| 85035 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
ایک ویڈیو ویور" Hmester Kombat" ایپ یا ریوارڈ ایپ معلوم ہوتی ہے،جو یوٹیوب یا دیگر ویڈیوز دیکھنے پر پوائنٹس یا کوائنز فراہم کرتی ہے،اس قسم کی Applications عام طور پر صارفین کو ویڈیوز دیکھنے یا دیگر سرگرمیوں میں حصہ لینے پر انعامات دیتی ہیں اور یہ تقریباً 100 فیصد میں سے 40 فیصد شیئرز اُس دیکھنے والے کو دیے جاتے ہیں یعنی کہ ایپ آپ کو مختلف ویڈیوز دیکھنے کا اختیار دیتی ہے،یہ عموماً یوٹیوب یا ایپ کی اپنی ویڈیو لائبریری سے ہو سکتی ہیں، ویڈیو دیکھنے کے بعد آپ کو پوائنٹ یا کوائنز ملتے ہیں،یہ پوائنٹس آپ کے اکاؤنٹ میں شامل ہو جاتے ہیں،جب آپ کے پاس کافی پوائنٹس یا کوائنزجمع ہو جائیں تو آپ انہیں ایپ میں موجود انعامات یا بونسزکے لیے تبدیل کر سکتے ہیں جبکہ یہ ایپ ابھی تک لانچ نہیں ہوئی اور اس میں 300 سے زائد ملین لوگ شریک ہیں،چھ ستمبر کو لانچ ہونے جا رہی ہے، لہٰذا آپ احباب کی خدمت میں التماس ہے کہ اس میں مزید ریسرچ فرماکر اس کے جواز اور عدم جواز کے حوالے سے مکمل رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کرپٹو ،ڈیجیٹل کرنسی اور مذکورہ ایپ جیسی ایپس کے ماہرین سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق مذکورہ ایپ یعنی Hmester Kombat میں ویڈیو دیکھ کر کوائنز یا ٹوکن کمانے کا کام نہیں ہے،بلکہ یہ ایک نام نہاد (so called) کرپٹو گیم ہے،جس میں فی الحال صارفین (players)نے کوائینز جمع کرنے ہیں اور مستقبل میں انہیں جمع کیے گئے کوائینز کے بقدرایسےکرپٹو کوائینز ملیں گے،جو مختلف ایکسچینجز(exchange) پر ٹریڈ ہو سکیں گے۔ہماری تحقیق کے مطابق اس وقت اس گیم میں کھیلنے کی کوئی چیز حقیقتاً نہیں ہےاور نہ ہی اس کے موجودہ کوائینز کا کوئی استعمال ہے،جبکہ شرعاً کسی چیز کے جائز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا جائز استعمال ہو،اس لیے کہ بالکل بے فائدہ چیز نہ تو خریدی جا سکتی ہے اور نہ ہی بیچی جا سکتی ہے،لہٰذا مذکورہ ایپ یعنی Hmester Kombatکے کوائنز یا ٹوکن کی خرید وفروخت جائز نہیں ہے۔
بالفرض آپ کے سوال کے مطابق اگر مذکورہ ایپ یعنی Hmester Kombat میں ویڈیو دیکھنے کا کام ہو اور اس پر اجرت دی جاتی ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ ویڈیوز دیکھنے کا کام اجارہ (ملازمت) کا فعل ہے، جس میں ویڈیو دیکھنے والے کو ویڈیودیکھنے کی اجرت دی جاتی ہے،جبکہ یہ کوئی ایسی منفعت نہیں جو اصلاً مقصود ہو اور شرعاً اس کی اجرت لی جا سکے، اس کے برعکس یہ کام جعل سازی کے لیے اکثر استعمال ہوتا ہے، مثلاً کمپنیاں یہ کام اس لیے کرواتی ہیں کہ ان کی مصنوعات کی فروخت میں اضافہ ہو سکے،جبکہ یہاں کسی کمپنی کو یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس کی پراڈکٹ یا ایپلیکیشن تک اتنے لوگوں کی رسائی ہے حالانکہ وہ لوگ اپنے معاوضے کے لیے ویڈیوز دیکھ رہے ہوتے ہیں،اسی طرح یوٹیوب چینل پرمصنوعی طریقےسے ویورز لا کر یو ٹیوب، گوگل ایڈسینس اور ویڈیوز دینے والی کمپنیوں کو بھی دھوکہ دیا جاتا ہے، لہٰذا شرعاً یہ کام کرنا اور اس کی اجرت لینا درست نہیں ہے۔
مذکورہ تفصیل کے مطابق آپ کے سوال کےجواب کا خلا صہ یہ ہے کہ اگر مذکورہ ایپ یعنی Hmester Kombat اپنے صارفین کو ویڈیوز دیکھنے پرعوض میں پوائنٹس یا کوائنز دیتی ہے،جسےبعد میں صارف کسی بھی ملک کی کرنسی میں تبدیل کرکے اسے استعمال کرتا ہے،تو اجرت کے طور پر یہ عوض لینا جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
قال الحصكفي ؒ: "وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية."
علق عليه ابن عابدين ؒ: "(قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية، وشمل ما يقصد ولو لغيره لما سيأتي عن البحر من جواز استئجار الأرض مقيلا ومراحا، فإن مقصوده الاستئجار للزراعة مثلا، ويذكر ذلك حيلة للزومها إذا لم يمكن زرعها تأمل."
(الدر المختار و حاشية ابن عابدين، 6/4، ط: دار الفكر)
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۱۶.ربیع الثانی۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


