03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حقیقی اورسوتیلے والدمیں سے کون بچی کا حق دارہے؟
85040جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ایک ایسی لڑکی جو میرے بھائی کے ہاں بھابھی کےبطن سےپیدا ہوئی، پھر اس کی ماں یعنی میری بھابھی بھائی کے نکاح میں ہوتے ہوئے ایک اور شخص کے ساتھ بھاگ گئی اور عدالت سے خلع لے کر اس شخص کے ساتھ نکاح کیا  اور بیٹی کو بھی اپنے ساتھ لے گئی اور اپنے پاس رکھا،ہم نے اس کو حاصل کرنے کی کافی کوشش کی مگرکامیاب نہیں ہوسکے تھے،ابھی دو ہفتے پہلے اس کی ماں کا انتقال ہوگیا، اب اس کا سوتیلا والدجو اس کی ماں کو بھگاکرلیکر گیاتھا دعویٰ کر رہا ہے کہ لڑکی میری ہے اور اسے لے کر فرار ہوگیا ہے،جبکہ لڑکی بھابھی کےبطن سے میرے بھائی کے نکاح میں ہوتے ہوئے پیداہوئی تھی اوراس کو سوتیلاوالد بھی مانتاہے اوراس کے کاغذات بھی ہمارے پاس ہے،لڑکی کی عمراب 12 سال ہے،سوتیلےوالدکےلڑکی کو بھگاکر لیجانے کی صدمہ کی وجہ سے حقیقی والد کا دماغی توازن بھی بگڑ گیا ہے۔ توبرائے کرم  قرآن، حدیث اور پاکستانی قانون کی رو سے ہمیں بتائیں کہ اس لڑکی پر کس کا حق ہے: حقیقی والد کا، جس کے ہاں وہ پیدا ہوئی تھی، یا سوتیلے والد کاجس کے پاس اب وہ ہے اوروالدہ اس کی فوت ہوگئی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اسلامی شریعت اور پاکستانی قانون دونوں کے مطابق، بچی پر حق اس کے حقیقی والد کا ہے، نہ کہ سوتیلے والد کا۔ سوتیلا والد بچی پر شرعی یا قانونی حق نہیں رکھتا۔ لہٰذا، اگر سوتیلا والد بچی کو زبردستی لے کر فرار ہو گیا ہے، تو فوری طور پر قانونی چارہ جوئی کی جائے اور عدالت میں بچی کی واپسی اور کسٹڈی کے لیے درخواست دائر کی جائے۔

اسلام تو حقیقی والد کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کرنے کو بھی گوارا نہیں کرتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا صریح اور واضح ارشاد ہے کہ "انہیں (منہ بولے بیٹوں کو) ان کے والد کے نام سے ہی پکارو۔" لہٰذا، اسلام ایسی بچی کو جس کی ماں کی غیر محرم سے شادی ہوئی ہو اور پھر وہ ماں فوت بھی ہو گئی ہو، قطعا سوتیلے والد کے سپرد کرنے کا حکم نہیں دیتا۔

حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بچی حقیقی والد کا حق ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر (یعنی نکاح میں) پیدا ہوا، اور زناکار کے لیے پتھر ہیں" (یعنی اسے کوئی حق نہیں)۔ ﴿صحیح بخاری، کتاب الفرائض، حدیث نمبر 2053﴾

اس حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بچی کا حقیقی والد وہی ہے جس کے نکاح میں وہ پیدا ہوئی ہے، سوتیلا والد اس بچی پر شرعی طور پر کوئی حق نہیں رکھتا ۔

لہٰذا مسئولہ صورت میں شرعاًسوتیلے والد پر واجب ہے کہ فوراً بچی کو حقیقی والد کے سپرد کرے اور اپنے کیے پر صدقِ دل سے توبہ اور استغفار کرے اور حقیقی والد سے معافی بھی مانگے۔

پاکستانی قانون کی روشنی میں بھی یہ بچی حقیقی والد کی ہوگی،اوراسی کی طرف منسوب ہوگی([1])اگر سوتیلا والد بچی کو اپنے ساتھ لے کر فرار ہوگیا ہے، تو یہ غیر قانونی فعل ہے([2])۔ بلکہ اگر سوتیلا والد بچی کو بغیر قانونی اجازت کے اپنے ساتھ لے کر فرار ہو گیا ہے، تو یہ اغواء (kidnapping) کے زمرے میں آتا ہے، اور پاکستانی قانون کے تحت اس پر قانونی کارروائی ہو سکتی ہے([3]

قال اللہ تعالی:

وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ (4) ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا (الأحزاب: 4، 5)

وفی تفسیر الوجيز للواحدي (ص: 858) :

{ادعوهم لآبائهم} أي: انسبوهم إلى الذين ولدوهم {هو أقسط عند الله} أعدل عند الله {فإن لم تعلموا آباءهم} من هم {فإخوانكم في الدين} أي: فهم إخوانكم في الدين {ومواليكم} وبنو عمكم وقيل: أولياؤكم في الدين {وليس عليكم جناح فيما أخطأتم به} وهو أن يقول لغير ابنه: يا بني من غير تعمد أن يجريه مجرى الولد في الميراث وهو قوله: {ولكن ما تعمدت قلوبكم} يعني: ولكن الجناح في الذي تعمدت قلوبكم.

مسند البزار كاملا من 1-14 مفهرسا - (ج 2 / ص 45)

عن أبي عثمان ، قال : حدث أبو بكرة رضي الله عنه حديثا ، قلت : سمعته ، قال : سمعته أذناي ، ووعاه قلبي من محمد صلى الله عليه وسلم ، قال من انتمى إلى غير أبيه في الإسلام وهو يعلم أنه غير أبيه ، فالجنة عليه حرام.

وفی صحیح البخاری(رقم الحدیث 2053)

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:"الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ." (صحیح بخاری، کتاب الفرائض، حدیث 2053)

  وفی الھدایة:

(وإذا أرادت المطلقة أن تخرج بولدها من المصر فليس لها ذلك) لما فيه من الإضرار بالأب." (هداية، 2/436 ط: المكتبة العلمية)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (3 / 568)

(بلغت الجارية مبلغ النساء، إن بكرا ضمها الأب إلى نفسه) إلا إذا دخلت في السن واجتمع لها رأي فتسكن حيث أحبت حيث لا خوف عليها (وإن ثيبا لا) يضمها (إلا إذا لم تكن مأمونة على نفسها) فللأب والجد ولاية الضم لا لغيرهما كما في الابتداء بحر عن الظهيرية.

الفتاوى الهندية - (1 / 541)

أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافيوإنما يبطل حق الحضانة لهؤلاء النسوة بالتزوج إذا تزوجن بأجنبي، فإن تزوجن بذي رحم محرم من الصغير كالجدة إذا كان زوجها جدا لصغير أو الأم إذا تزوجت بعم الصغير لا يبطل حقها كذا في فتاوى قاضي خان.

وعن أبي بكرة - رضي الله عنه - قال : قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : ( ألا أنبئكم بأكبر الكبائر ؟) قلنا : بلى يا رسول الله . قال : ( الإشراك بالله ، وعقوق الوالدين ) وكان متكئا فجلس ، فقال : ( ألا وقول الزور) فما زال يكررها حتى قلنا : ليته سكت.


([1]  ) پاکستان پینل کوڈ (PPC):دفعہ 468 اور471

([2]  ) "گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ 1890"

([3] ) پاکستانی پینل کوڈ 1860 (Pakistan Penal Code 1860)  سیکشن 359

حوالہ جات

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

17/04/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب