| 84478 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
ہمارے علاقے میں روڈ کی دائیں جانب ایک چھوٹی مسجدتھی، گزر زمانہ سے وہ لوگوں کے لیے کم پڑگئی، اس کے قریب جگہ نہ ہونے کے باعث انتظامیہ نے اسےمنہدم کرکےروڈ کی بائیں جانب اس کے متبادل کے طور پر ایک بڑی مسجد تعمیرکی، جبکہ پہلی مسجد کی جگہ پر مکان بنا کر کِرایہ پر دےدیا، جس کی آمدنی نئی مسجد کے مصالح میں خرچ کی جاتی ہے۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ قدیم مسجد کو اپنی جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور پرانی مسجد کی جگہ پر مکان بنا نا اور اُسےکرایہ پر دے کر اس کی آمدن کو نئی مسجد کے مصالح میں صرف کرنا درست ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جس جگہ ایک مرتبہ مسجد بن جائے، وہ تاقیامت مسجد ہی رہے گی، چاہےلوگ اس میں نماز پڑھیں یانہ پڑھیں، لہذااُسے منہدم کرنا اور اس کی جگہ پرمکان بنانا جائزنہیں اورجو مکان بنایا ہے، وہ اب بھی مسجد ہی ہے، اُسےکرایہ پر دے کر اس کی آمدن کو نئی مسجد کے مصالح میں صرف کرنا درست نہیں، بلکہ اُسے مسجد بناکر آباد رکھنا ضروری ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ سڑک کی بائیں جانب جو دوسری مسجد بنائی ہے، وہ بھی مسجد ہی ہے، اُسے بھی آباد رکھنا ضروری ہے۔
حوالہ جات
قال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى: أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع، ولو قال: عنيت ذلك، لم يصدق. تتارخانية. فإذا كان هذا في الواقف فكيف بغيره، فيجب هدمه ولو على جدار المسجد، ولا يجوز أخذ الأجرة منه، ولا أن يجعل شيئا منه مستغلا ، ولا سكنى. بزازية. (الدر المختار: 4/ 358)
وقال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى: فإذا كان هذا في الواقف فكيف بغيره، فيجب هدمه ولو على جدار المسجد، ولا يجوز أخذ الأجرة منه، ولا أن يجعل شيئا منه مستغلا، ولا سكنى. بزازية.(رد المحتار: 4/ 358)
قال العلامة الكاساني رحمه الله تعالى : قلنا: ممنوع، فإن المجتازين يصلون فيه، وكذا احتمال عود العمارة قائم، وجهة القربة قد صحت بيقين فلا تبطل باحتمال عدم حصول المقصود. (بدائع الصنائع: 6/ 221)
وقال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى: قوله: (ولو خرب ما حوله) أي: ولو مع بقائه عامرا، وكذا لو خرب وليس له ما يعمر به، وقد استغنى الناس عنه لبناء مسجد آخر، قوله: (عند الإمام والثاني) فلا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر، سواء كانوا يصلون فيه أو لا، وهو الفتوى.حاوي القدسي. وأكثر المشايخ عليه.مجتبى. وهو الأوجه. فتح. اهـ. (رد المحتار: 4/358)
وقال جمع من العلماء رحمهم الله تعالى: في فتاوى الحجة لو صار أحد المسجدين قديما، وتداعى إلى الخراب فأراد أهل السكة بيع القديم وصرفه في المسجد الجديد فإنه لا يجوز. (الفتاوى الهندية: 2/ 458)
راز محمد
دار الافتاء جامعۃ الرشید، کراچی
30محرم الحرام 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رازمحمدولداخترمحمد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


