03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رافضی ایم پی اے سے انعام وصول کرنےوالے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کاحکم
84872نماز کا بیانامامت اور جماعت کے احکام

سوال

یافرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ختمِ قرآن کی ایک تقریب میں اسٹیج سیکریٹری نے ایک عالمِ دین، جو کہ امامِ مسجد بھی ہیں، کو ایک شیعہ ایم پی اے کے ہاتھوں تحفہ دلوایا، جبکہ امامِ مسجد اُس محفل میں شیعہ کے آنے سے بے خبر تھے۔ اب ایک اور عالمِ دین یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ جس نے شیعہ کے ہاتھ سے تحفہ لیا، اُس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔ آپ رہنمائی فرمائیں کہ اس امامِ مسجد کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور اگر نماز صحیح ہے تو اس فتویٰ دینے والے کے متعلق کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ختمِ قرآن جیسی مقدس تقریب میں اگرچہ نیک اور اچھی شہرت رکھنے والے لوگوں کو بلانا چاہیے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کسی شیعہ ایم پی اے سے امام نے تحفہ وصول کر لیا تو اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی، خصوصاً جبکہ امام اُس ایم پی اے کے آنے سے بے خبر بھی ہو۔ لہٰذا، فتویٰ لگانے والے مذکورہ عالم کی بات درست نہیں اور تحفہ وصول کرنے والے امام کے پیچھے نماز درست ہے۔

شیعہ سے تحفہ قبول کرنے میں، اگر دین کی بے توقیری نہ ہو، آئندہ اس تحفے کی وجہ سے کسی قسم کا دینی یا ملی نقصان نہ ہو، اور جو چیز ہدیہ میں دی گئی ہو وہ بذاتِ خود جائز اور حلال ہو، تو شیعہ سے تحفہ قبول کیا جا سکتا ہے۔ البتہ ان سے دوستی رکھنا  اور ان کی مذہبی تقریبات میں شرکت کرنا یا اس موقع پران کےساتھ تحفہ تحائف کا لین دین  صحیح  نہیں  ہے۔

حوالہ جات

"فقد روى محمد - رحمه الله تعالى - في السير الكبير أخبارًا متعارضةً في بعضها أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قبل هدايا المشرك، و في بعضها أنه صلى الله عليه وسلم لم يقبل؛ فلا بد من التوفيق، واختلفت عبارة المشايخ رحمهم الله تعالى في وجه التوفيق، فعبارة الفقيه أبي جعفر الهندواني: أن ما روي أنه لم يقبلها محمول على أنه إنما لم يقبلها من شخص غلب على ظن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أنه وقع عند ذلك الشخص أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إنما يقاتلهم طمعًا في المال لا لإعلاء كلمة الله، و لايجوز قبول الهدية من مثل هذا الشخص في زماننا، و ما روي أنه قبلها محمول على أنه قبل من شخص غلب على ظن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أنه وقع عند ذلك الشخص أن رسول الله صلى الله عليه وسلم إنما يقاتلهم لإعزاز الدين و لإعلاء كلمة الله العليا لا لطلب المال، و قبول الهدية من مثل هذا الشخص جائز في زماننا أيضًا، و من المشايخ من وفق من وجه آخر فقال: لم يقبل من شخص علم أنه لو قبل منه لايقلّ صلابته و عزته في حقه و يلين له بسبب قبول الهدية، و قبل من شخص علم أنه لايقل صلابته وعزته في حقه و لايلين بسبب قبول الهدية، كذا في المحيط، لا بأس بأن يكون بين المسلم والذمي معاملة إذا كان مما لا بد منه، كذا في السراجية."(كتاب الكراهية، الباب الرابع عشر في أهل الذمة والأحكام التي تعود إليهم، ٥ / ٣٤٧ - ٣٤٨، ط: دار الفكر)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

03/04/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب