| 85043 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص کی ملکیت میں شہر اور دیہات میں مختلف مقا مات پر زرعی اور رہائشی اراضی موجود ہے ،جسے وہ شخص اپنی زندگی میں ہی اپنے لواحقین میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔یہ تقسیم وراثت کہلائے گی یا ہبہ؟اگر یہ ہبہ کہلائے گی تو وراثت کے اصول کے مطابق تقسیم ضروری ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کوئی اپنی زندگی میں ہی اولاد پر جائیداد تقسیم کرنا چاہتا ہے تو یہ تقسیم ہبہ کہلائے گی ۔جب اولاد کو کوئی چیز ہبہ کی جائے تو اس میں عدل وانصاف کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہے، لہذا زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کی صورت میں بہتر یہ ہے کہ بیٹے اور بیٹیوں کو برابر حصہ دیا جائے، البتہ اگر وراثت کے اصول کے مطابق بیٹی کو بیٹے کی بنسبت آدھا حصہ دیا جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے، نیزکسی بیٹے یا بیٹی کو اس کی دینداری، خدمت اور معاشی تنگی کے پیشِ نظر کچھ زیادہ دے دیا جائے تو اس کی بھی اجازت ہے، بشرطیکہ دیگر ورثاء کو محروم کرنے کا ارادہ نہ ہو۔
حوالہ جات
الموسوعة الفقهية الكويتية (11/ 359):
«التسوية بين الأولاد في العطية
اختلف العلماء في وجوب التسوية بين الأولاد في العطية.
فذهب الحنفية والمالكية والشافعية إلى أن التسوية بينهم في العطايا مستحبة، وليست واجبة ….
وذهب الحنابلة، وأبو يوسف من الحنفية، وهو قول ابن المبارك، وطاوس، وهو رواية عن الإمام مالك رحمه الله: إلى وجوب التسوية بين الأولاد في الهبة. فإن خص بعضهم بعطية، أو فاضل بينهم فيها أثم…..
واختلفوا كذلك في معنى التسوية بين الذكر والأنثى من الأولاد. فذهب جمهور الفقهاء إلى أن معنى التسوية بين الذكر والأنثى من الأولاد: العدل بينهم في العطية بدون تفضيل؛ لأن الأحاديث الواردة في ذلك لم تفرق بين الذكر والأنثى.
وذهب الحنابلة، والإمام محمد بن الحسن من الحنفية، وهو قول مرجوح عند الشافعية إلى أن المشروع في عطية الأولاد القسمة بينهم على قدر ميراثهم: أي للذكر مثل حظ الأنثيين
محمد سعد ذاكر
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
16/ربیع الثانی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعد ذاکر بن ذاکر حسین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


