03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نابالغ بچیوں کی رقم کو کاروبار میں لگانے اور اس پر زکٰوۃ کاحکم
84985زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

سوال۱)مفتی  صاحب !میرے والد صاحب نے کچھ رقم میری دو نا بالغ بیٹیوں کےلئے مختص کرتے ہوئے میرے حوالے کی اور یہ ہدایت کی کہ یہ رقم میں یا تو  بیٹیوں کی اعلیٰ تعلیم پر یا پھر اُن کی شادی پر خرچ کروں۔اس ضمن میں دریافت یہ کرنا تھا کہ جب تک بچیاں اعلیٰ تعلیم یا شادی  کے قابل نہیں ہو جاتیں، اُس وقت تک اُن پیسوں کو افرطِ زر سے محفوظ کرنے کے لئے  کسی کاروبار میں استعمال کیا جاسکتا ہے، اس نیت کے ساتھ کے اس سے جو بھی منافع ہوگا وہ سارا بچیوں کی تعلیم یا شادی پر ہی خرچ  کیا جائے گا اور اس میں سے کچھ بھی کسی اور جگہ استعمال نہیں کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ اگر کارو بار میں خدا نخواستہ نقصان ہواتو وہ نقصان میں اپنے پاس سے پورا کرونگا۔ برائے مہربانی مطلع فرمائیں کہ شریعت کی رُو سے مذکورہ بالا عمل جائز ہے؟

سوال ۲)مذکورہ بالا صورت میں جو رقم بچیوں کےلیے مختص ہے اُس پر اور کاروبار سے ہونے والے منافع کی رقم پر زکوٰۃ واجب ہوگی یا نہیں ،جبکہ بچیاں ابھی نا بالغ ہیں؟

سوال ۳) اگر زکوٰۃ واجب ہوگی تو اُس کی ادائیگی بچیوں کے لیے مختص رقم سے کی جائیگی ؟

سوال ۴) کیابچیوں کے بالغ ہونے کے فوراً بعد وہ رقم اور کاروباری معاملات بچیوں کے حوالے  کرنا لازم ہے؟ جبکہ  بچیاں  بلوغت کی عمر کوپہنچنے کے باوجود اتنے با شعور نہیں ہوتیں کہ اُس رقم کا دُرست استعمال کرسکیں یا کاروباری معاملات سنبھال سکیں؟ نیز یہ کہ بچیوں کے دادا نے رقم حوالے کرتے وقت ہدایت بھی یہی کی تھی کہ رقم اعلیٰ تعلیم یا  شادی  پر خرچ  کرنا ہے؟

شریعت کی روشنی میں مندرجہ بالاسوالات و مسائل کا حل تجویز فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

دادا  کی طرف سے   نابالغ بچیوں کے لئے مختص کیا ہوا مال ہبہ ہے اور بچیوں کی طرف اس مال پر ان کے والد (سرپرست)قبضہ کررہاہے جو کہ بچیوں کا قبضہ شمار ہوگا اوروالد مال تقسیم کرنے کا وکیل ہوگا ،لہذا اس صورت میں ہبۃ المشاع بھی جائز ہوگا ۔نابالغ بچیوں کے  مال کو افراطِ زر کے نقصان  سے بچانے کے لئے ایسے کاروبار میں لگایا جاسکتاہے جس میں بظاہر نقصان کا اندیشہ نہ ہو اور  نقصان سے محفوظ کاروبار ہو، لیکن اگر بالفرض اس کاروبارمیں نقصان ہوا  اور اس میں سرپرست کی طرف  کوتاہی و بے احتیاطی  پائی گئی ،تو اس  صورت میں سرپرست  ذمہ دارہوگااوراگر  سرپرست   کی طرف سے کوتاہی وبے احتیاطی  نہ ہو تو سرپرست ذمہ دار نہیں ہوگا ۔

نابالغ بچیوں کے مال اور ان کے کاروبار کے نفع پر زکٰوۃ واجب نہیں ہے کیونکہ زکٰوۃ کے وجوب کے لئے بلوغت شرط ہے،اس لئے اس نفع کو  بچیوں کے لئے محفوظ کیا جائے یا اس کو بھی مذکورہ بالا جیسے کاروبار میں لگایا جائے،کیونکہ دادا کی طرف سے مال کو ان کی اعلیٰ تعلیم یا شادی پر خرچ کرنے کی جوشرط لگائی تھی  وہ غیر معتبر ہے کیونکہ  ہبہ میں شرط لگانے سے شرط باطل ہوجاتی ہے اور ہبہ کا معاملہ صحیح رہتاہے۔

بلوغت کے بعد جب تک ان میں سمجھ بوجھ(رشد)   پیدا نہ ہواس وقت تک مال یا کاروبار ان کے حوالے نہ کیاجائے،جب سمجھدار ہوجائیں  تو مال یا کاروبار حوالے کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

حوالہ جات

العناية شرح الهداية (2/ 156):

(وليس على الصبي والمجنون زكاة) خلافا للشافعي - رحمه الله - فإنه يقول: هي غرامة مالية فتعتبر بسائر المؤن كنفقة الزوجات وصار كالعشر والخراج. ولنا أنها عبادة فلا تتأدى إلا بالاختيار تحقيقا لمعنى الابتلاء، ولا اختيار لهما لعدم العقل، بخلاف الخراج لأنه مؤنة الأرض. وكذا الغالب في العشر معنى المؤنة ومعنى العبادة تابع.

 الفتاوى الهندية (6/ 147)::

قال: وللوصي أن يتجر بمال اليتيم في المبسوط، ولا يجوز للوصي أن يتجر لنفسه بمال اليتيم أو الميت، فإن فعل وربح يضمن رأس المال ويتصدق بالربح في قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى، كذا في فتاوى قاضي خان.  للوصي أن يدفع مال الصغير مضاربة وأن يشارك به غيره وأن يبضعه، كذا في المحيط.

الفتاوى الهندية (4/ 396):

 (وما لا يبطل بالشروط الفاسدة ستة وعشرون) : الطلاق والخلع بمال وبغير مال والرهن والقرض والهبة والصدقة والوصاية والوصية والشركة والمضاربة والقضاء والإمارة والتحكيم عند محمد - رحمه الله تعالى - والكفالة والحوالة والإقالة والنسب وإذن العبد في التجارة ودعوة الولد والصلح عن دم العمد والجراحة التي فيها القصاص حالا أو مؤجلا وجناية الغصب الوديعة والعارية إذا ضمن فيها رجل وشرط فيها كفالة أو حوالة وعقد الذمة وتعليق الرد بالعيب بالشرط وتعليق الرد بخيار الشرط وعزل القاضي، والنكاح لا يصح تعليقه بالشرط ولا إضافته ولكن لا يبطل بالشرط ويبطل الشرط، وكذا الحجر على المأذون، وكذا الهبة والصدقة والكتابة بشرط متعارف وغير متعارف يصح ويبطل الشرط.

ا لموسوعة الفقهية الكويتية (42/ 137):

اقتران الشروط بصيغة الهبة:

31 - الشرط المقترن بالهبة قد يكون صحيحا أو غير صحيح.فالشرط الصحيح هو ما كان مؤكدا لمقتضاها غير مخالف لأحكامها، كما لو قال الواهب: وهبتك هذا الشيء فاقبل فورا واقبضه. أو يشترط فيها العوض، وسيأتي الكلام عليه.

كما يجوز عند الحنابلة شرط استثناء منفعة الشيء الموهوب لمدة معلومة.أما الشرط غير الصحيح فإنه الشرط الذي يخالف أحكام الهبة ومقتضاها، كما لو قال: وهبتك هذا بشرط أن لا تهبه ولا تبيعه لأحد، أو وهبتكه بشرط أن تعيده لي بعد شهر.

فيرى جمهور الفقهاء: الحنفية والشافعية في قول والحنابلة في المذهب إلى أنه يبطل الشرط ويصح العقد .

فقد نص الحنفية على أنه لو وهب جارية على أن يبيعها أو على أن يتخذها أم ولد أو على أن يبيعها لفلان، أو على أن يردها عليه بعد شهر - جازت الهبة وبطل الشرط؛ لأن هذه الشروط مما لم تمنع وقوع التصرف تمليكا للحال، وهي شروط تخالف مقتضى العقد فتبطل ويبقى العقد على الصحة.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 149):

(فإن بلغ) الصبي (غير رشيد لم يسلم إليه ماله حتى يبلغ خمسا وعشرين سنة فصح تصرفه قبله) أي قبل المقدار المذكور من المدة (وبعده يسلم إليه) وجوبا يعني لو منعه منه بعد طلبه ضمن وقبل طلبه لا ضمان كما يفيده كلام المجتبى وغيره قاله شيخنا (وإن لم يكن رشيدا) وقالا: لا يدفع حتى يؤنس رشده ولا يجوز تصرفه فيه (والرشد) المذكور في قوله تعالى {فإن آنستم منهم رشدا} [النساء: 6] (هو كونه مصلحا في ماله فقط) ولو فاسقا قاله ابن عباس.

عبدالعلی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

12/ ربیع الثانی /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالعلی بن عبدالمتین

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب