حجِ بدل کی شرائط:
سوال: حجِ بدل کی شرائط کیا ہیں؟
جواب : حجِ بدل کے لیے درجِ ذیل شرائط ہیں: (ردالمحتار: ۲/ ۵۹۹)
1:۔حجِ بدل کرانے والے کی طرف سے حج کرنے کی نیت کرے، اپنے حج کی نیت نہ کرے۔
2:۔حجِ بدل کرنے پر اجرت مقرر نہ ہو، ورنہ حج صحیح نہ ہو گا۔
3:۔آمر و مامور دونوں مسلمان، عاقل، بالغ ہوں۔
4:۔ایک ہی حج کا اِحرام باندھے، ایک سے زائد حج کی نیت کرنے سے کسی کی طرف سے بھی حجِ بدل صحیح نہیں ہوتا۔
5:۔اس کا اہتمام لازم ہے کہ حجِ بدل کرنے والے کا حج فاسد نہ ہونے پائے، حج فاسد ہونے کے بعد اگر اس کی قضاء کر لے تو بھی آمر کی طرف سے حج صحیح نہ ہو گا، جو خرچ آمر سے لیا تھا اس کو لوٹانا لازم ہے۔
6:۔حجِ بدل کا اِحرام میقات ہی سے باندھے، مکہ سے جائز نہیں۔
7:۔حجِ بدل آمر کے علاقے سے ہو، اگروہاں سے کرانے کی استطاعت نہ ہو تو جہاں سے ہو سکے وہاں سے حج کرایا جائے، مگر صاحب ِ استطاعت کے لیے جائز نہیں کہ اپنے مقام سے حج کا خرچہ نہ دے۔
8:۔حجِ بدل سواری پر ہو، پیدل حج کرنے کی صورت میں آمر کی طرف سے حج نہیں ہوگا، إلا یہ کہ استطاعت نہ ہو اور سواری کا انتظام نہ ہو سکتا ہو تو پھر پیدل حج کرنے میں حرج نہیں۔
9:۔آمرحج بدل کرانے سے پہلے معذور ہو، اگر پہلے حج کرائے بعد میں معذور ہو جائے تو یہ حج کافی نہیں۔
10:۔مامور خود حج کرے، إلا یہ کہ آمر کی طرف سے اسے دوسرے سے حج کرانے کی صراحتاً اجازت ہو۔
11:۔حج کا خرچہ آمر کے مال سے کیا جائے۔
12:۔آمر یا اس کے وصی کے موجودنہ ہونے کی صورت میں اس کے وارث کے حکم سے حج کرے، اس کے بغیراپنی طرف سے حج بدل کرنے سے فرض ساقط نہیں ہوگا۔
13:۔حجِ بدل کرانے کے بعد عذر زائل ہوجائے اور خود حج کرنے پر قدرت حاصل ہو جائے تو خود حج کرنا ضروری ہے۔
14:۔اگر حجِ بدل کرانے والے نے مطلق حج کا کہا ہو تو حجِ اِفراد کرنا لازم ہے، اس زمانے میں اگر چہ حجِ قِران یا تمتع کی بھی عرفاً اجازت ہو تی ہے، مگر اس کے لیے صراحتاً اجازت لینا بہتر ہے۔ہاں اگر حجِ بدل کرانے والا حج کی کسی ایک قسم کی تعیین کردے تو اس کے خلاف کرنا جائز نہیں۔
15:۔بہتر یہ ہے کہ مأمور پہلے خود حج کر چکا ہو، اگر اس نے حج نہ کیا ہو جبکہ اس پر حج فرض باقی ہو تو اس کے لیے حجِ بدل کرنا اور اپنا حج نہ کرنا مکروہِ تحریمی ہے، لیکن اگر کوئی ایسا کرے تو حجِ بدل بہرحال صحیح ہو جائے گا۔
تنبیہ:
یہ ساری شرائط حج فرض کے لیے ہیں، نفل حجِ بدل کے لیے یہ شرائط نہیں، البتہ آمر و مامور کا مسلمان، عاقل و ممیز ہونا شرط ہے۔(ردالمحتار: ۲/ ۶۰۱)
سوال :۔حج بدل کہاں سے کرایا جائے؟
جواب : حج بدل کہاں سے کرانا چاہیے؟ اَگر کسی اَیسے شخص سے کرایا جائے جو مکہ المکرمۃ میں رہتا ہو تو جائز ہے یا نہیں؟ مکہ میں بعض دینی مدارس کے ذِمہ داروں کی طرف سے حج بدل کرانے کا انتظام ہوتا ہے، ان کے ذریعہ حج بدل کرانا کیسا ہے؟
سوال :۔ اَگر کسی زندہ معذور کی طرف سے یا کسی مردہ کی وصیت سے حج بدل کیا جارہا ہو تو اس زندہ یا مردہ کے وطن سے حج کرانا ضرورِی ہے۔
اگر میّت کا تہائی مال اس کے لیے ناکافی ہو اَور ورثہ اپنے حصّہ سے زِیادہ مال دینے پر راضی نہ ہوں تو جہاں سے تہائی مال سے حج ہوسکے وہیں سے کرایا جائے۔(ردالمحتار: ۲/ ۶۰۰)
اگر وصیت کرنے والے یا معذور نے خود کوئی جگہ متعین کردی ہو تو وہیں سے کرایا جائے، خواہ معین کردہ جگہ مکہ ہی ہو۔
اَگر وصیت کر نے والے نے مال کی کوئی مقدار معین کرد ی ہو تو جہاں سے وہ کافی ہو سکتی ہو وہیں سے حج کرایا جائے، مقدار اتنی ہو کہ مکہ ہی سے حج کے لیے کافی ہوسکتی ہوتو مکہ ہی سے حج کرایا جائے، مگر صاحب ِ اِستطاعت کے لیے اَیسا کرنا گناہ ہے۔(ردالمحتار: ۲/ ۶۰۵)
اگر معذور نے کسی کو حج کے لیے نائب نہیں بنایا تھا یا میّت نے وصیت نہیں کی تھی، بلکہ کوئی شخص کسی زندہ معذور یا کسی میّت کی طرف سے تبرُّعاً یعنی محض ثواب حاصل کرنے کی نیت سے حج کرانا چاہتا ہے تو وطن سے کرانا ضرورِی نہیں، مکہ سے بھی جائز ہے، مگر حج کرانے والا صاحب ِ اِستطاعت ہو تو میقات سے کرانا اَفضل ہے۔
مکہ سے حج کرانے کی صورت میں اس کا خاص اہتمام کیا جائے کہ حج کرنے والا مسائل سے واقف، متقی اَور قابلِ اعتماد ہو، کیونکہ بعض لوگ کئی اشخاص کی طرف سے حج بدل کرلیتے ہیں، جبکہ اس صورت میں کسی کا بھی حج نہیں ہوتا۔ (ردالمحتار: ۲/ ۶۰۰)
حج کے لیے ساتھ کوئی محرم نہ ہو تو حج بدل کروانا:
سوال: ہمارے پڑوس میں ایک عورت رہتی ہے، اس کا خاوند فوت ہوچکا ہے، اس کی کوئی اولاد بھی نہیں ہے، اپنے بھائی کے پاس رہتی ہے، اس پر حج فرض ہے اَور اس کے بہت سے بھتیجے ہیں، ان سب پر حج فرض ہے، لیکن کوئی اس کے ساتھ حج کے لیے تیار نہیں، پوچھنا یہ ہے کہ کیا وہ اپنی جگہ کوئی دوسرا شخص بھیج سکتی ہے ؟
جواب : محرم کے بغیر اس کے لیے حج پر جانا جائز نہیں،اگر آخر عمر تک کوئی محرم نہیں ملا تو حج بدل کرادے یا اس کی وصیت کر دے۔(ردالمحتار: ۲/ ۴۶۴)
سوال :۔حجِ بدل میں اِحرام حج کی کون سی قسم کا باندھیں؟
جواب : حجِ بدل میں اِحرام حج کی کون سی قسم کا باندھیں؟ نیز اگر ہم حجِ تمتع کر رہے ہیں تو اس میں کسی کی طرف سے حج بدل کی نیت بھی کر سکتے ہیں؟
جواب: حجِ بدل میں ضروری ہے کہ حج کرانے والے نے تمتع یا قران یا افراد میں سے کسی کی تعین کی ہو تو اس کا اِحرام باندھنا اور اگر مطلق حج کا کہا ہو تو حج افراد کا اِحرام باندھنا لازم ہے۔(ردالمحتار: ۲/ ۶۱۱) صرف اسی شخص کی طرف کیا جائے جس نے حکم دیا ہو، لہٰذا اگر کوئی اپنی طرف سے بھی حج کی نیت کرے اور دوسرے کی طرف سے بھی حجِ بدل کی نیت کرے تو یہ حجِ بدل صحیح نہیں، البتہ مامور کا اپنا حج صحیح ہو جائے گا۔(ردالمحتار: ۲/ ۶۰۷) اسی طرح اگر کوئی شخص اپنا حج ادا کر رہا ہو تو اس میں کسی کی طرف سے حج بدل نہیں ہو سکتا، تاہم اس کا ثواب وہ کسی کو بخش سکتا ہے۔(ردالمحتار: ۲/ ۵۹۵)
بلا عذر حج بدل کرانا:
سوال : ایک شخص نے خود بھی حج نہیں کیا اَور اس کی والدہ نے بھی حج نہیں کیا، والدہ آیندہ سال حج پر جانے کو تیار ہے، مگر وہ اس سال کسی دوسرے شخص کو والدہ کی طرف سے حج بدل کے لیے بھیجنا چاہتا ہے، کیا اس کی والدہ کے ذِمہ سے حج فرض ساقط ہو جائے گا ؟ نیز اس دوسرے شخص کا حج فرض اَدا ہوجائے گا ؟
جواب : حج فرض ہوجائے تو بلا عذر اس میں تاخیر کرنا جائز نہیں، جب والدہ خود حج کرنے کی اِستطاعت رکھتی ہے تو حج بدل کرانے سے والدہ کے ذِمہ سے فرض ساقط نہیں ہوگا،(ردالمحتار: ۲/ ۵۹۸) حج بدل کرنے والے کا حج فرض اَدا نہیں ہوگا،(ردالمحتار: ۲/ ۴۵۸) اَگر اس پر اس وَقت حج فرض ہے تو اپنا حج اَدا کرنا ضرورِی ہے، اَگر فی الحال تو فرض نہیں مگر بعد میں مالدار ہوگیا اَور حج کی اِستطاعت ہوئی تو دوبارہ حج کرنا فرض ہے۔
والد نے استطاعت کے باوجود حج نہ کیا تو وارث کے لیے ان کی طرف سے حج کرنے کا حکم:
سوال : میرے والد آرمی سے ریٹائرڈ ہوئے، انہوں نے پنشن سے تقریباً تین لاکھ روپے کی زمین خریدی اور اس پر ڈیڑھ کنال میں ہمارے لئے ایک گھر بنایا ان پر اس صورت میں حج فرض ہو گیا تھا لیکن انہوں نے حج نہیں کیا۔ اب میں ان کے لیے حج بدل کرانا چاہتا ہوں، تاکہ آخرت میں ان کی اس فرض میں کوتاہی کی وجہ سے ان کو عذاب نہ ہو۔ ہم تین بھائی اور چار بہنیں ہیں۔ اب جو کل ترکہ والد صاحب نے ہمارے لئے چھوڑا ہے، وہ تقریباً چھبیس کنال ہے۔ جس کی کل مالیت دو لاکھ ساٹھ ہزار روپے بنتی ہے، ان سب جائیداد میں انہوں نے سوا سو کنال ہم تینوں بھائیوں کے نام منتقل کر دیا، باقی بیس یا اکیس کنال زمین والد صاحب کے نام پر ہے۔ اس صورت حال کی روشنی میں شریعت کے مطابق میں ان کے لیے حج بدل کس طرح کروں، اسی جائیداد کو بیچ کر یا خود مزدوری وغیرہ کر کے ان کے لیے حج بدل کر وں، جبکہ میں نے حج نہیں کیا ہے یا دوسرے آدمی کو پیسے دے کر کہ وہ حج بدل کرے؟
جواب : جب آ پ کے والد صاحب نے وصیت نہیں کی تو مشترکہ ترکہ سے دوسرے ورثہ کی اجازت کے بغیر ان کی طرف سے حج کرنا درست نہیں، البتہ اگر دوسرے ورثہ اجازت دیں اور وہ بالغ بھی ہوں یا کرنے والا خاص اپنی رقم سے کرے تو جائز ہے اوران شاء اللہ اس سے والد صاحب کا ذمہ فارغ ہو جائے گا۔(ردالمحتار: ۲/ ۵۹۹) البتہ اگر ورثہ میں کوئی نابالغ ہے تو ا س کا حصہ اس حج میں استعمال کرنا جائز نہیں اگر چہ وہ اجازت بھی دے۔(ردالمحتار: ۲/ ۶۰۶)عام طور پر مسئلہ یہ ہے کہ جس شخص پر خود بھی حج فرض ہو تو اس کے لیے حج بدل کرنا مکروہ ِ تحریمی ہے، لیکن اگر کرے گا تو ادا ہو جائے گا اور اس پر اپنا حج دوبارہ کرنا لازم ہے(ردالمحتار: ۲/ ۶۰۳) لیکن صورت ِ سوال میں یہ حج بدل نہیں بلکہ ایصالِ ثواب کے لیے حج ہے، لہٰذا اگر حج کرنے والے پر خود بھی حج فرض ہے تو اس صورت میں اپنے حج کی نیت کرنا بھی صحیح بلکہ ضروری ہے اس سے ایصالِ ثواب پر فرق نہیں پڑے گا اور حج کرنے والے کا اپنا فرض حج بھی ادا ہو جائے گا۔(ردالمحتار: ۲/ ۵۹۵)
حالت ِاِحرام میں لنگوٹ یا نیکر پہننا:
سوال : اِحرام کی حالت میں لنگوٹ یا نیکر پہن سکتے ہیں یا نہیں؟ عذر ہو تو کیا حکم ہے؟
جواب : آنت وغیرہ اُترنے یا اس جیسے کسی عذر سے لنگوٹ باندھنا جائز ہے، بلاعذر اَیسا کرنا مکروہ ہے، مگر اس پر کوئی جزاء واجب نہیں۔(ردالمحتار: ۲/ ۴۸۱)
نیکر پہننا بہرحال ناجائز ہے خواہ عذر ہو یا نہ ہو، سلا ہوا کپڑا پہننے کی جزاء واجب ہوگی۔(ردالمحتار: ۲/ ۵۴۷)
اِحرام میں جرابیں پہننا:
سوال : حالت ِاِحرام میں سردی کی وجہ سے جرابیں پہننا جائز ہے یا نہیں؟
جواب : حالت ِاِحرام میں جرابیں پہننا جائز نہیں۔(ردالمحتار: ۲/ ۴۹۰)
اِحرام کی حالت میں چوٹ لگنے کی وجہ سے پٹی باندھ سکتے ہیں:
سوال : اِحرام کی حالت میں اگر پاؤں میں درد ہو یا چوٹ لگ گئی ہو تو کپڑا یا پٹی باندھ سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب : باندھ سکتے ہیں۔(ردالمحتار: ۲/ ۴۸۸)
اِحرام کو دھونا :
سوال : حج تمتع میں پہلے عمرہ کرتے ہیں۔ بال کٹوانے کے بعد اِحرام پر بال لگ جاتے ہیں یا تھوڑا بہت کپڑا میلا بھی ہو جاتا ہے، کیا یہی اِحرام حج کے لیے استعمال کریں یا اس کودھو لیں؟
جواب : اِحرام تبدیل کر سکتے ہیں، دوسرا اِحرام باندھ کر یہ دھولیں۔
ناپاکی میں میقات سے بغیر اِحرام کے گزرنا:
سوال : ہم نے سفر عمرہ کی نیت سے کیا۔مکہ مکرمہ جاکر عمرہ اداء کیا۔پھر ہم مدینہ چلے گئے۔ واپس پھر مکہ آناہے، عموماً سب کی خواہش ہوتی ہے کہ عمرہ کریں، چنانچہ لوگ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ آتے ہوئے میقات سے اِحرام باندھ کر، عمرہ کی نیت کرتے ہیں، مگر یہ عمرہ نفلی ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر عورتوں کی ناپاکی کے ایام چل رہے ہوں تو وہ میقات سے بغیر اِحرام کے گزر سکتی ہیں؟
جواب : نہیں گز ر سکتیں، اس سے دَم لازم ہوتا ہے،(ردالمحتار: ۲/ ۴۷۸)ناپاکی کے ایام میںاِحرام باندھا جا سکتا ہے، لیکن عمرہ کے افعال میں سے طواف اور سعی نہیں کیا جا سکتا، اس لئے اگر کسی خاتون کو انہی دنوں میں مکہ مکرمہ جانا کسی وجہ سے ناگزیرہو تو میقات پر اِحرام باندھ لے، پھر حرم میں داخل ہو، اس کے بعد حیض کے ایام ختم ہونے تک انتظار کرے، اس کے بعد عمرہ ادا کرے۔
وقوفِ مزدَلفہ چھوڑنے پر دَم کا حکم:
سوال : اَگر مریض، ضعیف یا مستورات ہجوم اَور تکان کی وجہ سے مزدَلفہ میں وقوف نہ کریں اَور صبح صادق سے پہلے منیٰ چلے جائیں تو جائز ہے یا نہیں؟ اَگر جائز ہے تو جو شخص ان کے ساتھ کی وجہ سے وقوف نہ کرے، اس کے لیے کیا حکم ہے؟
جواب : بوڑھوں،بیماروں اَور خواتین کے لیے وقوفِ مزدَلفہ چھوڑ کر منٰی چلے جانا جائز ہے اَور ان پر کوئی دَم بھی واجب نہیں،(ردالمحتار: ۲/ ۵۱۱) مگر تندرست آدمی اَگر وقوفِ مزدَلفہ چھوڑ کر صبح صادق سے پہلے مزدَلفہ سے چلا جائے تو اس پر دَم واجب ہے، کیونکہ اس نے بلاعذر وقوف ترک کیا ہے، دوسروں کی وجہ سے اسے معذور قرار نہیں دیا جاسکتا۔(ردالمحتار: ۲/ ۵۱۱)
حالت ِاِحرام میں نقاب چہرہ سے لگ گیا:
سوال : اَگر حالت ِاِحرام میں کسی عورت کے برقع کا نقاب ہواکی وجہ سے اُڑ کر بار بار چہرہ سے لگتا رہے یا سوتے ہوئے چادر وغیرہ کسی مرد یا عورت کے چہرہ پر پڑجائے تو اس کا کفارہ کیا ہے؟
جواب : اَگر ایک گھنٹہ سے کم وَقت نقاب چہرہ کے چوتھائی حصہ سے لگا رہا ہو یا چادرمرد یا عورت کے چہرے کے چوتھائی حصہ پر پڑی رہی ہو تو اس کے کفارے میں اختلاف ہے۔ بعض فقہاء نے اس کو ترجیح دی ہے کہ نصف صاع یعنی سوا دو کلو گندم صدقہ کرنا واجب ہے اَور بعض فقہاء نے اس کو ترجیح دی ہے کہ اس صورت میں ایک مٹھی صدقہ کرنا واجب ہے،پہلا قول احوط ہے اَور دوسرااوسع۔ ہوا کی وجہ سے بار بار ابتلاء ہو تو دوسرے قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔
ایک گھنٹہ سے زِیادہ اَور ایک دِن یا ایک رات سے کم اَیسا ہواہو تو بالاتفاق نصف صاع صدقہ کرنا واجب ہے،ایک دِن یا ایک رات یا اس سے زِیادہ ہوا ہو تو دَم واجب ہے، یعنی بکرا، بکری، دُنبہ، دُنبی یا بھیڑ وغیرہ ذِبح کرکے مساکین پر صدقہ کرے۔(ردالمحتار: ۲/ ۵۴۷)
یہ تفصیل بلا عذر سر یا چہرہ ڈھانکنے کے بارے میں ہے، اَگر کسی عذر سے سر یا چہرہ کا چوتھائی یا زِیادہ حصہ ڈھانکا تو گھنٹہ یا اس سے زِیادہ وَقت ہونے کی صورت میں اِختیار ہے کہ نصف صاع صدقہ دے یا ایک دِن روزہ رکھے اَور عذر سے ایک دِن یا ایک رات یا زِیادہ اَیسا ہواہو تو اِختیار ہے کہ دَم ذِبح کرکے مساکین کو دے یا تین صاع چھ مساکین کو دے یا تین روزے رکھے۔(ردالمحتار: ۲/ ۵۵۷)
فائدہ:
نصف صاع کے وزن کی مقدار کے بارے میں علماء کے درمیان کچھ اختلاف ہے، ہمارے استاذ و شیخ مفتی اعظم حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی تحقیق کے مطابق اس کی مقدار سوا دو کلو جبکہ بعض حضرات کے نزدیک پونے دو کلو ہے، پہلا قول احوط ہے اَور عبادات میں احتیاط ہی پر عمل کرنا چاہیے۔
بغیر اِحرام کے حرم میں داخل ہونے کا حکم:
سوال : جوآدمی مکہ کا رہنے والا نہ ہو وہ حج کرنے گیا مگر بغیر اِحرام کے حرم میں داخل ہوگیا، اس کے بعد اِحرام باندھا تو اس کاکیا حکم ہے؟
جواب : اس کا حج اَدا ہو جائے گا لیکن اس پر دَم لازم ہے، یعنی ایک بھیڑ، بکری، دُنبہ یا بکرا ذِبح کرکے مساکین کو دے دے۔(الخانیة علی ہامش الہندیة: ۱/ ۲۸۷)
محرم ساتھ نہ ہونے کی وجہ سے رَمی میں نائب بنانے والے پر دَم واجب ہے:
سوال : ایک شخص کو پاؤں میں چوٹ آگئی، جس کی وجہ سے وہ چلنے پھرنے سے بالکل معذور ہوگیا، اس لئے اس نے اپنی رَمی دوسرے شخص کے ذریعہ کروائی، بیوی اَور لڑکی بھی سفر حج میں ساتھ تھیں، رَمی کے لیے کوئی دوسرا محرم ساتھ جانے والا نہ ہونے کی وجہ سے ان کی رَمی بھی کسی دوسرے مرد سے کروائی، کیا ان تینوں کی رَمی صحیح ہوگئی؟
جواب : اَگر سوارہوکر بھی جمرات تک نہ جاسکتا ہو، یا سواری کا انتظام ممکن نہ ہو اَور کوئی اٹھا کر لے جانے والا بھی نہ ہو تو اس کی رَمی ہوگئی، بیوی اَور بیٹی کی رَمی صحیح نہیں ہوئی، جمرات تک جانے کے لیے محرم ساتھ ہونا ضرورِی نہیں، اس لئے ان پر دَم واجب ہے۔(ردالمحتار: ۲/ ۵۵۳)
مفتی محمد
رئیس دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی


