03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد صاحب کے مکان کی تعمیرِ نو کے بعد تقسیم میں ورثا کا اختلاف
85038میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے والد مرحوم نے 1992ء میں ڈیڑھ منزلہ مکان خریدا تھا، جس میں والدہ، تین بھائی اور پانچ بہنیں حصہ دار ہیں۔ والد صاحب کا انتقال 2016ء میں ہوا، ان کے انتقال کے وقت ان کے والدین، دادا، دادی اور نانی میں سے کوئی زندہ نہیں تھا۔

2012ء میں والد صاحب کی زندگی میں ان کی مرضی سے مذکورہ مکان کی از سرِ نو تین منزلہ تعمیر کی گئی، تعمیرِ نو میں والد صاحب کے پیسے خرچ نہیں ہوئے، ملبہ شاید تھوڑا بہت لگا ہو۔ والدہ صاحبہ کے بقول تعمیرِ نو میں ہر بھائی کے پندرہ لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں، جبکہ انہوں نے اپنا زیور پانچ لاکھ روپے کے عوض بیچا اور دس لاکھ روپے قرض لیا اور اس مکان میں لگایا، یہ قرض بعد میں اسی گھر کے کرایہ کے ذریعے ادا کیا گیا۔ مکان اس بنیاد پر تین منزلہ بنایا گیا کہ ہر بھائی اپنے اپنے پورشن میں رہائش پذیر ہوگا اور بہنوں کو ان کا حصہ دیا جائے گا۔ ہم نے تعمیر والد صاحب کے لیے نہیں، بلکہ ان کی اجازت سے اپنے لیے کی تھی۔

میں اس گھر کے ایک پورشن کے ایک حصے میں رہائش پذیر ہوں جس میں ایک کمرہ، آدھا کچن، آدھا ٹی وی لاؤنج اور ایک باتھ روم شامل ہے، بقیہ حصے ان کے قبضے میں ہے، باقی دو پورشن کرایہ پر دئیے ہوئے ہیں جن کا کرایہ والدہ صاحبہ وصول کر رہی ہیں۔

تین سال قبل میرے دونوں بھائیوں نے طے کیا کہ یہ مکان ہم رکھتے ہیں اور تمہیں اتنا دیدیں گے کہ کرایہ کے مکان میں نہیں جانا پڑے گا، چھت کا انتظام ہوجائے گا، چنانچہ میں نے اپنا حصہ محمد زبیر کے نام لکھوادیا کہ میں اپنا حصہ محمد زبیر کو دے رہا ہوں، قیمت اس تحریر میں نہیں لکھی، اس وقت میرے حصے کی قیمت پچیس (25) لاکھ روپے تھی، لیکن زبانی طے ہوا کہ وہ مجھے چالیس (40) لاکھ روپے دیں گے۔ اب جب پیسے دینے کا وقت آیا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم صرف آپ کے حصے کی قیمت یعنی پچیس (25) لاکھ روپے دیں گے، اوپر کے پیسے دینے سے مکر رہے ہیں، میں نے والدہ پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے حصے کی قیمت تحریر میں نہیں لکھی تھی۔ مزید یہ کہ وہ مجھے جہاں جگہ دے رہے ہیں وہ بالکل ویران ہے، وہاں بمشکل تین سے چار گھر ہیں، بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، وہ جگہ میری دکان سے بہت دور ہے، میرے لیے وہاں سے موٹر سائیکل پر آنا جانا بہت مشکل ہے، جبکہ میرا ایک بیٹا زیرِ علاج ہے۔

اب بھائیوں نے پراپرٹی ڈیلر سے جو قیمت لگوائی ہے وہ دو کروڑ پندرہ لاکھ روپے، جبکہ میں نے پراپرٹی ڈیلر سے جو قیمت لگوائی ہے وہ ڈھائی سے پونے تین کروڑ تک ہے۔ اس معاملے میں میری راہنمائی فرمائیں کہ اگر وہ دونوں بھائی مکان رکھتے ہیں تو کیا میں اپنے حصے کی قیمت اپنی مرضی سے طے کر سکتا ہوں؟ نیز گھر کی تعمیر میں بھائیوں نے جو پیسے لگائے ہیں، اس میں بہنوں اور والدہ کا حصہ ہے یا نہیں ان کا حصہ صرف والد کی وراثت میں ہے۔ والدہ صاحبہ کے بقول جس دن تمہارا حصہ دیا جائے گا، اس دن تمہیں مکان فی الفور خالی کرنا پڑے گا، جبکہ میرے پاس رہنے کا کوئی ٹھکانا نہیں ہے، نہ کرایہ پر مکان لینے کی استطاعت ہے۔ مکان کی تعمیر کے وقت میں سعودی عرب میں تھا، جو بھی کماتا تھا، گھر بھیجتا تھا، میرے پاس جمع پونجی کے نام پر کوئی رقم نہیں ہے، سعودیہ سے واپس آنے کے بعد میرے حالات مزید خراب ہوگئے، آج میری کرایہ کی ایک دکان ہے جس سے بڑی مشکل سے گھر کا چولہا جلتا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر مذکورہ بالا تمام تفصیلات درست ہیں تو آپ کے سوالات کے جوابات حسبِ ذیل ہیں:-

(1)۔۔۔ اس گھر کی زمین آپ کے والد صاحب کی میراث میں شامل ہے جس میں آپ کی والدہ، پانچوں بہنوں اور آپ تینوں بھائیوں سب کا حصہ ہے، جبکہ تعمیر انہی لوگوں کی ہوگی جن کی رقم تعمیر میں خرچ ہوئی ہے، جس کی جتنی رقم خرچ ہوئی ہے وہ اسی تناسب سے تعمیر میں شریک ہوگا، والدہ نے اپنی طرف سے مکان کی تعمیر میں پندرہ لاکھ روپے شامل کرنے کے لیے جو دس (10) لاکھ روپے قرض لیا تھا وہ انہی کی طرف سے شمار ہوگا اور وہ بھی پندرہ لاکھ کے حساب سے مکان میں شریک ہوگی، البتہ بعد میں انہوں نے جب اپنا یہ قرض اسی مکان کے کرایہ سے ادا کیا ہے تو چونکہ یہ مکان (آپ بھائیوں، بہنوں اور والدہ) سب کا مشترکہ ہے، اس لیے اس کا کرایہ بھی سب کا ہوگا، والدہ نے دوسروں کے حصے کا کرایہ اگر ان کی رضامندی سے اپنے قرض اتارنے کے لیے استعمال کیا ہے تو یہ ان کا والدہ کے ساتھ احسان ہے اور اگر بغیر رضامندی کے استعمال کیا ہے تو وہ والدہ سے اپنے اپنے حصے کا مطالبہ کرسکتے ہیں، اگر آپ شروع سے اس گھر میں اپنے حصے میں رہائش پذیر رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ والدہ نے آپ کے حصے کا کرایہ قرض اتارنے کے لیے استعمال نہیں کیا، اس لیے آپ ان سے کرایہ کی مد میں کچھ نہیں مانگ سکتے۔ اگر پرانے مکان کے ملبے کی قیمت یا ملبہ اس مکان کی تعمیر میں لگا ہے تو اس کے بقدر تعمیر بھی والد صاحب کی وراثت میں شامل ہوگی، لہٰذا اس کی رقم تمام ورثا میں اپنے اپنے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔  

(2)۔۔۔ اگر تین سال پہلے آپ نے واقعتاً اپنا حصہ چالیس لاکھ روپے کے بدلے میں اپنے بھائی محمد زبیر کے نام کردیا تھا اور وہ بھی اس پر راضی ہوگئے تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اس گھر کی زمین اور تعمیر میں اپنا حصہ ان کو اس رقم کے بدلے بیچ دیا تھا، لہٰذا ان پر لازم ہے کہ آپ کو طے شدہ قیمت دیں، اس میں کمی کرنا ان کے لیے جائز نہیں۔ لیکن یہ حکم اس وقت ہوگا جب آپ کے حصے کی قیمت چالیس لاکھ روپے مقرر ہوئی ہو، اگر آپ کے حصے کی قیمت تو پچیس لاکھ مقرر ہوئی تھی اور سودا اسی کے بدلے ہوا تھا، پھر انہوں نے اپنی طرف سے وعدہ کیا تھا کہ میں آپ کو چالیس لاکھ تک دیدوں گا تو اس صورت اصل قیمت پچیس لاکھ ہوگی، اضافی رقم قیمت کا حصہ نہیں ہوگی، لہٰذا آپ کے بھائی کے لیے کسی شرعی عذر کے بغیر اپنے وعدے کی خلاف ورزی جائز نہیں، اگر وہ طے شدہ قیمت (پچیس لاکھ) سے اضافی رقم بغیر کسی عذر کے نہیں دیتے تو ان کو وعدے کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگا، لیکن آپ ان کو اضافی رقم دینے پر مجبور نہیں کرسکتے، اور اگر وہ کسی عذرِ شرعی کی بنا پر اپنا وعدہ پورا کرنے سے عاجز ہو تو پھر ان کو گناہ بھی نہیں ہوگا۔  

بہر حال، اصل قیمت چالیس لاکھ روپے مقرر ہوئی یا پچیس لاکھ، دونوں صورتوں میں آپ اب تک وہ قیمت ادا نہ کرنے کی وجہ سے اپنے حصے کی آج کی قیمت کا مطالبہ نہیں کرسکتے؛ کیونکہ جب آپ نے اپنا حصہ ان کو بیچا تو آپ کا حصہ اسی وقت ان کی ملکیت میں چلا گیا تھا، اس کے بعد اس کی قیمت میں جو بھی اضافہ ہوا ہے وہ انہی کا ہے، پھر آپ اس دوران اس مکان میں رہتے رہے ہیں تو آپ نے اپنا حصہ بیچنے کے باوجود اس سے نفع بھی حاصل کیا ہے۔    

(3)۔۔۔ سوال میں ذکر کردہ تفصیل کی روشنی میں محمد زبیر پر لازم ہے کہ آپ کو مکان کی طے شدہ قیمت دے، اگر وہ آپ کو اس کے بدلے میں کوئی زمین دیتے ہیں اور آپ کسی بھی وجہ سے وہ نہیں لینا چاہتے تو آپ کو اس کا اختیار ہے، آپ ان سے اپنی رقم لے کر اپنی مرضی کے مطابق جگہ خرید سکتے ہیں، وہ آپ کو کسی خاص جگہ میں واقع زمین لینے پر مجبور نہیں کرسکتے، ان پر لازم ہے کہ آپ کو رقم دیں۔

حوالہ جات

۔

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       16/ربیع الثانی/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب