03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک ساتھ تین طلاقوں اور عدت کا حکم
84907طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

محمد عابد کی اپنی بیوی سے لڑائی ہوئی، لڑائی کے دوران اس نے اپنی بیوی کو دو مرتبہ کہا کہ آپ کو طلاق ہے، بیوی نے کہا: تیسری مرتبہ بھی کہہ دو؛ تاکہ معاملہ بالکل ختم ہوجائے، اس نے تیسری بھی دے دی۔

سوال یہ ہے کہ اس صورت میں طلاق، عدت اور عدت کے نفقہ کا کیا حکم ہے؟ اگر عورت عدت اپنے گھر میں گزارنا چاہے تو اس کی اجازت ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

تین طلاقیں ایک ساتھ دینا گناہِ کبیرہ ہے جس سے بچنا لازم اور ضروری ہے، لیکن اگر کوئی ایک ساتھ تین طلاقیں دیدے تو تینوں واقع ہوجاتی ہیں، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں محمد عابد کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں اور ان کے درمیان حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہے، اب نہ رجوع ہوسکتا ہے، نہ ہی ان دونوں کے درمیان نکاح۔ مطلقہ عدت (طلاق کے بعد تین مکمل ماہواریاں) گزار کر دوسری جگہ شادی کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔

عدت پردے کے اہتمام کے ساتھ شوہر کے گھر میں گزارنا لازم ہے، والدین کے گھر جانا جائز نہیں، لہٰذا محمد عابد پر لازم ہے کہ اپنی مطلقہ بیوی کو گھر میں الگ کمرہ اور ایسا ماحول دے جس میں وہ پردے کے اہتمام اور سکون کے ساتھ عدت گزار سکے، عدت کا نفقہ بھی اس پر لازم ہوگا۔ اگر محمد عابد عدت گزارنے کے لیے ایسا ماحول فراہم کرتا ہے، لیکن مطلقہ اس کے باوجود وہاں عدت نہیں گزارتی اور بغیر کسی وجہ کے (کہ شوہر اور اس کے گھر والوں کی طرف سےکوئی رکاوٹ اور تکلیف نہ ہو) والدین کے گھر جاتی ہے تو پھر عدت کا نان نفقہ محمد عابد پر لازم نہیں ہوگا، تاہم اگر وہ واپس اس کے گھر آکر عدت وہیں مکمل کرتی ہے تو واپسی کے بعد کا نان نفقہ اس پر لازم ہوگا۔  

حوالہ جات

الدر المختار (3/ 232):

( والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين ) في طهر واحد ( لا رجعة فيه، أو واحدة في طهر وطئت فيه ، أو ) واحدة في ( حيض موطوءة ).

رد المحتار (3/ 232,233):

( قوله والبدعي ) منسوب إلى البدعة والمراد بها هنا المحرمة لتصريحهم بعصيانه بحر. ( قوله ثلاثة متفرقة ) وكذا بكلمة واحدة بالأولى ، وعن الإمامية : لا يقع بلفظ الثلاث ولا في حالة الحيض لأنه بدعة محرمة ….وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث…….( قوله في طهر واحد ) قيد للثلاث والثنتين .

الدر المختار (3/ 611-609):

( و ) تجب ( لمطلقة الرجعي والبائن والفرقة بلا معصية كخيار عتق وبلوغ وتفريق بعدم كفاءة النفقة والسكنى والكسوة ).

حاشية ابن عابدين (3/ 609):

قوله ( وتجب لمطلقة الرجعي والبائن ) كان عليه إبدال المطلقة بالمعتدة؛ لأن النفقة تابعة للعدة، ………. وفي الذخيرة: وتسقط بالنشوز، وتعود بالعود. وأطلق، فشمل الحامل وغيرها، والبائن بثلاث أو أقل، كما في الخانية.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

  4/ربیع الثانی/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب