03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کے مطالبہ پر علیحدہ رہائش دینے کا حکم
85138نان نفقہ کے مسائلبیوی کا نان نفقہ اور سکنہ ) رہائش (کے مسائل

سوال

میری بیوی میری ماں کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی ہماری شادی کو آٹھ سال ہو گئے ہیں اب وہ ناراض ہو کے چلی گئی ہے کہتی ہے کہ مجھے الگ گھر میں رکھو یا فارغ کرو میری رہنمای فرمائے شکریہ

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 بیوی کو علیحدہ رہائش  دینا شوہر پر واجب ہے ۔علیحدہ رہائش دینے  کا مطلب ہےکہ گھر کا ایسا کمرہ ،غسل خانہ اور کچن بیوی کو دینا جہاں  کسی اور کا عمل دخل نہ ہو  ،صحن اگرچہ مشترکہ ہو ، یہ سب دینے سے واجب ادا ہو جاتا ہے ۔ بیوی کا اس سے زائد کا مطالبہ پورا کرنا شوہر کے ذمہ ضروری نہیں ۔البتہ اگر شوہر مالدار ہے اور بیوی کو علیحدہ گھر میں رہائش دے سکتا ہے تو اسے علیحدہ گھر میں رہائش دینی چاہیے۔  

مذکورہ صورت میں بیوی اپنی ساس کے ساتھ ایک گھر میں نہیں رہنا   چاہتی اور علیحدہ گھر کا مطالبہ کر رہی ہے۔اگر شوہر  کے مالی حالات اچھے ہیں اور وہ یہ مطالبہ پورا کرسکتا ہے توموجودہ حالات کے مطابق مناسب ہے کہ بیوی کو علیحدہ گھر کا بندوبست کر دے  ۔اور اگر شوہر اتنا مالدار نہیں ہے کہ دو گھروں کا خرچ برداشت کرسکے تو  صرف ایک کمرہ جس کے ساتھ باورچی خانہ اور بیت الخلاء ہو وہ دینا کافی ہے ۔اس سے زائد کامطالبہ کرنا بیوی کے لئے جائز نہیں ۔ مزید یہ  کہ  اپنے بڑوں کو ساتھ ملا کر ساس بہو کی صلح صفائی کی کوشش کی جائے ۔

حوالہ جات

قال الحصکفی رحمه الله تعالى: (وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله) سوى طفله الذي لا يفهم الجماع ،وأمته وأم ولده (وأهلها) ولو ولدها من غيره (بقدر حالهما) كطعام وكسوة وبيت منفرد من دار له غلق  (رد المحتار :3/ 599)

قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ تعالی :أما وجوبها فقد دل عليه الكتاب والسنة والإجماع والمعقول أما الكتاب العزيز فقوله عز وجل: {أسكنوهن من حيث سكنتم من وجدكم} [الطلاق: 6] :أي على قدر ما يجده أحدكم من السعة والمقدرة والأمر بالإسكان أمر بالإنفاق؛ لأنها لا تصل إلى النفقة إلا بالخروج والاكتساب وفي حرف عبد الله بن مسعود رضي الله عنه:" أسكنوهن من حيث سكنتم وأنفقوا عليهن من وجدكم" وهو نص وقوله عز وجل {ولا تضاروهن لتضيقوا عليهن} [الطلاق: 6] أي: لا تضاروهن في الإنفاق عليهن فتضيقوا عليهن النفقة فيخرجن ،أو لا تضاروهن في المسكن فتدخلوا عليهن من غير استئذان فتضيقوا عليهن المسكن فيخرجن. (  بدائع الصنائع :4/ 15)

قال في الفتاوى الهندية: تجب السكنى لها عليه في بيت خال عن أهله وأهلها إلا أن تختار ذلك كذا في العيني شرح الكنز  .  ( الفتاوى الهندية :1/6 55)

قال العلامۃ الشامی :ففي الشريفة ذات اليسار لا بد من إفرادها في دار، ومتوسط الحال يكفيها بيت واحد من دار. ومفهومه أن من كانت من ذوات الإعسار يكفيها بيت ولو مع أحمائها وضرتها كأكثر الأعراب وأهل القرى وفقراء المدن الذين يسكنون في الأحواش والربوع، وهذا التفصيل هو الموافق لما مر من أن المسكن يعتبر بقدر حالهما، ولقوله تعالى : {أسكنوهن من حيث سكنتم من وجدكم} [الطلاق: 6]   .(رد المحتار :3/ 601)

قلت: وفي البدائع: ولو أراد أن يسكنها مع ضرتها أو مع أحمائها كأمه وأخته وبنته فأبت ،فعليه أن يسكنها في منزل منفرد؛ لأن إباءها دليل الأذى والضرر ،ولأنه محتاج إلى جماعها ومعاشرتها في أي وقت يتفق لا يمكن ذلك مع ثالث؛ حتى لو كان في الدار بيوت وجعل لبيتها غلقا على حدة قالوا ليس لها أن تطالبه بآخر. اهـ فهذا صريح في أن المعتبر عدم وجدان أحد في البيت لا في الدار. (رد المحتار :3/ 601)

 حماد الرحمن

 دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

۲۳   ربیع الثانی ۱۴۴۶ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حماد الرحمن بن سیف الرحمن

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب