03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاقوں کاحکم
85212طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

جب میری بڑی بیٹی چند ماہ کی تھی تو میرے شوہر نے مجھے کسی بات پر کہا کہ "اگر تم نے کچھ بولا تو تمہیں طلاق ہو جائے گی۔" میں ڈر گئی، دو تین گھنٹے روتی رہی، گھر کے کام وغیرہ کرتی رہی۔ پھر شوہر سے پوچھا کہ "طلاق تو نہیں ہوئی؟" جواب میں انھوں نے کہا کہ "تم نے بات کرلی، اب ایک طلاق  ہوگئی،پھر رجوع کر لیا،اس بات کو 18 سال ہوگئے ہیں ۔

پھرجب میں نے انٹر کا فارم بھرا تو شوہر نے کہا کہ "اگر آگے پڑھا تو طلاق ہوگی۔" کچھ سالوں بعد انہوں نے خود میرا فارم بھروایا اور پڑھائی مکمل کروائی۔ اب پتہ نہیں کہ طلاق ہوئی کہ نہیں ؟(یہ تقریباً 13 سال پہلے کی بات ہے)۔

اب کچھ دن پہلے کسی بات پر انھوں نے کہا کہ "میں نے تمہیں دوسری طلاق ابھی دے دی،" پھر دوبارہ کہا کہ "دوسری طلاق ابھی دے دی۔" یہ بتائیں کہ طلاق ہوئی یا نہیں۔ اب وہ میرے محرم ہیں کہ نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں تین طلاق واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو گئی ہے۔ موجودہ حالت میں حلالہ کے بغیر آپ میاں بیوی میں نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی نکاح۔ لہذا عدت (تین حیض) گزار کر آپ آزاد ہوں گی، اس کے بعد جہاں چاہیں شادی کر سکتی ہیں۔

پہلی طلاق 18 سال پہلے اس وقت ہوئی جب شوہر نے آپ سے کہا: "اگر تم نے کچھ بولا تو تمہیں طلاق ہو جائے گی"، اور اس کے آپ  بولی۔ دوسری طلاق 13 سال پہلے اس وقت ہوئی جب شوہر نے کہا: "اگر آگے پڑھا تو طلاق ہوگی" اور پھر خود فارم بھر کر آپ کی پڑھائی مکمل کروائی، جبکہ تیسری اور آخری طلاق کچھ دن پہلے شوہر کے قول "میں نے تمہیں دوسری طلاق ابھی دے دی" سے ہوئی۔ لہذا مجموعی اعتبار سے تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں۔

حلالہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے تو عدت گزرنے کے بعد وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے، اور دوسرا شوہر اس کے ساتھ جماع بھی کرے۔ اس کے بعد اگر دوسرا شوہر انتقال کر جائے یا طلاق دے دے، تو وہ عورت عدت گزارنے کے بعد پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جاتی ہے۔

حوالہ جات

وفی الفتاوى الهندية  (1 / 420):

"إذا أضاف الطلاق  .... إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقًا".الفصل الثالث في تعليق الطلاق،  ج:1، ص:420، ط:مكتبه رشيديه.

وفی الفتاوى الهندية (2/ 52):

وأما الحلف بالطلاق، والعتاق، وما أشبه ذلك فما يكون على أمر في المستقبل فهو كاليمين المعقود.

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (2/ 203)

 (وإن حلف لا يكلم فلانا فكلمه وهو بحيث يسمع إلا أنه نائم حنث) لأنه قد كلمه ووصل إلى سمعه إلا أنه لم يفهم لنومه كما لو كلمه وهو غافل وكذا إذا ناداه وهو بحيث يسمع إلا أنه لم يفهم لغفلته وكذا لو دق عليه الباب فقال الحالف: من هذا أو أنت فإنه يحنث لأنه مكلم له ولو ناداه المحلوف عليه فقال له: لبيك حنث كذا في النهاية.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (3/ 120)

وفعل المحلوف عليه لا يختلف بين أن يكون مكرها أو طائعا على ما ذكرناه في أول الكتاب.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (2/ 226)

(ولا يملك الرجوع) أي لا يملك الزوج الرجوع بعد قوله طلقي نفسك حتى لا يصح نهيه؛ لأن فيه معنى اليمين إذ هو تعليق الطلاق بتطليقها واليمين تصرف لازم لا يصح الرجوع عنھا.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 397)

عند وجود التعليق فيما يصح يمتنع الرجوع عن مقتضاه.

فی سنن ابن ماجة (ج 2 / ص 152) :

حدثنا محمد بن رمح . أنبأنا الليث بن سعد ، عن إسحاق بن أبى فروة ،عن أبى الزناد ، عن عامر الشعبى قال :

قلت لفاطمة بنت قيس :حدثينى عن طلاقك . قالت : طلقني زوجي ثلاثا ، وهو خارج إلى اليمن .فأجاز ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم .

الفتاوى الهندية - (ج 10 / ص 196):

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز .أما الإنزال فليس بشرط للإحلال.

أحكام القرآن للجصاص( ج: 5 ص: 415 ):

قوله تعالى: ﴿ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ﴾ منتظم لمعان: منها تحريمها على المطلق

ثلاثا حتى تنكح زوجا غيره، مفيد في شرط ارتفاع التحريم الواقع بالطلاق الثلاث العقد والوطء جميعا; لأن النكاح هو الوطء في الحقيقة، وذكر الزوج يفيد العقد، وهذا من الإيجاز واقتصار على الكناية المفهمة المغنية عن التصريح. وقد وردت عن النبي صلى الله عليه وسلم أخبار مستفيضة في أنها لا تحل للأول حتى يطأها الثاني، منها حديث الزهري عن عروة عن عائشة: أن رفاعة القرظي طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، فجاءت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا نبي الله إنها كانت تحت رفاعة فطلقها آخر ثلاث تطليقات فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير وإنه يا رسول الله ما معه إلا مثل هدبة الثوب فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: "لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك".

وفی الدرالمختار مع ردالمحتار (4/509) :

(كرر لفظ الطلاق وقع الكل.(قوله كرر لفظ الطلاق بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق.

وفی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع :

"أما الصريح فهو اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح، وهو لفظ الطلاق أو التطليق مثل قوله: " أنت طالق " أو " أنت الطلاق، أو طلقتك، أو أنت مطلقة " مشددا، ..وهذه الألفاظ ظاهرة المراد؛ لأنها لا تستعمل إلا في الطلاق عن قيد النكاح فلا يحتاج فيها إلى النية لوقوع الطلاق؛ إذ النية عملها في تعيين المبهم ولا إبهام فيها."(کتاب الطلاق، فصل في النية في أحد نوعي الطلاق وهو الكناية، 3/101، ط: دارالکتب العلمیة)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

24/ربیع الثانی 1446ھھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب