| 85094 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
وراثت کے حوالے سے مسئلہ پوچھنا تھا کہ والد صاحب کی وفات کے بعد تقریبا اب 20 سال گزر چکے ہیں تو بھائیوں نے جو اس کی میراث میں ایک گھر تھا وہ تقسیم کیا، جس میں اب تک دو بھائی مسلسل رہ رہے تھے اور دو بھائی اپنے الگ گھروں میں شفٹ ہو گئے ہیں تو اس میں بہنوں کا حصہ بھی نکالا ہے، لیکن ابھی تک دیا نہیں ہے تو اس میں ایک بہن مطالبہ کر رہی ہے اب اس کی مندرجہ ذیل صورت حال ہے:
1.بہن کی اولاد مطالبہ کرے اور بہن مطالبہ نہ کرےیا بہن اپنی اولاد کو کہے کہ آپ میرا حق وصول کریں تو اس کا کیا حکم ہے؟
2. یہ بھی بتائیں کہ بہنوں کو حصہ دینے کی صورت میں کون سی قیمت معتبر ہو گی؟ موجودہ یا والد صاحب کی وفات کے وقت کی؟
وضاحت: بہنوں کو کہا گیا ہے کہ آپ کو حصہ دیں گے، جتنا بن رہا ہے،مطالبہ کرنے میں دونوں صورتیں ممکن ہیں کیونکہ بھائی جب بہن سے کہتے ہیں کہ آپ نے بیٹوں کو کہا ہے تو وہ کہتی ہے کہ میں نے نہیں کہا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1،2۔سوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال کے مطابق اگر صرف بہنوں کے حصوں کی تعیین کی گئی تھی کہ ہر بہن کا اتنا حصہ ہے اور باقاعدہ گھر تقسیم کر کے ان کو حصہ نہیں دیا گیا تھا تو اس صورت میں وراثتی گھر میں ان کا شرعی حصہ ابھی تک موجود ہے، جس کی ادائیگی بھائیوں کے ذمہ لازم ہے اور مذکورہ گھر کی قیمت لگانے میں موجودہ قیمت کا اعتبار ہو گا، والد صاحب کی وفات کے وقت کا اعتبار نہیں ہو گا۔
باقی بہن کا خود حصہ مانگنا یا اپنی اولاد کو اپنے حصہ کے مطالبے کا وکیل بنانا دونوں طرح صحیح ہے، کیونکہ بہن اپنا حصہ طلب کرنے میں شرعا حق رکھتی ہے اور آدمی اپنے حق کی وصولی خود بھی کر سکتا ہے اور اپنی اولاد وغیرہ کو بھی اس کی وصولی کا وکیل بنا سکتا ہے۔البتہ اگر بہن نے بیٹوں کو اپنا حصہ طلب کرنے کا نہیں کہا تو اس صورت میں اولاد کو اپنی والدہ کا حصہ مانگنے کی اجازت نہیں ہے۔
حوالہ جات
تحفة الفقهاء (3/ 5) دار الكتب العلمية، بيروت:
الشركة نوعان: شركة أملاك وشركة عقود. شركة الأملاك على ضربين: أحدهما ما كان بفعلهما مثل أن يشتريا أو يوهب لهما أو يوصى لهما فيقبلاوالآخر بغير فعلهما وهو أن يرثاوالحكم في الفصلين واحد وهو أن الملك مشترك بينهماوكل واحد منهما في نصيب شريكه كالأجنبي، لا يجوز له التصرف فيه إلا بإذنه.
الاختيار لتعليل المختار (3/ 12) دار الكتب العلمية – بيروت:
أما شركة الأملاك، أما الجبرية بأن يختلط مالان لرجلين اختلاطا لا يمكن التمييز بينهما أو يرثان مالا. والاختيارية أن يشتريا عينا أو يتهبا أو يوصى لهما فيقبلان أو يستوليا على مال أو يخلطا مالهما، وفي جميع ذلك كل واحد منهما أجنبي في نصيب الآخر، لا يتصرف فيه إلا بإذنه لعدم إذنه له فيه، ويجوز بيع نصيبه من شريكه في جميع الوجوه.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
20/ربیع الثانی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


