| 84834 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص کا انتقال ہوا، اس کے ورثاء میں ایک بیوہ، تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، اس کا ترکہ ایک لاکھ پجھتر ہزار روپیہ ہے، سوال یہ ہے کہ یہ ترکہ ان ورثاء میں کس طرح تقسیم ہو گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جو کچھ ساز وسامان چھوڑا ہے اور مرحوم کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب الادء ہو، يہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالنے،مرحوم کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور کل ترکہ کے ایک تہائی(3/1) تک جائز وصیت (اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو) پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے، اس میں سے آٹھواں حصہ مرحوم کی بیوی کا اور باقی ان کےبیٹے اور بیٹیوں میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دوگنا دیا جائے گا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ مرحوم کے ترکہ سے متعلق مذکورہ بالا پہلے تین حقوق ادا کرنے کے بعد باقی بچنے والے ترکہ کوچونسٹھ(64) حصوں میں برابرتقسیم کرکے مرحوم کی بیوی کو آٹھ (8) حصے ،مرحوم کے ہر بیٹے کو چودہ (14) حصے اور ہر بیٹی کوسات(7) حصے دیے جائیں گے، فيصدی لحاظ سے ہر وارث كے حصہ کی تفصیل ذیل کے نقشہ میں ملاحظہ فرمائیں:
|
نمبر شمار |
وارث |
عددی حصہ |
فيصدی حصہ |
نقدی حصہ |
|
1 |
بیوی(ثمن) |
8 |
12.5% |
21875روپے |
|
2 |
بیٹا(عصبہ) |
14 |
21.875% |
38281.25 روپے |
|
3 |
بیٹا (عصبہ) |
14 |
21.875% |
38281.25 روپے |
|
4 |
بیٹا(عصبہ) |
14 |
21.875% |
38281.25 روپے |
|
5 |
بیٹی(عصبہ) |
7 |
10.937% |
19140.62 روپے |
|
6 |
بیٹی(عصبہ) |
7 |
10.937% |
19140.12 روپے |
|
مجموعہ |
|
64 |
100 |
750001روپے |
حوالہ جات
القرآن الکریم : [النساء:11]
يوصيكم اللَّه في أَولَادكم للذكَر مثل حظ الأنثيينِ.
السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:
وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
5/ربیع الاول 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


