03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زکوۃ کی رقم سے مریضوں کا علاج کرانا اور ہسپتال کے لیے مشینری وغیرہ خریدنا
85137زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

فلاحی (وقف) ہسپتال جو عمومی مریضوں کے علاج معالجہ کے ساتھ ساتھ مستحقِ زکوۃ مریضوں کو بالکل مفت یا رعایتی نرخ پر علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، سے متعلق درجِ ذیل امور میں شرعی راہنمائی درکار ہے:

(1) مستحقِ زکوۃ مریضوں کی ادویات، لیبارٹری ٹیسٹ، علاج معالجہ وغیرہ کے اخراجات زکوۃ فنڈ سے ادا کیے جاسکتے ہیں؟

(2) اگر مستحقِ زکوۃ مریض ہسپتال کو تحریری طور پر اپنا وکیل مقرر کردے اور ہسپتال بطورِ وکیل اس رقم کو صرف کرے تو اس کی شرعی حیثیت، شرائط اور حدودِ کار کیا ہوں گی؟

(3) اسی طرح اگر معطی بھی ادارہ کو با اختیار وکیل بنادے تو ادارہ اپنی مرضی سے رقم میں تصرف کرسکے گا؟

(4) کیا ہسپتال اپنے فلاحی و رفاہی مقاصد، مثلا زمین، عمارت، مشینری اور دیگر آلات کی خریداری زکوۃ کی رقم سے کر سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(1)۔۔۔ جی، مگر اس کے لیے پہلے ان سے اجازت لینا ضروری ہے، اگر انہیں پہلے سے نہ بتایا گیا اور زکوۃ کی رقم سے ان کی فیسز ادا کی گئی تو زکوۃ ادا نہیں ہوگی، البتہ ادویات خرید کر ان کو دینے سے بہر حال زکوۃ ادا ہوجائے گی، اگرچہ انہیں نہ بتایا جائے کہ یہ زکوۃ کی رقم سے خریدی گئی ہیں۔  

مستحقِ زکوۃ مریضوں کے لیے رعایتی نرخ مقرر کرنے کی صورت میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہوگا کہ اصل قیمت ان کے لیے اتنی ہی رکھی جائے جتنی ہسپتال (زکوۃ فنڈ اور مستحقِ زکوۃ مریض سے)مجموعی طور پر لینا چاہتا ہے، پھر ان سے کہا جائے کہ اس میں سے اتنی رقم آپ اپنی جیب سے ادا کریں گے اور اتنی ہم آپ کی اجازت سے آپ کے لیے وصول کردہ زکوۃ سے ادا کریں گے، اگر ان کے لیے اصل نرخ ہی کم رکھا گیا تو پھر باقی رقم زکوۃ فنڈ سے رقم لینا جائز نہیں ہوگا؛ کیونکہ اس صورت میں اضافی رقم ان پر لازم ہی نہیں ہوتی۔

(2)۔۔۔ اگر مستحقِ زکوۃ مریض ہسپتال انتظامیہ کو صرف زکوۃ وصول کرنے اور ان کی ضروریات  میں خرچ کرنے کا وکیل بنائیں تو ہسپتال انتظامیہ ان کے لیے زکوۃ وصول کر کے براہِ راست انہی پر خرچ کرنے کی پابند ہوگی، لہٰذا وہ مریضوں کے ذمے واجب الاداء فیسز اور ادویات کی قیمتوں کی ادائیگی زکوۃ کی رقم سے کرسکتی ہے، اسی طرح ان کے لیے دوا یا غذا خرید کر ان کو دے سکتی ہے، لیکن ہسپتال کے دیگر مصالح اور اخراجات میں اس رقم کو خرچ نہیں کرسکتی۔

(3)۔۔۔ زکوۃ کی ادائیگی کی ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ کسی فقیر کی ملکیت میں دی جائے، چاہے براہِ راست اس کے قبضے میں دی جائے یا اس کا وکیل اس کی اجازت سے وصول کر کے اس پر خرچ کرے یا اس کے واجب الاداء دیون کی ادائیگی میں لگادے، کسی ایسے کام میں زکوۃ کی رقم لگانے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی جس میں مستحقِ زکوۃ شخص کو مالک نہ بنایا جاتا ہو۔

لہٰذا سوال میں معطی کی طرف سے ہسپتال انتظامیہ کو "با اختیار وکیل" بنانے سے اگر مراد یہ ہے کہ انتظامیہ جس مستحق مریض پر چاہے زکوۃ کی رقم خرچ کرے تو یہ ٹھیک ہے، لیکن اگر اس سے مراد یہ ہے کہ انتظامیہ چاہے تو زکوہ کی رقم مستحقِ زکوۃ مریضوں پر خرچ کرے اور چاہے تو اس سے ہسپتال کے دیگر اخراجات پورے کرے تو یہ درست نہیں، اگر انتظامیہ زکوۃ کی رقم مستحقِ زکوۃ کو مالک بنائے بغیر ہسپتال کے دیگر کاموں میں خرچ کرے گی تو زکوۃ ادا نہیں ہوگی، اگرچہ معطی کی طرف سے اس کی اجازت ہو۔

(4)۔۔۔ نہیں، کسی مستحقِ زکوۃ کو مالک بنائے بغیر زکوۃ کی رقم ہسپتال کے مذکورہ مقاصد میں خرچ کرنا جائز نہیں، ان ضروریات کو ہسپتال کی آمدن اور عطیات سے پورا کیا جائے۔

البتہ اگر زکوۃ کی رقم مستحقِ زکوۃ مریضوں کو دی جائے، اس کے بعد وہ وہی رقم اپنی دلی رضامندی سے ہسپتال کو مذکورہ مقاصد کے لیے دیں تو یہ ان کی طرف سے عطیہ ہوگا جس کو ان کی ہدایات کے مطابق خرچ کرنا درست ہوگا۔ یہ طریقہ بھی شرعا تب معتبر ہوگا جب مستحقِ زکوۃ مریض زکوۃ کی رقم واپس کرنے پر مجبور نہ ہوں، بلکہ اگر وہ اس کو اپنے پاس رکھنا چاہیں تو رکھ سکیں، رقم واپس نہ کرنے پر ان کو کسی قسم کے دباؤ یا ناگواری کا سامنا نہ کرنا پڑتا ہو۔

اسی طرح اگر مستحقِ زکوۃ مریض ہسپتال انتظامیہ کو زکوۃ وصول کرنے اور ان پر خرچ کرنے کے ساتھ ادارے کی ملکیت میں دینے کا بھی وکیل بنادیں اور انتظامیہ اس توکیل کے مطابق زکوۃ کی رقم ادارے کی ملکیت میں دیدے تو بوقتِ حاجت اس سے مشینری وغیرہ ضروری آلات خریدنے کی گنجائش ہوگی، اگرچہ بہتر پھر بھی یہی ہے کہ یہ حاجات ہسپتال کی اپنی آمدن اور عطیات سے پوری کی جائیں اور یہ رقم براہِ راست مریضوں پر خرچ کی جائیں۔

مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ ان آلات کی خریداری میں ادارے کی ملکیت میں زکوۃ اور صدقاتِ واجبہ کی دی گئی رقوم سے اتنی ہی رقم خرچ کی جائے جتنا وہاں مستحقِ زکوۃ مریضوں کا تناسب ہو، غیر مستحقِ زکوۃ مریضوں کے تناسب سے رقم ہسپتال کی آمدن اور عطیات سے لگانے کا اہتمام کیا جائے؛ کیونکہ یہ آلات مستحقِ زکوۃ اور غیر مستحقِ زکوۃ ہر قسم کے مریضوں کے لیے استعمال ہوں گے۔

حوالہ جات

الدر المختار (2/ 344- 356):

ويشترط أن يكون الصرف ( تمليكا ) لا إباحة كما مر.

حاشية ابن عابدين (2/ 344):

قوله (تمليكا) فلا يكفي فيها الإطعام إلا بطريق التمليك، ولو أطعمه عنده ناويا الزكاة لاتكفي، ط.

تحفة الفقهاء (1/ 307):

وأما إذا قضى دين حي فقير، فإذا قضى بغير أمره يكون متبرعا ولا يقع عن الزكاة، وإن قضى بأمره فإنه يقع عن الزكاة ويصير وكيلا في قبض الصدقة عن الفقير والصرف إلى قضاء دينه، فقد وجد التمليك من الفقير فيجوز.

البحر الرائق (2/ 261):

قوله ( وبناء مسجد وتكفين ميت وقضاء دينه وشراءقن يعتق ) بالجر بالعطف على ذمي والضمير في دينه للميت وعدم الجواز لانعدام التمليك الذي هو الركن في الأربعة ... والحيلة في الجواز في هذه الأربعة أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير، ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه، فيكون لصاحب المال ثواب الزكاة وللفقير ثواب هذه القرب،  كذا في المحيط.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

        22/ربیع الثانی/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب