| 84936 | خرید و فروخت کے احکام | دین )معاوضہ جو کسی عقدکے نتیجے میں لازم ہوا(کی خرید و فروخت |
سوال
منسلکہ کاغذات پر لکھا گیا معاہدہ کیا جائز ہے؟ اگر ناجائز ہے تو جواز کی کیا صورت ہے؟، تاکہ معاملہ اس کے مطابق کیا جائے۔بعض حضرات نے یہ صورت بتائی ہے کہ فریقِ دوم کو ٹھیلے خریدنے کا بھی وکیل بنائے اور شرط فاسد (بروقت کرایہ نہ طلب کرنے کی صورت میں کرایہ نہ دینا) کو ختم کردے تو کیاجائز ہو سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال کے ساتھ منسلک معاہدہ درج ذیل وجوہ کی وجہ سے جائز نہیں:
- معاہدہ میں عقد وکالہ اور اجارہ دونوں کو جمع کیا گیا ہے، کیونکہ فریقِ اول نے اولاً فریقِ دوم کو پانچ عددٹھیلے بنانے کا وکیل بنایا اور ساتھ ہی ٹھیلوں کو اجارہ پر دینے کا معاملہ کیا، جبکہ اس طرح دومعاملات کو جمع کرنا شرعا جائز نہیں۔
- کرایہ دار کا ریپئرنگ کی مد میں فریقِ اول سے فی ٹھیلہ تین سو روپیہ لینا بھی خلافِ شرع ہے، کیونکہ اصول یہ ہے کہ کرایہ پر دی گئی چیز کی ریپئرنگ پر جتنا خرچہ ہو، مالک اس کا ذمہ دار ہو گا،خواہ وہ تین سو سے کم ہو یا زیادہ، لہذا بہرصورت تین سو روپیہ وصول کرنا درست نہیں۔
- معاہدہ کی مدت ختم ہونے پر یہ شرط لگائی ہے کہ فریقِ دوم ریپئرنگ اور سروس چارجز کی رقم کاٹ کر 67000روپے واپس کر دے گا، یہ شرط بھی شرعا ًدرست نہیں، کیونکہ حقیقت میں یہ ٹھیلے فریقِ اول کی ملکیت ہیں، کیونکہ اس نے پانچ ٹھیلوں کی رقم ادا کی تھی، لہذا اس کو 67000 روپیہ دے کر ٹھیلوں سے فارغ کردینا درست نہیں۔
- معاہدہ میں مذکور یہ شرط بھی خلافِ شرع ہے کہ اگر فریقِ اول نے شروع مہینہ میں کرایہ طلب نہ کیا تو اس کو کرایہ نہیں دیا جائے گا۔
لہذا مذکورہ بالا خرابیوں کی وجہ سے اس معاہدہ کو ختم کرنا ضروری ہے، اس کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے دوبارہ نئے سرے سے معاہدہ کرسکتے ہیں، جس کی صورت یہ ہے کہ فریقِ اول فریق دوم کو رقم دے کر ٹھیلوں کی خریداری کا وکیل بنائے اور اگروکیل نے ٹھیلے خود بنانے ہیں تو اس کو ٹھیلے بنانے کی اجرت بھی دے، وکیل کے ٹھیلے خریدنے یا خود بنانے کے بعد فریق اول اس کے ساتھ الگ سے دوسرا معاہدہ کرایہ داری کا کرے، جس میں ہر ٹھیلے کا کرایہ طے کر لے، کرایہ داری کا معاہدہ ہو جانے کے بعد فریق دوم فریق اول کو ہر ماہ متعین کرایہ دینے کا پابندہو گا، خواہ فریقِ اول کرایہ طلب کرے یا نہ کرے، کرایہ پر استعمال كرنے کے دوران ٹھیلوں کےمعمولی اخراجات(جیسے کیل نکل جانا یا رنگ اترجاناوغیرہ) کرایہ دار کے ذمہ ہوں گے، البتہ اگر ٹھیلے کی کوئی بڑی چیزٹوٹ جائے تو اس کی ریپئرنگ ذمہ داری مالک یعنی فریقِ اول پر عائد ہو گی، بشرطیکہ کرایہ کی طرف سے کوئی تعدی اور کوتاہی کا ارتکاب نہ ہوا ہو۔
یہ بھی واضح رہے کہ مذکورہ معاہدہ میں ٹھیلوں کا مالک فریق اول ہی شمار ہو گا، لہذا حتمی طور پر معاملہ ختم کرنے کے بعد فریق اول کو اختیار ہو گا کہ وہ یہ ٹھیلے اپنے استعمال میں رکھے یااپنی مرضی سےفریقِ ثانی کو یا کسی تیسرے شخص کو فروخت کرے۔
حوالہ جات
صحيح ابن خزيمة (1/ 126) الناشر: المكتب الإسلامي،بيروت:
أخبرنا أبو طاهر، نا أبو بكر، نا ابن أبي صفوان محمد بن عبد الله الثقفي، حدثنا أبي، نا سفيان، عن سماك، عن عبد الرحمن بن عبد الله -وهو ابن مسعود- عن أبيه قال: الصفقة بالصفقتين ربا.
(الدرالمختار مع رد المحتار،كتاب الاجاره،باب فسخ الاجاره،ج:6،ص:80):
"(و عمارة الدار) المستأجرة (و تطيينها و إصلاح الميزاب و ما كان من البناء على ربّ الدار) و كذا كلّ ما يخل بالسكنى ... (و إصلاح بئر الماء و البالوعة و المخرج على صاحب الدار) لكن (بلا جبر عليه) لأنه لايجبر على إصلاح ملكه (فإن فعله المستأجر فهو متبرع)".(قوله: فهو متبرع ) أي و لايحسب له من الأجرة."
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
10/ربیع الثانی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


