03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زکوٰۃ اور اس کے متعلقات

انفاق فی سبیل اللہ اورزکوۃ سے متعلق آیات قرآنیہ

خوف اور پریشانی سے نجات:

الَّذِینَ یُنْفِقُونَ أَمْوَالَہُمْ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ سِرًّا وَعَلَانِیَۃً فَلَہُمْ أَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُونَ   (البقرۃ؍274)

ترجمہ:جو لوگ اپنے مال دن رات خاموشی سے بھی اور اعلانیہ بھی خرچ کرتے ہیں وہ اپنے پروردگار کے پاس اپنا ثواب پائیں گے، اور نہ انہیں کوئی خوف لاحق ہوگا، نہ کوئی غم پہنچے گا۔ (البقرہ: 274)

اپنی پسندیدہ چیز راہ خدا میں خرچ کرو:

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَیْء ٍ فَإِنَّ اللَّہَ بِہِ عَلِیمٌ    (آل عمران؍92)

ترجمہ:تم نیکی کے مقام تک اس وقت تک ہر گز نہیں پہنچوگے جب تک ان چیزوں میں سے (اللہ کے لئے) خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہیں۔ اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو، اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ (آل عمران: 92)

جو خرچ کرنا ہے قیامت سے پہلے کرلو:

 قُلْ لِعِبَادِیَ الَّذِینَ آَمَنُوا یُقِیمُوا الصَّلَاۃَ وَیُنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاہُمْ سِرًّا وَعَلَانِیَۃً مِنْ قَبْلِ أَنْ یَأْتِیَ یَوْمٌ لَا بَیْعٌ فِیہِ وَلَا خِلَالٌ  (إبراھیم؍31)

ترجمہ :میرے جو بندے ایمان لائے ہیں، اُن سے کہہ دو کہ وہ نماز قائم کریں، اور ہم نے ان کو جو رِزق دیا ہے اُس میں سے پوشیدہ طور پر بھی اور علانیہ بھی (نیکی کے کاموں میں) خرچ کریں، (اور یہ کام) اُس دن کے آنے سے پہلے پہلے (کرلیں) جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہوگی، نہ کوئی دوستی کام آئے گی۔ (ابراہیم: 31)

غریبوں کے حقوق:

وَفِی أَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ (الذاریات؍19)

ترجمہ :اور اُن کے مال و دولت میں سائلوں اور محروم لوگوں کا (باقاعدہ) حق ہوتا تھا۔                                   

خرچ نہ کرنے پر تنبیہ:

وَمَا لَکُمْ أَلَّا تُنْفِقُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَلِلَّہِ مِیرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ۔ (الحدید؍10)

ترجمہ :اور تمہارے لیے کون سی وجہ ہے کہ تم اللہ کے راستے میں خرچ نہ کرو، حالانکہ آسمانوں اور زمین کی ساری میراث اللہ ہی کے لئے ہے۔

خرچ کرنے سے دل پاک ہوتا ہے:

وَسَیُجَنَّبُہَا الْأَتْقَی  ۔الَّذِی یُؤْتِی مَالَہُ یَتَزَکَّی  (اللیل؍17، 18)

ترجمہ :اور اُس دوزخ سے ایسے پرہیزگار شخص کو دور رکھا جائے گا۔ جو اپنا مال پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے (اللہ کے راستے میں) دیتا ہے۔      

زکوۃ سے متعلق احادیث

زکوٰۃ سے مال کا شر دور ہوجاتا ہے:

عن جابر رضی اللہ عنہ قال: قال رجل من القوم: یا رسول اللہ! أرأیت إذا أدی رجل زکاۃ مالہ؟ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من أدی زکاۃ مالہ فقدذھب عنہ شرہ۔[المعجم الأوسط للطبرانی - (ج 2 ؍ ص 159)]

ترجمہ :حضرت جابرؓ نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جو شخص مال کی زکوٰۃ ادا کردے تو اس مال کا شر اس سے جاتا رہتا ہے۔‘‘ (طبرانی)

زکوٰۃ نہ دینے والے:

عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ  قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: مانع الزکاۃ یوم القیامۃ فی النار۔ [المعجم الصغیر الطبرانی - (ج 2 ؍ ص 57)]

ترجمہ :حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زکوٰۃ نہ دینے والا قیامت کے دن دوزخ میں جائے گا۔‘‘ (طبرانی صغیر)

ایمان کی علامت:

حدثنا أیوب بن نھیک الحلبی قال سمعت مجاھد ا یقول سمعت ابن عمر رضی اللہ عنھما  یقول سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: من کان یؤمن باللہ ورسولہ فلیؤد زکاۃ مالہ   [المعجم الکبیر الطبرانی - (ج 11 ؍ ص 322)]

ترجمہ :حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ’’جو شخص تم میں سے اللہ و رسول پر ایمان رکھتاہو اس کو چاہیے کہ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرے۔‘‘ (طبرانی کبیر)

زکوٰۃ اسلام کا پُل ہے:

عن أبی الدرداء رضی اللہ عنہ  قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم الزکاۃ قنطرۃ الإسلام۔    [المعجم الأوسط لأبی القاسم الطبرانی - (ج 8 ؍ ص 380)]

ترجمہ :حضرت ابودرداءؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’زکوٰۃ اسلام کا پُل ہے یا بلند عمارت ہے (کہ اگر زکوٰۃ نہ دے تو اسلام پر چل نہیں سکتا، یا اسلام کے نیچے کے درجے میں رہا)۔‘‘

مفتی محمد 

رئیس دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی