خشکی کا جانور شکار کرنا:
حج یا عمرہ کا اِحرام باندھنے کے بعد خشکی کا جانور شکار کرنا حرام ہوجاتا ہے، حرم میں ہو یا غیر حرم میں، خود شکار کرنا یا کسی شکار کرنے والے کو بتانا کہ شکار وہ جارہا ہے، یہ بھی حرام ہے، البتہ حالت ِاِحرام میں بحری جانور کا شکار کرنا جائز ہے۔
ملاحظہ:
شکار مارنے اور شکاری کو بتانے سے جو جزا واجب ہوتی ہے اس میں بڑی تفصیلات ہیں۔ چونکہ عموماً ایسے واقعات پیش نہیں آتے، اس لیے ہم ان تفصیلات کو ذکر نہیں کرتے، اگر کوئی ایسا واقعہ ہوجائے تو معتبر علماء سے معلوم کرکے عمل کریں۔
کون سے جانور مارنا جائز ہے کون سے نہیں؟
بعض جانور ایسے ہیں جن کو اِحرام میں مارنے سے جزا واجب نہیں ہوتی، مثلاً: بھیڑیا، کوّا، چیل، بچھو، کتا (جو کاٹ کھانے والا ہو)، سانپ، چوہا، چیونٹی، مچھر، پسو، چیچڑی، گرگٹ، مکھی، چھپکلی، بھڑ، نیولا اور تمام حشرات الارض اور زہریلے جانور، البتہ جو چیز تکلیف نہ پہنچائے اس کا قتل کرنا جائز نہیں۔
کبوتر مارنے سے جزا واجب ہوگی، پالتو ہو یا جنگلی۔
حالت ِاِحرام میں بکری، گائے، اونٹ، بھینس، مرغی، پالتو بطخ کا ذبح کرنا اور کھانا جائز ہے اور محرم کو جنگلی بطخ کا ذبح کرنا جائز نہیں کیونکہ وہ شکار ہے۔
جو جانور دریا میں پیدا ہوا ہو اس کے مارنے سے کوئی جزا واجب نہیں، اگر چہ خشکی میں رہتا ہو، جیسے: مینڈک، کیکڑا، کھچوا، مچھلی وغیرہ، لیکن دریائی جانوروں میں سے مچھلی کے سوا کسی دوسرے جانور کا کھانا جائز نہیں ہے۔
1 اس عنوان کے تحت مندرجہ تمام مسائل کے لیے غنیة الناسک: صـ: ۲۸۰ تا ۲۹۰ ملاحظہ ہو۔
حالت اِحرام میں جوں مارنا جائز نہیں:
اگر کسی نے ایک جوں ماری یا کپڑا دھوپ میں ڈال دیا تاکہ جویں مرجائیں یا جویں مارنے کے لیے کپڑا دھویا تو ایک جوں کے عوض روٹی کا ایک ٹکڑا یا ایک کھجور دے دے اور دوتین جوئوں میں ایک مٹھی گندم صدقہ کردے اور تین جوئوں سے زائد چاہے کتنی ہی ہوں، کے عوض پورا صدقہ (نصف صاع گندم) دیدے، لیکن اگر کپڑا دھوپ میں ڈال دیا یا دھویا اور جوئیں مارنے کی نیت سے ایسا نہیں کیا تھا، پھر بھی مرگئیں تو کچھ واجب نہ ہوگا اور جو شخص اِحرام میں نہ ہو اس کے جوں مارنے سے کچھ واجب نہ ہوگا اگرچہ حرم میں ہو۔
ٹڈی بھی خشکی کے شکار کے حکم میں ہے، اِحرام میں اس کا مارنا جائز نہیں، ایک ٹڈی کے بدلے ایک کھجور دے دے۔
اگر ٹڈی حرم میں ہو تو حرم کی وجہ سے اس کا مارنا جائز نہیں، اگر چہ مارنے والا غیر محرم ہو۔
حرم کا شکارہر کسی پر حرام ہے:
مکہ معظمہ پورا شہر حرم ہے اور اس کے باہر بھی چاروں طرف حرم ہے۔ حدودِ حرم پر ہر طرف نشانات لگادیے گئے ہیں، حرم سے باہر میقات تک کی جگہ کو ’’حِل‘‘ کہتے ہیں، قریب ترین حِل تنعیم ہے، جہاں مسجد ِعائشہ رضی اللہ عنہا ہے اور حرم کے لوگ وہاں عمرہ کا اِحرام باندھنے کے لیے جاتے ہیں۔ حرم کی حرمت کی وجہ سے حرم میں شکار کرنا اور حرم کے درخت یا گھاس کاٹنا ممنوع ہے۔ حج یا عمرہ کے لیے جو حضرات باہر سے آتے ہیں ان کو شکار کرنے یا درخت کاٹنے کی ضرورت پیش نہیں آتی، مگر جو لوگ حدودِ حرم میں رہتے ہیں، انہیں چونکہ ضرورت پیش آتی ہے، اس لیے ان سے شکار کرنے یا درخت کاٹنے کی غلطی ہوجاتی ہے۔ اچھی طرح سمجھ لیں کہ حرم کے جانور کا شکار محرم اور غیر محرم دونوں پر حرام ہے۔
محرم نے حرم کا شکار کیا تو؟
اگر محرم نے حرم کا شکار کیا تو صرف ایک ہی جزا اِحرام کی وجہ سے واجب ہوگی، حرم کی جزا اسی میں ادا ہوجائے گی۔
حل کا شکار حرم میں داخل کردیا:
اگر محرم یا غیر محرم نے حِل کے شکار کو حرم میں داخل کیا تو وہ بھی حرم میں پہنچ جانے کے بعد حرم کے شکار میں شمار ہوگا اور اس کا چھوڑنا واجب ہوگا اور مارنے سے جزا واجب ہوگی۔
تنبیہ: اگر حرم میں شکار کرنے کا کوئی واقعہ پیش آجائے تو معتبر علماء سے اس کی جزا معلوم کرکے عمل کریں۔
حرم کے درخت اور گھاس کاٹنا:
حرم کے درخت اور گھاس چار قسم کے ہیں:
1:۔وہ چیزیں جن کو لوگ عام طور سے بوتے ہیں، جیسے: گندم، جو وغیرہ۔
2:۔وہ جن کو کسی نے بویا ہو لیکن عام طور سے لوگ اس کو بوتے نہیں، جیسے: پیلو وغیرہ۔
3:۔وہ جو خود اُگے ہوں اور اس قسم سے ہوں جن کو لوگ عموماً بوتے ہیں۔
4:۔وہ خود اُگے ہوں اور لوگ عام طور سے ان کو بوتے نہ ہوں، جیسے: کیکر وغیرہ۔
ان چاروں قسموں میں سے پہلی تین قسموں کے درخت حرم میں کاٹنے کی وجہ سے کوئی جزا واجب نہیں ہوتی۔ ان کا کاٹنا، اکھاڑنا، کام میں لانا جائز ہے، لیکن اگر کسی کی ملکیت ہو تو اس کی اجازت کے بغیر کاٹنا جائز نہیں، اگر کسی نے کاٹ لیا تو مالک کے مطالبے پر اس کی قیمت دینا لازم ہوگا۔
چوتھی قسم کے درخت کا کاٹنا، اکھاڑنا محرم غیر محرم دونوں کے لیے حرام ہے، چاہے اس قسم کے درخت کسی کی مملوک زمین میں ہوں یا غیر مملوک میں ہوں، اتنا فرق ہے کہ مملوک درخت میں دو قیمتیں لازم ہوں گی، ایک مالک کے لیے اور دوسری شریعت کی طرف سے لازم صدقہ کے طور پر اور غیر مملوک میں صرف ایک قیمت لازم ہے جو فقراء کو دی جائے گی، البتہ خشک درخت اور گھاس کاٹنا جائز ہے، یعنی اس میں گناہ نہیں، ہاں اگر کسی کی مملوکہ ہیں تو پھر اس کی اجازت سے کاٹنا جائز ہے، ورنہ اسے قیمت دینا لازم ہے۔( الغنیة: ص: ۳۰۳)
حرم کے درخت اور گھاس میں جزا کی تفصیل:
حرم کی گھاس یا درخت کاٹنے سے اس کی قیمت واجب ہوگی، اس قیمت سے غلہ خرید کر صدقہ کردے اور ہر مسکین کو نصف صاع گندم جہاں چاہے دیدے یا اگر اس قیمت سے جانور آسکتا ہے تو اسے حرم میں ذبح کرکے تقسیم کردے۔
ضمان ادا کرنے کے بعد گھاس اور لکڑی کاٹنے والے کی ملکیت ہوجائے گی، اس کا استعمال جائز ہوگا، لیکن اس کا فروخت کرنا مکروہ ِتحریمی ہے۔ اگر کسی نے فروخت کیا تو اس کی قیمت صدقہ کرنا لازم ہے۔( الغنیة: ص: ۳۰۳)
مسواک بنانا:
حرم کے تر درخت سے مسواک بنانا بھی جائز نہیں۔( الغنیة: صـ: ۳۰۴)
خیمہ وغیرہ لگانے یا چلنے سے گھاس اُکھڑ جائے تو؟
خیمہ لگانے یا تنور کھودنے یا چولہا وغیرہ لگانے سے یا سواری پر چلنے یا پیدل چلنے سے حرم کی گھاس یا لکڑی ٹوٹ جائے تو کچھ واجب نہیں۔( الغنیة: ص: ۳۰۴)
جانور چرانا:
حرم کی غیر مملوکہ گھاس میں جانوروں کو چرانا بھی جائز نہیں۔( الدرالمختار: ۳/ ۶۸۴)
پھلدار درخت کاٹنا:
حرم میں پھل دار درخت (خواہ مملوکہ ہوں یا غیر مملوکہ، لوگ اسے عموماً بوتے ہوں یا نہ بوتے ہوں) کاٹنا جائز ہے اور اس میں کوئی قیمت لازم نہیں، البتہ اگر کسی کا مملوکہ درخت ہو تو اس کی اجازت کے بغیر کاٹنا جائز نہیں، اگر کسی نے کاٹ لیا تو مالک کو قیمت دینا لازم ہے۔( الدرالمختار: ۳/ ۶۸۵،۶۸۶)
مفتی محمد
رئیس دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی


