03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دستاویزات میں باپ کے علاوہ کی طرف نسبت کرنا
84904جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ہمارے پاس ایک گھر کے بچے زیر تعلیم ہیں۔ ان کے والد فوت ہو گئے، تو ان کی والدہ نے اپنے دیور سے شادی کر لی۔ اب اس سے اولاد ہوئی تو اس نے اپنے سابق شوہر کے بچوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹ اپنے شوہر ثانی (یعنی بچوں کے چچا) کی طرف نسبت کرتے ہوئے بنوائے۔ اب بچے نے میٹرک بھی کر لی ہے اور انٹر کا امتحان بھی دے دیا۔ اب آگے جا کر ان کے لیے مسائل ظاہر ہوئے۔ تو اگر وہ عورت ان بچوں کے سرٹیفکیٹ یا میٹرک کے سرٹیفکیٹ میں جو تبدیلی کرواتی ہے، تو یہ بہت بڑافیصلہ ہوگا اور پاکستان میں ایسے کام کروانا بظاہر بہت مشکل ہے، آسان نہیں ہوتا۔ اور عورت غریب بھی ہے، وہ مالی استطاعت بھی نہیں رکھتی۔ تو کیا اس مسئلے میں اس عورت کے لیے کوئی گنجائش ہے؟ اگر ہے تو مہربانی فرما کر اس کی وضاحت فرما دیں۔جزاک اللہ خیرا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اسلام میں اصلی والد کی طرف نسبت ضروری ہے، اور اصلی والد کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا صریح اور واضح ارشاد موجود ہے کہ "انہیں (منہ بولے بیٹوں کو) ان کے والد کے نام سے ہی پکارو۔" لہذا مسئلہ کی صورت میں جب اصلی والد معلوم ہے تو دستاویزات میں اسی کی طرف نسبت کی جائے۔ دوسرے شخص کی طرف ان کی نسبت کرنا گناہ ہے۔ اگر اس گناہ کا ارتکاب کسی نے کر لیا ہو تو اس پر لازم ہے کہ اس گناہ سے توبہ اور استغفار کرے اور دستاویزات میں تصحیح کرا کر بچوں کو اپنے اصلی باپ کی طرف منسوب کیا جائے۔

پاکستانی قانون کے تحت بھی کسی شخص کو اپنے حقیقی والد کے بجائے کسی اور کے نام سے منسوب کرنا غیر قانونی ہے اور اسے جعل سازی اور دھوکہ دہی تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے مختلف قوانین، بشمول پاکستان پینل کوڈ([1]) (PPC) اور نیشنل رجسٹریشن ایکٹ([2])، اس معاملے پر سختی سے عمل درآمد کرتے ہیں۔ لہذا ولدیت درست کی جائے، ورنہ شرعی مشکل کے ساتھ قانونی مشکل کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اس حوالے سے مزید مشاورت اورقانونی مدد کےلیے بہتر ہوگا کہ کسی تجربہ کار وکیل سےرابطہ کیاجائے ۔


[1] ۔پاکستان پینل کوڈ (PPC):دفعہ 468 اور471

[2] ۔نیشنل رجسٹریشن ایکٹ: 1973

حوالہ جات

قال اللہ تعالی:

وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ (4) ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا (الأحزاب: 4، 5)

وفی تفسیر الوجيز للواحدي (ص: 858) :

{ادعوهم لآبائهم} أي: انسبوهم إلى الذين ولدوهم {هو أقسط عند الله} أعدل عند الله {فإن لم تعلموا آباءهم} من هم {فإخوانكم في الدين} أي: فهم إخوانكم في الدين {ومواليكم} وبنو عمكم وقيل: أولياؤكم في الدين {وليس عليكم جناح فيما أخطأتم به} وهو أن يقول لغير ابنه: يا بني من غير تعمد أن يجريه مجرى الولد في الميراث وهو قوله: {ولكن ما تعمدت قلوبكم} يعني: ولكن الجناح في الذي تعمدت قلوبكم.

المعجم الكبير الطبراني - (ج 12 / ص 146)

عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال : ما أورثنا رسول الله صلى الله عليه و سلم صفراء في بيضاء إلا مابين دفتيه فقمت إلى قائم سيفه فوجدت في حمائل سيفه صحيفة مكتوب فيها : ( من أحدث حدثا أو آوى محدثا أو انتمى إلى غير أبيه أو مولى غير مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين )

مسند البزار كاملا من 1-14 مفهرسا - (ج 2 / ص 45)

عن أبي عثمان ، قال : حدث أبو بكرة رضي الله عنه حديثا ، قلت : سمعته ، قال : سمعته أذناي ، ووعاه قلبي من محمد صلى الله عليه وسلم ، قال من انتمى إلى غير أبيه في الإسلام وهو يعلم أنه غير أبيه ، فالجنة عليه حرام.

المستدرك على الصحيحين للحاكم مع تعليقات الذهبي في التلخيص - (ج 2 / ص 258)

عن عمير بن سعيد عن عمه قال : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى البقيع فرأى طعاما يباع في غرائر فأدخل يده فأخرج شيئا كرهه فقال : من غشنا فليس منا.

رياض الصالحين (تحقيق الدكتور الفحل) - (ج 2 / ص 198)

قال الله تعالى : { واجتنبوا قول الزور } [ الحج : 30 ] ، وقال تعالى : { ولا تقف ما ليس لك به علم } [ الإسراء : 36 ] ، وقال تعالى : { ما يلفظ من قول إلا لديه رقيب عتيد } [ ق : 18 ] ، وقال تعالى : { إن ربك لبالمرصاد } [ الفجر : 16 ] ، وقال تعالى : { والذين لا يشهدون الزور } [ الفرقان : 72 ] .

وعن أبي بكرة - رضي الله عنه - قال : قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : ( ألا أنبئكم بأكبر الكبائر ؟) قلنا : بلى يا رسول الله . قال : ( الإشراك بالله ، وعقوق الوالدين ) وكان متكئا فجلس ، فقال : ( ألا وقول الزور) فما زال يكررها حتى قلنا : ليته سكت.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

   دارالافتاء جامعۃ الرشید

    05/04/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب