03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ظلم وتشدد اور نان ونفقہ نہ دینے کی بنیاد پر خلع کا حکم
84820طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

  میری چچا زاد بہن کا نکاح دور کے رشتہ داروں میں ہوا، اس کا شوہر بہت فضول قسم کا انسان تھا، تین چار سال کے عرصہ کے دوران اس نے نان ونفقہ بالکل نہیں دیا، یہ بیچاری کپڑے سلائی کر کے اپنا اور اپنے بچے کا گزارا چلاتی تھی، اس کے ساتھ ساتھ شوہر اس کو معمولی باتوں پر مارتا تھا، ایک مرتبہ اتنا مارا کہ اس کا منہ سوجھ گیا تھا، جسم پر نشانات پڑ گئے، لیکن اس  کا بھی ہمیں بالکل پتا نہ چلا، کیونکہ اس نے ہمارے ساتھ کوئی رابطہ نہیں رکھنے دیا تھا، عید پر بھی ملنے نہیں دیتا تھا، اپنے بچے کو بھی مارتا تھا، ایک مرتبہ میرا چھوٹا بھتیجا اس کے گھرگیا تو اس نے آکر ہمیں بتایا، اس پر ہمیں بھی بہت غصہ آیا، چنانچہ اس کی فوٹو لے کر نواب کے پاس گئے، اس نے کوئی خاص ایکشن نہ لیا، پھر ہم عدالت گئے، عدالت نے سارے ثبوت دیکھے اور شوہر کو بلایا اور شوہر سے کہا کہ اپنے بچے کو اٹھاؤ اور بوسہ دو توجیسے وہ بچے کے پاس گیا تو بچہ رونے اور چیخنے لگا، جج نے اسی وقت طلاق کا فیصلہ جاری کردیا، پھر ہم نواب کے پاس آئے، اس نے بھی اس فیصلے کو تسلیم کیا، مگر اس نے کہا، یہاں کے علماء عدالت کے اس طرح کے فیصلے کو نہیں مانتے، آپ کہیں سے فتوی لے آؤ، کیونکہ ابھی تک شوہر نے اس پر دستخط نہیں کیے اور نہ ہی وہ طلاق دینے کے لیے تیار ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ عدالتی فیصلہ معتبر ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں اگر اس مدعیہ خاتون کی طرف سے  شوہر کے ظلم وتشدد کرنےیانان ونفقہ نہ دینےپر ثبوت کے لیے عدالت میں دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی  زبانی یا تحریری گواہی ثبوت کے طور پر پیش کی گئی تھی یا ایک گواہ کے ساتھ مدعیہ سے حلفیہ بیان لیا گیا ہو  اور عدالت نے اس ثبوت کی بنیاد پرفریقین کے درمیان فسخِ نکاح (خلع کی بنیاد پر کیا گیا فیصلہ بھی فسخ کے حکم میں ہو گا) کا فیصلہ کیا تو اس صورت میں عدالت کا یہ فیصلہ شرعاً معتبر اور نافذ ہے اور فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو چکا ہے، لہذا فیصلہ جاری ہونے کی تاریخ سے عورت کی عدت شروع ہو چکی ہے، عدت مکمل ہونے کے بعد وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔

لیکن اگرمدعیہ نے اپنا دعوی عدالت میں مذکورہ بالا طریقے پر شرعی گواہوں سے ثابت نہ کیا ہو تو اس صورت

میں اس عدالتی فیصلے کی کوئی شرعی حیثیت نہیں، اس خاتون کو چاہیے کہ اس عدالت یا کسی دوسری عدالت میں اپنا مذکورہ دعوی شرعی گواہوں سے ثابت کرے، اس کے بعد اگر عدالت خلع سے فسخ نکاح کا فیصلہ کرے تو وہ فیصلہ شرعا معتبر ہو گا۔

حوالہ جات

المختصر الفقهي لابن عرفة (4/ 103) محمد بن محمد ابن عرفة المالكي، أبو عبد الله (المتوفى: 803 ھ) مؤسسة خلف أحمد الخبتور للأعمال الخيرية:

وخامسها لا يجوز في ضرب الزوج سماع النساء إلا مه رجال، للمتيطي عن ابن القاسم: لا يجوز في غير النكاح والنسب والموت وولاية القضاة، والمتيطي عن ظاهر قول ابن القاسم في الموازية وحسين بن عاصم عنه وسماع ابن وهب، وعلى المشهور في رجوع المرأة بخلعها بشهادة رجلين بالسماع۔

مجلة الأحكام العدلية (ص: 372) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

المادة (1831) إذا حضر المدعى عليه بالذات إلى مجلس الحكم بعد إقامة البينة في مواجهة وكيله فللقاضي أن يحكم بتلك البينة على المدعى عليه وبالعكس إذا حضر وكيل المدعى عليه المجلس بعد إقامة البينة في مواجهة المدعى عليه فللقاضي أن يحكم بتلك البينة على الوكيل.

مجلة الأحكام العدلية (ص: 352) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

الفصل الأول في بيان الحجج الخطية:

المادة (1736) لا يعمل بالخط والخاتم فقط أما إذا كان سالما من شبهة التزوير والتصنيع فيكون معمولا به أي يكون مدارا للحكم ولا يحتاج للإثبات بوجه آخر.

بداية المجتهد ونهاية المقتصد (4/ 252) دار الحديث – القاهرة:

وأما ثبوت الحق على المدعى عليه بنكوله فإن الفقهاء أيضا اختلفوا في ذلك، فقال مالك، والشافعي وفقهاء أهل الحجاز وطائفة من العراقيين: إذا نكل المدعى عليه لم يجب للمدعي شيء بنفس النكول، إلا أن يحلف المدعي أو يكون له شاهد واحد........... ومن حجة مالك أن الحقوق عنده إنما تثبت بشيئين: إما بيمين وشاهد، وإما بنكول وشاهد، وإما بنكول ويمين.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

5/ربیع الاول 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب