03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سودی بینکوں کی رقوم کی منتقلی میں سیکورٹی دینے کا حکم
84929سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

بندہ ایک سیکورٹی ادارہ میں کام کرتا ہے اور یہ فوجی سیکورٹی سروسز کا ادارہ ہے، اس کا اپنا دفتر، ملازمین کے لیے تنخواہ اور سالانہ بونس وغیرہ سب کچھ علیحدہ ہے، اس ادارے کا بینکوں کے ساتھ لین دین اس طرح کا ہے کہ ہم بینک کے ہیڈ کوارٹر سے ان کا کیش اٹھاتے ہیں اور یہ کیش اس کے ذیلی بینکوں میں پہنچاتے ہیں، اسی طرح کبھی اسٹیٹ بینک سے کسی بینک کا کیش اٹھا کر اس بینک تک پہنچاتے ہیں، یہ کیش کروڑوں میں ہوتا ہے، ہم ان کے ساتھ سیکورٹی کے طور پر جاتے ہیں، ہماری سب گاڑیاں یہی کام کرتی ہیں۔

لیکن ہم چھٹی وغیرہ بھی اپنے ادارے سے لیتے ہیں، تنخواہ اور بونس وغیرہ بھی ہمارا ادارہ ہمارے بینک اکاؤنٹ میں بھیجتا ہے، بینک کے ساتھ ہمارا تعلق صرف سیکورٹی کی حد تک ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہماری یہ ملازمت جائز ہے جو کہ سودی بینکوں کے ساتھ اٹیچ ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بینکوں کے بعض ملازمین نے بتایا یہ سودی معاہدات کی رقم نہیں ہوتی، بلکہ اسٹیٹ بینک دیگر بینکوں کو نئے نوٹ بھیجتا ہے تو وہ رقم ان گاڑیوں میں بھیجی جاتی ہے، پھر ہربینک کے ہیڈآفس سے اس کی برانچوں کو یہ رقم منتقل کی جاتی ہے، اسی طرح ہر بینک کے ذمہ اسٹیٹ بینک کے پاس ایک مخصوص مقدار میں سیکورٹی کی رقم رکھوانا ضروری ہوتا ہے،  وہ رقم بھی انہیں گاڑیوں کے ذریعہ منتقل کی جاتی ہے۔

اوپر ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق چونکہ آپ کی ڈیوٹی کا بینکوں سےتعلق صرف رقوم منتقل کرتے وقت صرف سیکورٹی فراہم کرنے کی حد تک ہے، اس کے علاوہ سودی لین دین وغیرہ سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہوتا، اس لیے فی نفسہ آپ کی ملازمت جائز ہے، خصوصا جبکہ آپ کی تنخواہ بھی آپ کو اپنے ادارے سے دی جاری رہی ہے۔

حوالہ جات

تحفة الفقهاء (2/ 347) دار الكتب العلمية، بيروت:

وشرط جوازه أن تكون العين المستأجرة معلومة والأجرة معلومة والمدة معلومة بيوم أو شهر أو سنة لأنه عقد معاوضة كالبيع وإعلام المبيع والثمن شرط في البيع فكذلك ههنا إلا أن المعقود عليه ههنا هو المنافع فلا بد من إعلامها بالمدة والعين والذي عقدت الإجارة على منافعه.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

6/ربیع الثانی 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب