03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کی قسم کھانے کی صورت میں فضولی کے نکاح کی حیثیت
84941نکاح کا بیاننکاح صحیح اور فاسد کا بیان

سوال

ایک  آدمی  مثلا زیدنے قسم کھا ئی کہ جب بھی میں شادی کروں تو اس لڑکی کو تین طلاق ۔اب  زیدایک  عورت سے شادی کرنا چاہتا تھا،چنانچہ  وہ ایک مفتی صاحب کے پاس گیا اور اپنی قسم کے بارے میں بھی بتایا اور یہ بھی بتایا کہ اب وہ فلاں لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے اور مفتی صاحب سے کہا کہ آپ اس  معاملہ کو حل کرو ۔مفتی صاحب نے فضولی بن کر زید کی غیر موجودگی میں اس کا نکاح اسی لڑکی سے کروادیا ،پھر زید کو کہا کہ "میں نے تمہارا نکاح فلاں لڑکی سے کردیا ہے ،آپ اتنا مہر دے دو " ،زید نے خاموشی سے مہر کے پیسہ مفتی صاحب کو دے دیے ،پھر مفتی صاحب نے پوچھا کہ یہ کس چیز کے پیسہ ہیں ؟تو زید نے کہا "مہر کے  پیسہ ہیں "،مفتی صاحب نے کہا کہ اپنی بیوی کو دے دو ۔زید نے وہ پیسہ جب خاموشی سے اپنی بیوی کو دیے تو بیوی نے پوچھا کہ یہ کس چیز کے پیسہ ہیں ؟تو زید نے کہا کہ " مہر کے پیسہ ہیں "۔کیا یہ نکاح درست ہے؟براہ کرم وضاحت فرمادیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح درست ہے ، اور بعد میں مفتی صاحب کے اور بیوی کے پوچھنے پر یہ کہنا کہ "یہ مہر کے پیسہ ہیں " اس سے نکاح کی نسبت زید کی طرف نہ ہوگی ۔اس لیے کہ  طلاق کی قسم کھانے کی صورت میں  اگر کوئی آدمی اس کی اجازت کے بغیر  اس کا نکاح کردے اور یہ اس کی اجازت زبان سے نہ دے ، بلکہ اپنے کسی فعل یا اشارہ سے اس کی اجازت دےدے تو اس صورت میں نکاح کی نسبت اس کی طرف نہ ہوگی ،نکاح بھی ہو جاے گا اور قسم بھی واقع نہ ہوگی ۔مذکورہ صورت میں بھی مفتی صاحب نے فضولی بن کر زید کا نکاح کیا ہے ،اور  زید نے اپنے کسی قول سے رضامندی ظاہرکرنے کی بجائےعمل سے اپنی خوشنودی کو واضح کیا ہے۔اس لیے کہ جب مفتی صاحب نے زید کو کہا کہ "آپ کا نکاح ہوگیا ہے ،مہر دے دو"،تو اس  نے چپ چاپ مہر کے پیسہ مفتی صاحب کو پکڑا دیے ، جو کہ اشارہ  ہے نکاح پر رضامندی کا۔اس لیے یہ نکاح درست ہے۔

حوالہ جات

ولو دخلت كلمة كلما على نفس التزوج بأن قال: كلما تزوجت امرأة فهي طالق أو كلما تزوجتك فأنت طالق يحنث بكل مرة وإن كان بعد زوج آخر هكذا في غاية السروجي.

( الفتاوى الهندية  :1/419)

والأصل: أن كل عقد صدر من الفضولي وله مجيز انعقد موقوفا على الإجازة.

) البحر الرائق   : 3/147(

إذا قال: كل امرأة أتزوجها فهي طالق فزوجه فضولي وأجاز بالفعل   بأن ساق المهر ونحوه لا تطلق.

(الفتاوى الهندية   :1/499)

(حلف لا يتزوج فزوجه فضولي فأجاز بالقول حنث وبالفعل) ومنه الكتابة خلافا لابن سماعة (لا) يحنث. به يفتى .خانية.( الدرالمختار علی رد المحتار: 3/846)

حماد الرحمن

دالافتاجامعۃ الرشید کراچی

05/ربیع الثانی  1446ھ

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حماد الرحمن بن سیف الرحمن

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب