نے یہ شرط لگائی کہ تاحیات اس کا کرایہ میری اہلیہ (آپ کی ساس) لیں گی، اس کا مطلب جاوید کو اس مکان کے بیچنے اور دیگر تصرفات کرنے کا مکمل اختیار نہیں دیا گیا تھا، اس لیے یہ مکان آپ کے سسر کی زندگی میں بدستور ان کی ملکیت میں رہا اور ان کی وفات کے بعدان کی وراثت میں شامل ہو کر ان کے ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔
باقی سسر کا یہ کہنا کہ اس کا کرایہ تاحیات میری بیوی لیں گی اس کی شرعی حیثیت وصیت کی ہے اور شریعت کا حکم یہ ہے کہ وارث کے لیے وصیت کا اعتبار نہیں ہے، اس لیے آپ کی ساس صاحبہ کو شرعی اعتبار سے اس مکان کا تاحیات مکمل کرایہ خود لینے کا حق حاصل نہیں تھا، کیونکہ یہ وراثتی مکان تھا، جس میں سب ورثاء کا حق تھا۔ البتہ اب اگر تمام ورثاء اپنی رضامندی سے ان کو کرایہ میں موجود اپنا حق معاف کر دیں تو بہتر ہے، تاکہ ان کو آخرت کے معاملات میں آسانی ہو۔
- جن بیٹوں کو سسر نے اپنی زندگی میں دکان اور پلاٹ وغیرہ ہبہ کر کے ان کا قبضہ بھی دے دیا تھا تو وہ دراصل ان کے حق میں وراثت نہیں، بلکہ عطیہ تھا، اس لیے وہ اس مکان میں اپنے شرعی حصوں کے مطابق حق دار ہوں گے، البتہ ان بیٹوں پر اخلاقی طور پرلازم ہے کہ وہ اپنے والد کی منشاء کے مطابق اس مکان میں سے حصہ نہ لیں، خصوصا جبکہ وہ اپنے والد کی وفات کے بعد ملنے والا اپنا وراثتی حصہ ان کی زندگی میں ہی عطیہ کے طور پر وصول کر چکے ہیں۔ جہاں تک ان بیٹیوں کا تعلق ہے جن کو سسر کی وفات کے بعد آپ کی ساس نے حصہ دیا ہے تو انہوں نے اپنا وراثتی حصہ وصول کیا ہے، لہذا اگر ان کو ملنے والا حصہ سسر کی مکمل جائیداد (اس مکان سمیت) اور نقدی وغیرہ میں موجود حصہ کے مطابق ملاہے تو اب ان کا اس مکان میں کوئی حصہ نہیں ہے، لیکن اگر ان کو ان کے وراثتی حصہ سے کم دیا گیا ہے تو وہ اپنا شرعی حصہ لینے کی حق دار ہیں۔
حوالہ جات
رد المحتار:(کتاب الھبة، 690/5،ط : سعید):
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه وسلمها كذلك لاتصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن وصدقة؛ لأن القبض شرط تمامها .
رد المحتار: (كتاب الهبة،691/5،ط:سعيد):
"وفي الأشباه: هبة المشغول لا تجوز إلا إذا وهب الأب لطفله.قلت: وكذا الدار المعارة. (قوله: المعارة) أي لو وهب طفله دارا يسكن فيها قوم بغير أجر جاز ويصير قابضا لابنه، لا لو كان بأجر كذا نقل عن الخانية."
الموسوعة الفقهية الكويتية (45/ 200) دارالسلاسل – الكويت:
هبة الأب لولده شيئا مشغولا:
نص الحنفية على أن هبة المشغول لا تجوز، كأن وهب الأب لطفله دارا والأب يسكنها أو له فيها متاع، لأنها مشغولة بمتاع القابض. وفي الخانية عن أبي حنيفة في المجرد تجوز، ويصير قابضا لابنه. وتصح كذلك هبة الدار المعارة، فلو وهب طفله دارا يسكن فيها قوم بغير أجر جاز، ويصير قابضا لابنه أما لو كان بأجر فلا يجوز.
السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:
وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
4/ربیع الاول 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


