| 85096 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
شریعت کی روشنی میں وراثت کے حوالے سے مکمل آگاہی فرما دیں یعنی اس کے مکمل اصول ضوابط بیان فرمادیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
وراثت کی تقسیم سے متعلق درج ذیل اصولوں کو مدِنظر رکھنا ضروری ہے:
- کسی بھی مورث (وفات پانے والا شخص، خواہ وہ والدین ہوں یا کوئی بہن بھائی وغیرہ)کی وفات کے بعداس کے مال کے ساتھ بالترتیب چارحقوق متعلق ہوتے ہیں: میت کی تجہیزوتکفین، اس کے ذمہ واجب الاداء قرض اداکرنا،اس کی طرف سے کی گئی جائز وصیت پر عمل کرنا اورپھر بقیہ ترکہ کو ورثاء میں ان کے حق شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کرنا۔
- وراثت کی تقسیم شرعی حق ہے، بغیر کسی شرعی عذر کے تقسیمِ وراثت میں تاخیرکرنا جائز نہیں، اس میں ورثاء کی حق تلفی ہوتی ہے اور ایسے موقع پر بعض ورثاء خصوصا بہنیں رشتہ داری کےلحاظ کی وجہ سے خاموش رہتی ہیں، قطع رحمی کے ڈر سے اپنے حصہ کا مطالبہ کرنے سے گھبراتی ہیں، جس کی وجہ سے بھائی عرصہ دراز تک ان کا حصہ بے فکر ہو کر استعمال کرتے رہتے ہیں، معاشرے میں رائج یہ انتہائی غلط اور خلافِ شریعت رویہ ہے، جس کو ترک کرنا ضروری ہے، اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی بہن اپنے بھائی کو قرض دے اور پھر رشتہ داری کے لحاظ کی وجہ سے زبان سے مطالبہ نہ کرے تو اس کا یہ ہرگزمطلب نہیں کہ بہن نے معاف کر دیا، بلکہ اس کے ذمہ لازم ہے کہ جلد ازجلد بہن کا قرض ادا کرے۔
- کسی بہن یا بھائی کے اپنا حصہ صرف زبان سے معاف کر دینے سے وراثتی حصہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ تقسیم کر کے باقاعدہ اس کو قبضہ دینا ضروری ہے، اس کے بعد وہ وارث اپنی مرضی سے کسی اور وارث کو اپنا حصہ ملکیتا دیدے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
- اگر ورثاء میں کوئی نابالغ وارث موجود ہو تو اس کا حصہ اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا ہرگز جائز نہیں، اگرچہ وہ اجازت بھی دیدے، کیونکہ نابالغ کی اجازت کا اعتبار نہیں، البتہ اس کا حصہ اس کے نان ونفقہ کےلیے خرچ کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ جات
الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 299) دار الكتب العلمية، بيروت:
الثانية: لا يدخل في ملك الإنسان شيء بغير اختياره إلا الإرث اتفاقا.
السراجية في الميراث (1/ 11) مكتبة المدينة، كراتشي – باكستان:
قال علماؤنا رحمهم الله تعالى تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبة الأول: يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير ولا تقتير، ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله، ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين، ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب والسنة وإجماع الأمة.
الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 272) دار الكتب العلمية، بيروت:
ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لا يقبله، وبيان أن الساقط لا يعود:
لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك، والحق يبطل به حتى لو أن أحدا من الغانمين قال قبل القسمة: تركت حقي بطل حقه.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
20/ربیع الثانی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


