| 84649 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
ایک شخص مسمی گل بخش وفات پاگیا، ان کےپسماندگان میں سےایک بیوی، چار بیٹے اور سات بیٹیاں ہیں، ان میں سے دو بیٹے سید علی بخش اورقمر علی، گل بخش کی ایک بیوی(جو گل بخش کی زندگی میں ہی وفات پاچکی تھی) کےبطن سےتھےاور باقی دوبیٹے اور سات بیٹیاں گل بخش کی دوسری بیوی(جو ابھی تک زندہے) کےبطن سے ہیں، اب جبکہ گل بخش کا ترکہ تقسیم نہیں ہواتھاکہ گل بخش کی اولاد میں سےقمر علی ایک حقیقی بھائی سید علی بخش اوردو باپ شریک بھائی اور سات باپ شریک بہنیں پسماندہ چھوڑ کروفات پاگیا ہےتو از راہ کرم مرحوم گل بخش کے ترکہ کی تقسیم شریعت کی روشنی میں بیان کریں۔
وضاحت: سائل نےمیسج کرکے بتایا کہ مسمی گل بخش کا کل ترکہ بیس لاکھ نقدروپے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم گل بخش نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں مذکورہ بیس لاکھ روپے سمیت جو منقولہ وغیرمنقولہ مال وجائیداداورسازوسامان چھوڑا ہے، یہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔ اس میں سےسب سے پہلے مرحوم کی تجہیز و تکفین كےمتوسط اخراجات اداكیے جائیں گے، بشرطیکہ کسی نے اپنی طرف سے تبرعًا ادا نہ کیے ہوں ۔ پھر اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض واجب الادا ء ہو تو اس کو ادا کیاجائے گا۔ پھر اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال میں سے ایک تہائی (3/1) تک ادا کیا جائےگا۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کُل120حصے کرکے مرحوم کی اہلیہ کو پندرہ حصے(فیصد 12.5%)، مرحوم کے چار بیٹوں میں سے ہر ایک کوچودہ چودہ حصے(فیصد ٪ (11.6666اور مرحوم کی سات بیٹیوں میں سے ہرایک کوسات سات حصے(فیصد٪5.8333) دیے جائیں گے۔
آسانی کے لیے ذیل میں نقشہ ملاحظہ کیجیے:
|
نمبر شمار |
ورثاء کی تفصیل |
کل حصص120 |
٪ 100 فیصد |
کل ترکہ2000000روپے |
|
1 |
زوجہ |
15 |
٪12.5 |
250000 |
|
2 |
پہلا بیٹا |
14 |
٪11.6666 |
233333.3333 |
|
3 |
دوسرا بیٹا |
14 |
٪11.6666 |
233333.3333 |
|
4 |
تیسرا بیٹا |
14 |
٪11.6666 |
233333.3333 |
|
5 |
چوتھابیٹا |
14 |
٪11.6666 |
233333.3333 |
|
6 |
پہلی بیٹی |
7 |
٪5.8333 |
116666.6666 |
|
7 |
دوسری بیٹی |
7 |
٪5.8333 |
116666.6666 |
|
8 |
تیسری بیٹی |
7 |
٪5.8333 |
116666.6666 |
|
9 |
چوتھی بیٹی |
7 |
٪5.8333 |
116666.6666 |
|
10 |
پانچویں بیٹی |
7 |
٪5.8333 |
116666.6666 |
|
11 |
چھٹی بیٹی |
7 |
٪5.8333 |
116666.6666 |
|
12 |
ساتویں بیٹی |
7 |
٪5.8333 |
116666.6666 |
اس کےبعدقمرعلی نےانتقال کےوقت اپنی ملکیت میں اپنےوالدصاحب سےمیراث میں اپنےحصے کے.3333233333 رقم سمیت جو منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداداورسازوسامان چھوڑا ہے، یہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔ اس میں سےسب سے پہلےمرحوم کی تجہیز و تکفین كےمتوسط اخراجات اداكیے جائیں گے، بشرطیکہ کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان ادا نہ کیے ہوں۔ پھر اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض واجب الادا ء ہو تو اس کو ادا کیاجائے گا۔ پھر اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال میں سے ایک تہائی (3/1) تک ادا کیا جائےگا۔ اس کے بعد مرحوم کے اگرتمام ورثاء یہی ہیں، جوسوال میں ذکر کیے گئےاور اس کےعلاوہ اس کی اولادوغیرہ میں کوئی موجودنہیں توان کاتمام ترکہ ان کےحقیقی بھائی کوملے گا۔ باپ شریک بہن بھائیوں کوقمرعلی کی میراث میں سےکچھ نہیں ملےگا۔خلاصہ یہ کہ مذکورہ بیس لاکھ روپےمیں سید علی بخش کو 466666.6666 روپےملیں گے۔
حوالہ جات
قال الله تعالى: ((يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ)) [النساء: 11]
وقال الله تعالى: ((فَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدٞ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ )) [النساء: 12]
وقال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى: (ويصير عصبة بغيره البنات بالابن وبنات الابن بابن الابن) وإن سفلوا. (الدر المختار:6/ 775)
راز محمد
دار الافتاء جامعۃ الرشید، کراچی
7 صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رازمحمدولداخترمحمد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


