03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد،سگی والدہ ،سوتیلی والدہ،زوجہ ،تین بیٹے اور پانچ بیٹیوں میں تقسیم میراث
84992میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

 میرے نانا عبدالمجید شاہ ولد ظریف شاہ کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی،وہ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹاتھا  اور وفات والدین سے قبل ہوئی،وفات کے وقت اس کی اپنی   ماں  صائمہ بی بی ،والد  ظریف شاہ ، سوتیلی ماں میرا بی بی(جس سے کوئی اولاد نہیں تھی )،زوجہ تاج محل بیگم،تین بیٹے حمید اللہ شاہ،سید منعم شاہ اورسید معظم شاہ اور پانچ بیٹیاں بصیرت،فریہ،غوثیہ،انصاریہ اور  سبیلا  زندہ تھیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم عبدالمجیدکے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز وتکفین کامعتدل خرچہ (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیاہو(اداکیاجائےگا،پھر مرحوم کے ذمہ کسی کاقرضہ اگر ہو تو اداکیاجائےگا،پھراگرمرحوم نے کسی غیروارث کے لئےکوئی جائزوصیت کی ہےتوترکہ کےایک تہائی تک اس کواداکیاجائے،اس کےبعدجوکچھ بچ جائے،اس کومرحوم کےانتقال کےوقت موجودورثہ ( والد،والدہ ، بیوی ،تین بیٹے ، اورپانچ  بیٹیاں )میں تقسیم کیاجائےگا۔

تقسیم کاطریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے ترکہ   کے  کل دو سو چونسٹھ (264) حصے بنائے جائیں گے،ان میں سےان کے   والد  ظریف   شاہ  کو چوالیس(44) حصے،سگی والدہ صائمہ کو چوالیس (44) ،بیوی تاج محل  کو تینتیس (33)حصے،تینوں بیٹوں میں سے ہر ہر بیٹے کو چھبیس چھبیس (26,26)حصے اورپانچ بیٹیوں میں سے ہر  ہر بیٹی کوتیرہ،تیرہ (13,13) حصے ملیں گے  جب کہ  سوتیلی ماں  کو کچھ نہیں ملے گا۔

فیصدی اعتبار والد ظریف کاحصہ 16.6666% ، سگی والدہ صائمہ کاحصہ 16.6666%بیوی تاج محل کا 12.5%،ہر ہر بیٹے کا9.8484%,9.8484%اور ہر ہر بیٹی 4.9242%حصہ ہوگا۔

نمبر شمار

نام ورثہ

عددی حصہ

فیصدی حصہ

  1.  

ظریف شاہ

44

16.666%

  1.  

صائمہ بی بی

44

16.666%

  1.  

حمیداللہ شاہ

26

9.8484%

  1.  

سید منعم شاہ

26

9.8484%

  1.  

سید معظم شاہ

26

9.8484%

  1.  

بصیرت

13

4.9242%

  1.  

فریہ

13

4.9242%

  1.  

غوثیہ

13

4.9242%

  1.  

انصاریہ

13

4.9242%

  1.  

سبیلا

13

4.9242%

حوالہ جات

القران الکریم (3/ 11):

يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين فإن كن نساء فوق اثنتين فلهن ثلثا ما ترك وإن كانت واحدة فلها النصف ولأبويه لكل واحد منهما السدس مما ترك إن كان له ولد فإن لم يكن له ولد وورثه أبواه فلأمه الثلث فإن كان له إخوة فلأمه السدس من بعد وصية يوصي بها أو دين آباؤكم وأبناؤكم لا تدرون أيهم أقرب لكم نفعا فريضة من الله إن الله كان عليما حكيما (11) ولكم نصف ما ترك أزواجكم إن لم يكن لهن ولد فإن كان لهن ولد فلكم الربع مما تركن من بعد وصية يوصين بها أو دين ولهن الربع مما تركتم إن لم يكن لكم ولد فإن كان لكم ولد فلهن الثمن مما تركتم من بعد وصية توصون بها أو دين.

السراجی فی المیراث (5،6 🙁

 الحقوق المتعلقہ بترکۃ المیت :قال علماؤنارحمہم اللہ تعالی تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ الاول یبدأبتکفینہ وتجہیزہ من غیرتبذیرولاتقتیر،ثم تقصی دیونہ من جمیع مابقی من مالہ ثم تنفذوصایاہ من ثلث مابقی بعدالدین ،ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ.

عبدالعلی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

12/ ربیع الثانی /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالعلی بن عبدالمتین

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب