| 84892 | طلاق کے احکام | بچوں کی پرورش کے مسائل |
سوال
چند مسائل میں شرعی رہنمائی درکارہے:
میاں بیوی میں طلاق کے بعد بچی جس کی عمر اس وقت بارہ برس تھی، اپنی نانی کے پاس رہی ،جبکہ بچی کا والد اپنی حیثیت کے مطابق خرچہ دیتا رہا۔ اب بچی چودہ سال کی ہوگئی ہے اور بلوغت کو پُہنچ چکی ہے۔ بچی اپنی والدہ کے پاس جانا اور اُن کے ساتھ رہنا چاہتی ہے، جو کہ شادی کے بعد جرمنی میں مقیم ہیں۔
اس وقت بچی کی legal custody والدین میں سے کسی کے پاس نہیں ہے۔ بچی کو ملک سے باہر جانے کے لیے کورٹ کی طرف سے custody order کی ضرورت ہے۔ جس کے لیے والد پر والدہ اور بچی دونوں کی طرف سے دباؤ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا والد کو بچی کی مرضی کے مطابق جانے دینا چاہیے اور legal custody لکھ کر دے دینا چاہیے یا نہیں؟کیا بچی حیض آنے کے بعد بالغہ ہے؟ اور اپنی مرضی سے والد یا والدہ میں سےکسی کے ساتھ بھی رہنا چاہے تو رہ سکتی ہے؟اور بچی کی کفالت اس کے والد پر کب تک ہے؟
سائل کی طرف سےتنقیح کے بعد یہ امورظاہر ہوئے:
- والدہ کےموجودہ خاوند پہلے کرسچن تھے اور پھر مسلمان ہوئے،ان کے اسلام قبول کرنے کی سند وہاں کی ترکش مسجد سے لی گئی تھی۔ان کے دینی اخلاق کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔
- والدہ کے جرمنی جانے کی وجہ یہ ہے کہ وہ پڑھائی (پی ایچ ڈی) کے لیے جرمنی گئی تھیں۔پاکستان واپس آنے کے بعد میاں بیوی میں اختلاف ہوا اور طلاق ہو گئی۔عدت کے بعد انہوں نے دوبارہ نکاح کیا اور یونیورسٹی کی جاب چھوڑ کر جرمنی سیٹل ہو گئیں۔
- ماں نے جرمنی جانے سے پہلے بچی کو اپنی والدہ کے سپرد کر دیا اس لیے بچی اپنی نانی سے مانوس ہو گئی۔
- اس دوران بچی اپنے والد اور ددھیال کے پاس رہنے آتی اور دوبارہ اسکول وغیرہ کے لیے اپنی نانی کے پاس چلی جاتی۔بچی کی والدہ کا گھر ایک درمیانے درجے کا دیندار گھر ہے۔ اس لیے بچی کا ذہن بھی اسی طرح کا ہے۔ بچی خود کو ایک مسلمان سمجھتی ہے اور حرام حلال کی خبر رکھتی ہے اور بنیادی عقیدے جیسے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کا علم رکھتی ہے لیکن نماز کی پابند نہیں ہے۔
- بچی پاکستان میں نویں کلاس میں پڑھ رہی ہے۔ فی الحال صرف گھومنے کے لیے ماں کے پاس جانا چاہ رہی ہے اور آگے مستقبل میں یونیورسٹی میں پڑھائی کے لیے باہر جانا چاہتی ہے۔ لیکن کیونکہ وہ ایک نابالغ ہے اور والدین میں طلاق ہو چکی ہے اس لیے کورٹ کسٹڈی آرڈر کے سوا وہ نہ تو ملک سے باہر جا سکتی ہے اور نہ ہی پاسپورٹ بنوا سکتی ہے۔
- مسئلہ سارا یہ ہے کہ اگر والد کسٹڈی نہیں دے رہا تو بچی میں ایک بغاوت کا عنصر آتا جا رہا ہے۔ جیسا کہ پہلے بچی والد اور ددھیال سے ملتی رہتی تھی اب اس نے والد سے ملنا اور بات کرنا چھوڑ دیا ہے۔ والد کو خوف ہے کہ اگر وہ بچی پر زبردستی کرے گا تو وہ اسلام سے اور زیادہ باغی ہو جائے گی۔ یہاں تک تو حکمت اور زبردستی سے کام چلایا گیا۔ اب جبکہ بچی اسلامی اعتبار سے بالغ (ماہواری کا سلسلہ جاری ہے) ہے اور اپنی مرضی کرنا چاہ رہی ہے، تو ایسے میں اب والد کو کیا کرنا چاہئے؟
گزارش ہے کہ یہاں شرعی مسئلے سے زیادہ شرعی مشورہ درکار ہے۔ آپ اپنے تجربے سے مفید مشورہ دینی روشنی میں دیں تو مہربانی ہو گی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
- شریعت مطہرہ نے عورت کے بارے میں جو احکام دیے ہیں ان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شریعت عورت کے بارے میں یہ پسند کرتی ہے کہ وہ اپنے گھر سے نہایت مجبوری کے علاوہ نہ نکلے ،چنانچہ حج و عمرہ کے مبارک سفر پر بھی شریعت نے محرم کے ساتھ ہونے کی شرط لگائی ہے،اسی طرح نماز جیسے فریضہ کو ادا کرنے کے لیے بھی عورتوں کا مسجد کی طرف نکلنا ناپسند فرمایا ہے۔ان تمام احکام سے واضح ہوجاتا ہے کہ عورتوں کا گھر سے نکلنا شریعت کی نظر میں اچھا عمل نہیں ہے،اور اسی طرح شریعت نے ایسے ماحول میں جانے سے منع کیا ہے جہاں دینی اعتبار سے نقصان ہونے کا خطرہ ہو،اور یورپ میں عام طور پر دین پر عمل کرنے کی اتنی پابندی نہیں کی جاتی،اس لیے بہتر تو یہ ہے کہ بچی اپنے دین و ایمان کی حفاظت کو مقدم رکھتے ہوئے وہاں نہ جائے ۔البتہ اگر بچی کا اصرار ہوتواگر دینی واخلاقی حالت بگڑنے کا اندیشہ نہ ہو تو اس کے لیے وہاں جانا ٹھیک ہے۔ والد کو چاہیے کہ جب اپنے پاس بھی نہیں رکھ رہا تو اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے بچی کو اپنے پاس نہ رکھے ،بلکہ اسے جانے دے اور لیگل کسٹڈی لکھ کر دے دے ،تاکہ بچی کا والد سے تعلق قائم رہے،اور بچی والد سے متنفر نہ ہو،کیونکہ اگر والد اجازت نہیں دے گا تو ممکن ہے کہ بچی کسی دوسرےقانونی راستوں کے ذریعے اجازت لے لے ،اور بچی اور والد میں دوری ہوجائے۔ بچی کی والدہ سے بھی گزارش کی جائے گی کہ وہ بچی کی دینی واخلاقی اعتبار سے حفاظت اور نگرانی کرتی رہے۔
- بچی حیض آنے سے بالغہ سمجھی جائے گی۔
- والد کے ذمہ بچی کی کفالت اس کی شادی تک رہتی ہے،چاہے بچی والد کے پاس رہے یا والدہ کے پاس رہے۔البتہ اگر وہ بچی خود صاحب مال ہو اور اور نفقہ کی حاجت نہ ہوتو والد کے ذمے خرچ ادا کرنا لازم نہ ہوگا۔تاہم صلہ رحمی کے طور پر ہدایا کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔
حوالہ جات
قال الخجندي: إذا كان للرجل بنت بالغة، وطلبت الانفراد منه ...وأما إذا كانت بكرا فله منعها من الانفراد وإن كانت مأمونة .وإذا اختلف الأم والأب في الولد، لم يخير قبل البلوغ عندنا.
(الجوھرۃ النیرۃ:2/91)
فأما إذا بلغ عاقلا.... والجارية إن كانت ثيبا وهي غير مأمونة على نفسها لا يخلي سبيلها ،ويضمها إلى نفسه .وإن كانت مأمونة على نفسها؛ فلا حق له فيها ويخلي سبيلها ،وتترك حيث أحبت. وإن كانت بكرا لا يخلي سبيلها وإن كانت مأمونة على نفسها؛ لأنها مطمع لكل طامع ،ولم تختبر الرجال فلا يؤمن عليها الخداع.(بدائع الصنائع:3/43)
وإن كانت البالغة بكرا فللأولياء حق الضم، وإن كان لا يخاف عليها الفساد إذا كانت حديثة السن.(الفتاویٰ الھندیۃ:1/542)
إذا تعارض مفسدتان روعي أعظمهما ضررا بارتكاب أخفهما.قال الزيلعي في باب شروط الصلاة: ثم الأصل في جنس هذه المسائل أن من ابتلي ببليتين، وهما متساويتان يأخذ بأيتهما شاء، وإن اختلفا يختار أهونهما؛ لأن مباشرة الحرام لا تجوز إلا للضرورة ولا ضرورة في حق الزيادة.(الأشباہ والنظائر:76)
بلوغ الغلام بالاحتلام أو الإحبال أو الإنزال،والجاريةبالاحتلام أو الحيض أو الحبل، كذا في المختار.)الفتاویٰ الھندیۃ:5/76)
ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال .كذا في الخلاصة.(الفتاویٰ الھندیۃ:1/584)
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
4/ربیع الثانی1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


